کیا اے آئی ماڈلز جسمانی خوبصورتی کے غیرحقیقی معیار کو مزید خطرناک بنا رہے ہیں؟

منگل 6 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سوشل میڈیا اور اشتہارات میں مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی تصاویر اور ماڈلز کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے لیکن ماہرین کو خدشہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے خوبصورتی اور جسمانی ساخت کے پہلے سے موجود غیرحقیقی معیار مزید سخت ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ہالی ووڈ کی پہلی اے آئی اداکارہ ٹِلی نارووڈ کا پہلا آڈیشن، ’حسینہ‘ پاس ہوئیں یا فیل؟

سوشل میڈیا پر پہلے ہی فلٹرز، ایڈیٹنگ اور مصنوعی تصاویر لوگوں کو اپنی ظاہری شکل کا دوسروں سے موازنہ کرنے پر مجبور کرتی رہی ہیں تاہم مصنوعی ذہانت نے ایسی تصاویر بنانا مزید آسان کردیا ہے جو بظاہر حقیقی انسانوں کی لگتی ہیں لیکن حقیقت میں ان کا وجود ہی نہیں ہوتا۔

ماہرین کے مطابق خاص طور پر نوجوان ان تصاویر سے متاثر ہوسکتے ہیں، کیونکہ وہ اپنے جسم اور شخصیت کے بارے میں تصور تشکیل دینے کے مرحلے میں ہوتے ہیں۔

’اے آئی خوبصورتی کا ایسا معیار بنا سکتی ہے جو حقیقت میں موجود ہی نہیں‘

کھانے کی بیماری سے صحت یاب ہونے والی ایک نوجوان خاتون نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر اس کی بیماری کے دوران اسے موجودہ دور کی اے آئی ٹیکنالوجی اور اس سے تیار ہونے والا مواد دستیاب ہوتا تو اس کا اثر انتہائی منفی ہوسکتا تھا۔

ان کے مطابق سوشل میڈیا پر اب ایسی مصنوعی تصاویر زیادہ نظر آتی ہیں جن میں خواتین کو غیرمعمولی طور پر پتلا اور ’مثالی‘ دکھایا جاتا ہے۔ ان تصاویر کے نیچے بعض اوقات کم عمر لڑکیوں کے تبصرے بھی نظر آتے ہیں جن میں وہ ایسی جسمانی ساخت حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کرتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ یہ ہے کہ اے آئی سے تیار کردہ جسمانی شکل حقیقی زندگی میں حاصل کرنا ممکن ہی نہیں ہوسکتا لیکن کھانے کی بیماریوں یا جسمانی ساخت کے بارے میں شدید بے چینی کا شکار افراد کے لیے یہ جاننا ہمیشہ کافی نہیں ہوتا کہ تصویر مصنوعی ہے۔

اسی لیے انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی ہر تصویر کو حقیقت نہ سمجھیں اور اس بارے میں سوال ضرور کریں کہ وہ جو کچھ دیکھ رہے ہیں، وہ واقعی ہے بھی یا نہیں۔

جسمانی ساخت کے بارے میں موازنہ کیوں نقصان دہ ہوسکتا ہے؟

ماہرِ نفسیات اور جسمانی ظاہری شکل کے حوالے سے تحقیق کرنے والی ماہرین کے مطابق انسان فطری طور پر اپنا موازنہ دوسروں سے کرتا ہے۔

مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب موازنہ خوبصورتی کے ایک انتہائی محدود معیار سے کیا جائے۔ اگر سوشل میڈیا پر بار بار ایک ہی طرح کے چہرے، جسم، جلد اور بالوں کو ’خوبصورت‘ دکھایا جائے تو بہت سے لوگوں کو محسوس ہوسکتا ہے کہ وہ اس معیار پر پورا نہیں اترتے۔

اس سے اپنی ظاہری شکل کے بارے میں عدم اطمینان، خود اعتمادی میں کمی اور اپنے جسم کے بارے میں منفی سوچ پیدا ہوسکتی ہے۔

مزید پڑھیے: کیا یہ واقعی خاتون ہیں؟ ووگ میں اے آئی ماڈل کی موجودگی نے معیار حسن پر سوالات اٹھا دیے

اے آئی سے تیار کی گئی تصاویر اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں کیونکہ ان میں ایسی خوبیاں شامل کی جاسکتی ہیں جو حقیقی انسانوں میں ایک ساتھ موجود ہونا انتہائی مشکل یا ناممکن ہوں۔

