اپوزیشن لانگ مارچ ختم کر کے مذاکرات کی میز پر بیٹھے، رانا ثنا اللہ

منگل 6 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے ہمیشہ اپوزیشن کے ساتھ معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی ہے، اپوزیشن کو چاہیے کہ لانگ مارچ ختم کرکے مذاکرات کی میز پر بیٹھے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو 2 خطوط لکھے، تاہم جواب میں انہوں نے وزیراعظم سے ملاقات کا کوئی عندیہ نہیں دیا بلکہ کہا کہ چونکہ وہ شہباز شریف کو وزیراعظم نہیں مانتے، اس لیے وزیراعظم ہاؤس آکر ملاقات نہیں کرسکتے اور ملاقات کسی اور مقام پر ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: کے پی حکومت غیر آئینی اقدامات سے باز رہنے کی یقین دہانی کرائے تو ایمرجنسی کی طرف نہیں جائیں گے، رانا ثنااللہ

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو اب بھی لانگ مارچ کی طرف نہیں جانا چاہیے تھا، اسے ختم کرکے مذاکرات کی میز پر بیٹھنا چاہیے۔ گزشتہ مذاکرات میں تقریباً تمام مسائل پر بات ہوگئی تھی، صرف ایک معاملہ باقی رہ گیا تھا۔

رانا ثنا اللہ کے مطابق پاکستان پر مسلط کی گئی دہشت گردی کی جنگ میں دشمن ملک اور ہمسایہ ملک افغانستان شامل ہے، اس لیے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اپوزیشن کو کسی اگر مگر کے بغیر وفاقی حکومت اور مسلح افواج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے جن لوگوں نے حکومت سے مذاکرات کیے، وہ خلوص دل سے مذاکرات کامیاب کرانا چاہتے تھے اور انہوں نے درمیانی راستہ نکالنے کی بھرپور کوشش کی، تاہم دہشت گردی کے معاملے پر بات رک گئی کیونکہ اس معاملے پر کوئی راہ فرار نہیں ہوسکتی، یہ ملک و قوم کا مسئلہ ہے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ آج بھی ڈی آئی خان میں خودکش حملہ ہوا ہے جس میں کسٹمز اور پولیس کے جوان شہید ہوئے ہیں، اس معاملے پر اپوزیشن کو پیچھے ہٹنے کی اجازت نہیں ملی۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے ساتھ مذاکرات کے آپشنز میز پر ہیں، رانا ثنااللہ

بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے حوالے سے سوال پر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اس سے قبل بھی بانی پی ٹی آئی تک رسائی دی گئی تھی جس کے بہت منفی نتائج سامنے آئے۔ ان کے مطابق دوسری بات یہ ہے کہ ایک سزا یافتہ شخص کو پارٹی سربراہ کے طور پر رکھنے کا فیصلہ اپوزیشن نے خود کیا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سے کہا جاتا ہے کہ آپ اپنے لیڈر سے مشورہ کرکے جواب دیتے ہیں، ہم نے کہا کہ ہمارا لیڈر سزا یافتہ تو نہیں ہے۔ جب بانی پی ٹی آئی سزا یافتہ تھے تو اس وقت آپ نے سپریم کورٹ سے کیا فیصلہ لیا تھا کہ کیا ایک سزا یافتہ شخص سیاسی مشاورت کرسکتا ہے یا سیاسی جماعت کی سربراہی کرسکتا ہے۔

صوبے میں لانگ مارچ جاری رہنے کی صورت میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے امکان سے متعلق سوال پر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آئینی طور پر عوامل موجود ہیں اور وفاقی حکومت اپنا آئینی اختیار استعمال کرسکتی ہے، تاہم وزیراعظم نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے آج بھی اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp