افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت زیادہ جغرافیائی طور پر پھیل چکی ہے اور تنظیمی طور پر متنوع ہو گئی ہے جس میں قائم شدہ محاذ، نئے بننے والے گروپ اور سابق افغان سیکیورٹی اہلکار شمالی، شمال مشرقی، وسطی، مشرقی اور جنوبی افغانستان میں حملوں کی ذمہ داری قبول کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مشرقی افغانستان میں جھڑپیں، فریڈم فرنٹ کا 37 طالبان جنگجو ہلاک کرنے کا دعویٰ
سال2026 کے دوران طالبان حکومت کے خلاف مسلح مخالفت کے دائرہ کار، تنوع اور رفتار میں اضافہ ہوا ہے۔ سنہ 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ابتدائی برسوں میں مزاحمت منتشر، جغرافیائی طور پر محدود اور بڑی حد تک طالبان کے علاقائی کنٹرول کو چیلنج کرنے سے قاصر تھی۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) اور افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) نمایاں تنظیموں کے طور پر ابھرے، جنہوں نے خاص طور پر شمالی اور شمال مشرقی افغانستان میں چھاپہ مار کارروائیاں اور ٹارگٹڈ آپریشنز کیے۔
تاہم اب مزاحمتی منظر نامہ متنوع ہو چکا ہے۔ قائم شدہ تنظیمیں، نئے محاذ اور سابق سیکیورٹی اہلکار اب وسیع پیمانے پر کارروائیوں کا دعویٰ کر رہے ہیں جن میں گھات لگا کر حملے، طالبان تنصیبات پر حملے، ٹارگٹ کلنگ اور مسلسل جھڑپیں شامل ہیں۔ بدخشاں سرگرمیوں کا ایک بڑا مرکز بن کر ابھرا ہے جبکہ نورستان، بغلان، تخار، پنجشیر، کاپیسہ، کابل اور کئی جنوبی و مغربی صوبوں میں بھی کارروائیوں کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف)، افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ (اے یو ایف) اور افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) مزاحمتی منظر نامے میں نمایاں ہیں جبکہ ہوم لینڈ سولجرز فرنٹ، افغانستان گرین ٹرینڈ، نیشنل انڈیپینڈنس فرنٹ آف افغانستان اور دیگر مقامی تنظیموں کا ابھرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مخالفت اپنے پہلے کے گڑھوں سے آگے بڑھ چکی ہے۔
اہم مزاحمتی گروپس
افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ (اے یو ایف) کی قیادت افغان فوج کی 215 کور کے سابق کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سمیع سادات کر رہے ہیں یہ بنیادی طور پر پشتون تنظیم ہے۔ اس نے اگست 2026 میں اپنی مسلح مہم شروع کی۔ اس کے اثر و رسوخ کے علاقوں میں ہلمند، قندھار، نیمروز، غور، بادغیس اور فاریاب شامل ہیں۔ یہ طالبان مخالف وسیع تر منظر نامے میں اہم پشتون جزو کی نمائندگی کرتا ہے۔
مزید پڑھیے: افغانستان: ہرات میں طالبان کی خواتین کے خلاف بہیمانہ کارروائی، متعدد زیر حراست
افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) کی قیادت افغان نیشنل آرمی کے سابق چیف آف جنرل اسٹاف یاسین ضیاء کر رہے ہیں یہ بنیادی طور پر تاجک ہے اور سابق سیکیورٹی اہلکاروں پر مشتمل ہے۔ اس کی سرگرمیوں کے اہم علاقے بدخشاں، تخار اور نورستان ہیں۔
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) کی قیادت احمد مسعود کر رہے ہیں یہ بھی بنیادی طور پر تاجک ہے اور پنجشیر، ہرات، بغلان، پروان، کاپیسہ، قندوز، کابل اور بدخشاں میں کارروائیوں کا دعویٰ کر چکا ہے۔
سپاہیان میہن (ہوم لینڈ سولجرز فرنٹ) کی قیادت قیوم ملنگ کر رہے ہیں جو بدخشاں میں کام کرنے والی مقامی مزاحمتی تنظیم ہے۔ 17 جولائی 2026 کو اس گروپ نے مختصر طور پر یفتل سفلی ضلع کے مرکز پر قبضہ کر لیا، طالبان اہلکاروں کو غیر مسلح کیا اور عمارت پر اپنا جھنڈا لہرایا۔ یہ اگست 2021 کے بعد پہلا موقع تھا کہ طالبان نے کسی ضلعی مرکز کا کنٹرول کھویا۔
افغان گرین ٹرینڈ کی قیادت سابق نائب صدر اور این ڈی ایس کے سربراہ امراللہ صالح کر رہے ہیں۔ اس کے مسلح ونگ نے 8 اگست سے اب تک 7 حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
اگست اور ستمبر 2026 کے درمیان مزاحمتی تنظیموں نے افغانستان کے 26 صوبوں میں 119 حملوں کا دعویٰ کیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں 256 طالبان ہلاکتوں اور 256 زخمیوں کا دعویٰ کیا گیا۔ اے یو ایف نے 59، اے ایف ایف نے 29، این آر ایف نے 11، نیشنل انڈیپینڈنس فرنٹ نے 9 اور افغان گرین ٹرینڈ نے 7 حملوں کا دعویٰ کیا۔
طالبان رجیم کی وعدہ خلافی، افغان فورسز ناراض
اگست 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد سے طالبان حکومت نے سیاسی، فوجی اور انتظامی اختیار کو سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ اور ان کے قریبی ساتھیوں پر مشتمل تنگ قندھاری قیادت کے حلقے میں مرکوز کر دیا ہے۔
افغانستان کی آبادی کا تقریباً 42 فیصد پشتون ہیں جبکہ تاجک، ہزارہ، ازبک اور دیگر برادریاں باقی ماندہ ہیں۔ تاہم پشتون قندھار شوریٰ اور رہبری ڈھانچے میں 85 سے 95 فیصد عہدوں پر فائز ہیں اور 85 فیصد سے زائد اہم وزارتوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ 49 رکنی طالبان کابینہ میں صرف 2 تاجک، 2 ازبک، 2 بلوچ اور 1 نورستانی ہے اور کوئی ہزارہ یا خاتون شامل نہیں۔
اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان نے سابق سرکاری اہلکاروں اور افغان سیکیورٹی فورسز کے لیے عام معافی کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یو این اے ایم اے) کی رپورٹ کے مطابق 15 اگست 2021 سے 30 جون 2023 تک کم از کم 218 قتل، 424 گرفتاریاں، تشدد کے 144 واقعات اور 14 جبری گمشدگیاں ریکارڈ کی گئیں۔ 2025 کے دوران 29 صوبوں میں 123 سابق فوجی اہلکار مارے گئے جبکہ 131 کو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ سلسلہ 2026 میں بھی جاری رہا۔
عام معافی کے وعدے اور دستاویزی خلاف ورزیوں کے درمیان اس خلا نے سابق افغان سیکیورٹی اہلکاروں میں ناراضی کو گہرا کیا ہے اور طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت کے ابھرنے اور پھیلاؤ میں کردار ادا کیا ہے۔ ان کی فوجی تربیت، آپریشنل تجربہ اور مقامی علاقے سے واقفیت نے مزاحمتی تنظیموں کو تجربہ کار اہلکاروں کا ایک پول فراہم کیا ہے۔
مزید پڑھیں: قندھار سے پنجشیر تک طالبان کے خلاف حملے، مزاحمتی کارروائیوں میں تیزی
رپورٹ کے مطابق مسلح مزاحمتی کارروائیوں کی بڑھتی ہوئی تعدد اور جغرافیائی پھیلاؤ طالبان حکومت کے خلاف منظم مخالفت میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے جبکہ اسی دوران داعش خراسان (آئی ایس کے پی) کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جو ایک الگ اور متوازی سیکیورٹی چیلنج پیش کر رہا ہے۔