اے آئی تصاویر میں خوبصورتی کا ایک ہی معیار کیوں نظر آتا ہے؟

ماہرین کے مطابق اگر مصنوعی ذہانت کو مخصوص طور پر متنوع اور حقیقی انسانی شکلیں دکھانے کی ہدایت نہ دی جائے تو وہ اپنے تربیتی ڈیٹا میں موجود عام رجحانات کی بنیاد پر تصاویر تیار کرسکتی ہے۔

اس کا نتیجہ یہ ہوسکتا ہے کہ اے آئی بار بار ایک جیسے چہرے، جسمانی خدوخال، جلد یا بالوں والی شخصیات تیار کرے۔

اس صورت میں مختلف رنگت، عمر، جسمانی ساخت، جنس، ثقافتی پس منظر یا منفرد خدوخال رکھنے والے افراد خود کو ان تصاویر میں کم نمائندگی پاتے ہوئے محسوس کرسکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اے آئی کو زیادہ متنوع اور حقیقت سے قریب تصاویر بنانے کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کے مثبت اثرات بھی ہوسکتے ہیں، لیکن اس کے لیے ٹیکنالوجی کو سوچ سمجھ کر استعمال کرنا ضروری ہے۔

بچوں اور نوجوانوں کے لیے خطرہ کیوں زیادہ ہے؟

والدین کے لیے یہ ایک اہم سوال بنتا جارہا ہے کہ بچے اور نوجوان جب مسلسل ایسی تصاویر دیکھیں گے تو ان کے ذہن میں ’اچھے‘ یا ’خوبصورت‘جسم کا تصور کس طرح تشکیل پائے گا۔

بعض والدین پہلے ہی اس بات پر فکر مند ہیں کہ نوجوان سوشل میڈیا پر مشہور افراد اور کھلاڑیوں کی انتہائی فِٹ یا ایڈٹ شدہ تصاویر دیکھ کر اپنا موازنہ ان سے کرتے ہیں۔

اگر ان کے سامنے اے آئی سے تیار کردہ ایسے کردار بھی آنے لگیں جو بظاہر حقیقی انسان ہوں لیکن حقیقت میں موجود ہی نہ ہوں تو یہ موازنہ مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوان ٹیکنالوجی کے بارے میں کافی باخبر ہوسکتے ہیں اور اکثر یہ جان بھی لیتے ہیں کہ کوئی تصویر مصنوعی ہے، لیکن صرف یہ جان لینا ہمیشہ کافی نہیں ہوتا کہ تصویر انسان کی اپنی ظاہری شکل کے بارے میں احساسات کو متاثر نہ کرے۔

اے آئی سے بنی تصویر کو کیسے پہچانیں؟

اے آئی سے تیار کردہ تصاویر کی شناخت پہلے کے مقابلے میں مشکل ہوگئی ہے کیونکہ ٹیکنالوجی تیزی سے بہتر ہورہی ہے۔

تاہم بعض تصاویر میں اب بھی چند نشانیاں دیکھی جاسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر جلد کا غیرمعمولی طور پر ہموار نظر آنا، مسام یا قدرتی داغ دھبوں کا بالکل نہ ہونا، آنکھوں میں معمول سے ہٹ کر تفصیل، بالوں کی ساخت میں عجیب پن یا جسم کے بعض حصوں کا غیرطبعی دکھائی دینا اس بات کی طرف اشارہ کرسکتا ہے کہ تصویر مصنوعی طور پر تیار کی گئی ہے۔

لیکن ماہرین کے مطابق صرف ان علامات پر انحصار نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ اے آئی سے تیار ہونے والی تصاویر مسلسل زیادہ حقیقت سے قریب ہوتی جارہی ہیں۔

ایک آسان سوال خود سے ضرور پوچھیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر کسی تصویر کو دیکھتے ہوئے صرف یہ سوال کافی نہیں کہ ’کیا یہ حقیقی ہے؟‘

اس کے ساتھ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اس تصویر کو دیکھ کر مجھے اپنے بارے میں کیسا محسوس ہورہا ہے؟

اگر کوئی تصویر انسان کو متاثر، خوش یا پُراعتماد محسوس کراتی ہے تو اس کا اثر مختلف ہوسکتا ہے، لیکن اگر بار بار ایسی تصاویر دیکھنے سے اپنے جسم، چہرے یا شخصیت میں کمی محسوس ہونے لگے تو یہ اس بات کا اشارہ ہوسکتا ہے کہ ایسے مواد سے کچھ فاصلہ رکھنا بہتر ہے۔

مزید پڑھیں: اے آئی ماڈلز کس طرح سیکیورٹی رسک بن سکتے ہیں، زیرو ڈے ولنیبریٹی کیا ہے؟

ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر مواد کا انتخاب بھی ذہنی صحت کی حفاظت کا ایک ذریعہ ہوسکتا ہے۔

اشتہارات میں اے آئی ماڈلز کا بڑھتا استعمال

اے آئی ماڈلز صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہے۔ فیشن اور اشتہارات کی دنیا میں بھی مصنوعی ماڈلز اور حقیقی ماڈلز کے ڈیجیٹل روپ یا ’ڈیجیٹل ٹوئن‘ استعمال کیے جارہے ہیں۔

بعض کمپنیوں نے اس ٹیکنالوجی کو آزمایا ہے کیونکہ اس کے ذریعے ایک ہی ماڈل کے مختلف روپ تیار کیے جاسکتے ہیں اور مختلف ممالک یا مارکیٹوں کے لیے کم وقت میں اشتہاری مواد بنایا جاسکتا ہے۔

اس کے باوجود تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بعض صارفین جب یہ جانتے ہیں کہ اشتہار میں دکھائی دینے والا ماڈل حقیقی انسان نہیں بلکہ اے آئی سے تیار کیا گیا ہے تو ان کا ردعمل منفی ہوجاتا ہے۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ کم تعداد میں حقیقی ماڈلز کو ترجیح دیں گے، کیونکہ حقیقی انسان ہی مختلف معاشرتی، جسمانی اور ذاتی تجربات کی حقیقی نمائندگی کرسکتے ہیں۔

اے آئی ماڈلز میں تنوع بھی ممکن ہے

ماہرین کے مطابق اے آئی کو صرف غیرحقیقی خوبصورتی کے معیار کو بڑھانے کے لیے استعمال کرنا ضروری نہیں۔ اگر اسے مختلف عمر، رنگت، جسمانی ساخت اور ثقافتی پس منظر رکھنے والے افراد کی حقیقت سے قریب نمائندگی کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ خوبصورتی کے محدود تصورات کو وسیع کرنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: اے آئی ڈیپ فیک: ہالی ووڈ کے 5 ستارے جن کی ڈیجیٹل شناخت خبروں میں رہی

تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ اے آئی تیار کرنے والے اور اسے استعمال کرنے والے جان بوجھ کر تنوع کو اہمیت دیں، ورنہ ٹیکنالوجی معاشرے میں پہلے سے موجود تعصبات اور خوبصورتی کے محدود معیار کو ہی مزید مضبوط کرسکتی ہے۔

’اے آئی کو لیبل کرنا ضروری ہے‘

ماہرین اور بعض صارفین کے مطابق اے آئی سے تیار کردہ تصاویر کی واضح نشاندہی بھی اہم ہے۔

اگر کسی اشتہار یا سوشل میڈیا پوسٹ میں دکھائی دینے والا شخص حقیقی نہیں تو صارف کو یہ جاننے کا حق ہونا چاہیے کہ وہ مصنوعی تصویر دیکھ رہا ہے۔

اے آئی سے تیار کردہ مواد کی واضح شناخت خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کے لیے اہم ہوسکتی ہے تاکہ وہ آن لائن نظر آنے والی ہر تصویر کو حقیقی زندگی کا معیار نہ سمجھیں۔

بالآخر مصنوعی ذہانت بذات خود اچھی یا بری نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ اسے کس مقصد کے لیے اور کس ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: ’بہت اچھا کام کرسکتی ہے، شاندار نہیں‘، کاجول کا اے آئی کی صلاحیت پر تبصرہ

خوبصورتی کا کوئی ایک معیار نہیں اور نہ ہی انسانوں کو کسی مصنوعی تصویر کے مطابق خود کو ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق اے آئی کے بڑھتے استعمال کے دور میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ لوگ آن لائن نظر آنے والی تصاویر کو تنقیدی نظر سے دیکھیں اور یہ یاد رکھیں کہ اسکرین پر نظر آنے والی ہر خوبصورت شخصیت لازماً حقیقی انسان نہیں ہوتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp