پی سی بی نے حیدرآباد کے تاریخی نیاز کرکٹ اسٹیڈیم کا کنٹرول سنبھال لیا، بڑے پیمانے پر تزئین و آرائش کا فیصلہ

منگل 6 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حیدرآباد کے تاریخی نیاز اسٹیڈیم کی انتظامی نگرانی پاکستان کرکٹ بورڈ نے 20 سال کے لیے سنبھال لی، پی سی بی نے اسٹیڈیم کو عالمی معیار کی سہولیات سے آراستہ کرکے دوبارہ اہم کرکٹ مرکز بنانے کا اعلان کردیا۔

حیدرآباد میں منتقلی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سمیر سید نے کہا کہ شہر کو ملک کی وسیع تر کھیلوں کی سرگرمیوں کا حصہ بنایا جائے گا اور نیاز اسٹیڈیم میں عالمی معیار کی سہولیات متعارف کرائی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: ارباب نیاز اسٹیڈیم کے نام کی تبدیلی، پشاور ہائیکورٹ نے گائیڈ لائنز پر سوال اٹھا دیا

انہوں نے کہا کہ اسٹیڈیم میں فلڈ لائٹس نصب کی جائیں گی جبکہ عالمی معیار کے مطابق تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

پی سی بی فوری طور پر گراؤنڈ اور پچ پر کام شروع کرے گا تاکہ اسٹیڈیم کو اہم ملکی اور بین الاقوامی میچز کے لیے موزوں بنایا جاسکے۔

سمیر سید نے کہا کہ پی سی بی کی کوشش ہوگی کہ پی ایس ایل 12 میں نیاز اسٹیڈیم میں کم از کم ایک میچ کرایا جائے جبکہ پی ایس ایل 13 میں یہاں کئی میچز منعقد کیے جاسکتے ہیں۔

انہوں نے حیدرآباد میں جنوری یا فروری سے علاقائی کرکٹ اکیڈمی قائم کرنے کا بھی اعلان کیا، جہاں نوجوان کرکٹرز کی تربیت کے لیے کوچز اور فزیوتھراپسٹ موجود ہوں گے۔

پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر نے کہا کہ نیاز اسٹیڈیم میں فرسٹ کلاس کرکٹ بھی متعارف کرائی جائے گی، باقاعدگی سے میچز ہونے سے اسٹیڈیم کا ماحول اور اس کی اہمیت دوبارہ بحال ہوگی۔

حیدرآباد کے میئر کاشف شورو نے کہا کہ شہر نے کئی ایسے کرکٹرز پیدا کیے جنہوں نے پاکستان کی نمائندگی کرکے ملک کا نام روشن کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ گراؤنڈ اس حوالے سے خوش قسمت رہا ہے کہ پاکستان یہاں کبھی نہیں ہارا۔ میئر کے مطابق محدود وسائل کے باوجود حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے اسٹیڈیم کی دیکھ بھال اور میچز کے انعقاد کے لیے مسلسل کوششیں کیں۔

یہ بھی پڑھیں: نیشنل بینک کرکٹ اسٹیڈیم کراچی میں شائقین کو ’نیا ویو‘ دینے کا پلان

کاشف شورو نے کہا کہ انشاء اللہ نیاز اسٹیڈیم اپنی سابقہ شان دوبارہ حاصل کرے گا۔

پی سی بی اور حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے درمیان معاہدے کے تحت پی سی بی شہری ادارے کو ماہانہ 10 ہزار روپے کرایہ ادا کرے گا جبکہ میونسپل کارپوریشن کو اسٹیڈیم میں ٹکٹوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 20 فیصد حصہ ملے گا۔

اسٹیڈیم کی ملکیت حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے پاس ہی رہے گی، تاہم پی سی بی کو انتظامی معاملات سمیت تجارتی اور نشریاتی حقوق پر مکمل اختیار حاصل ہوگا۔

معاہدے کے تحت پی سی بی نیاز اسٹیڈیم کو عالمی معیار کے مطابق اپ گریڈ کرے گا تاکہ یہاں بین الاقوامی، فرسٹ کلاس اور پی ایس ایل میچز کا انعقاد ممکن ہوسکے۔

1959 میں قائم ہونے والے نیاز اسٹیڈیم میں تقریباً 15 ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ یہاں 1962 میں فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز ہوا جبکہ -731972 کے سیزن میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان میچ کے ساتھ پہلے ٹیسٹ میچ کی میزبانی کی، جو ڈرا ہوگیا تھا۔

نیاز اسٹیڈیم میں بعد ازاں مزید 4 ٹیسٹ میچز کھیلے گئے، جن میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان کرکٹ تاریخ کا 1000واں ٹیسٹ بھی شامل تھا۔

1987 کے عالمی کپ میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان میچ بھی نیاز اسٹیڈیم میں کھیلا گیا، جس میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی اور اس موقع پر اسٹیڈیم تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا کوئی اسٹیڈیم عالمی معیار کا نہیں، مگر اب کام ہوگا، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی

تاہم سہولیات کی کمی اور کھلاڑیوں کی رہائش سے متعلق مسائل کے باعث نیاز اسٹیڈیم کی بین الاقوامی حیثیت بتدریج متاثر ہوئی اور یہاں آخری ایک روزہ میچ 1997-98کے سیزن میں کھیلا گیا۔

پی سی بی نے 2007 میں اسٹیڈیم کو اپ گریڈ کیا، جس کے نتیجے میں جنوری 2008 میں پاکستان اور زمبابوے کے درمیان ایک روزہ میچ کا انعقاد ممکن ہوا اور حیدرآباد میں ایک دہائی بعد بین الاقوامی کرکٹ واپس آئی۔

نیاز اسٹیڈیم 11 سال تک پی سی بی کے زیر انتظام رہا، تاہم قاسم آباد میونسپل کمیٹی نے 2 اپریل 2018 کو مفاہمتی یادداشت منسوخ کرکے اسٹیڈیم کا انتظام دوبارہ اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp