گزشتہ چند برسوں کے دوران صحت کے حوالے سے ایک نیا رجحان تیزی سے مقبول ہوا ہے۔ صحت مند افراد بھی دن بھر اپنے خون میں شکر کی مقدار جانچنے والے آلات استعمال کرنے لگے ہیں جبکہ کچھ لوگ سفید ڈبل روٹی، پاستا اور دیگر صاف شدہ کاربوہائیڈریٹس کو مکمل طور پر اپنی غذا سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا شوگر کے شکار مردوں کے لیے ہائی بلڈ پریشر جان لیوا ہوسکتا ہے؟
مصنفین، پوڈکاسٹرز اور صحت و تندرستی سے متعلق مواد بنانے والے بعض افراد نے یہ تصور بھی عام کیا ہے کہ ہر شخص کو خون میں شکر کی سطح میں اچانک اضافے پر نظر رکھنی چاہیے اور اسے روکنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اس سوچ کے مطابق خون میں گلوکوز کی مقدار کا بڑھنا ہارمونز میں عدم توازن، کیل مہاسوں، موڈ میں اتار چڑھاؤ اور دیگر مسائل کا سبب بن سکتا ہے حتیٰ کہ ایسے افراد میں بھی جنہیں ذیابیطس یا کوئی اور میٹابولک بیماری لاحق نہ ہو۔
تاہم ماہرین اب اس تصور پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق صحت مند افراد میں کھانے کے بعد خون میں شکر کی سطح کا کچھ دیر کے لیے بڑھ جانا جسم کا ایک معمول کا قدرتی ردعمل ہے اور ہر بار اسے خطرناک سمجھنے کی ضرورت نہیں۔
خون میں شکر کیوں بڑھتی ہے؟
جب ہم میٹھی غذائیں، پھل یا کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور کھانے پیتے ہیں تو نظامِ ہاضمہ ان میں موجود شکر اور کاربوہائیڈریٹس کو گلوکوز میں تبدیل کرتا ہے۔ یہ گلوکوز خون میں جذب ہوتا ہے جس کے نتیجے میں خون میں شکر کی مقدار عارضی طور پر بڑھ جاتی ہے۔
اس کے جواب میں لبلبہ انسولین نامی ہارمون خارج کرتا ہے۔ انسولین گلوکوز کو خون سے جسم کے خلیوں تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے جہاں اسے توانائی کے حصول کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیے: شوگر کے مریضوں کے لیے مورنگا (سہانجنا) کے 6 حیرت انگیز فوائد
صرف کھانا ہی خون میں گلوکوز کی مقدار نہیں بڑھاتا۔ شدید جسمانی ورزش کے دوران بھی ایڈرینالین جیسے ہارمونز جگر کو خون میں مزید گلوکوز خارج کرنے کا اشارہ دیتے ہیں تاکہ کام کرنے والے پٹھوں کو اضافی توانائی مل سکے۔
امریکا میں ییل اسکول آف میڈیسن سے وابستہ بچوں کی ماہر غدودیات جینیفر شیئر کے مطابق اس عمل کے نتیجے میں خون میں گلوکوز کی مقدار عارضی طور پر بڑھ سکتی ہے۔
ذیابیطس کے مریضوں میں صورتحال مختلف ہے
ذیابیطس کے شکار افراد میں جسم یا تو مناسب مقدار میں انسولین پیدا نہیں کرتا یا انسولین مؤثر طریقے سے کام نہیں کرتی، جسے انسولین کی مزاحمت کہا جاتا ہے۔
ایسی صورت میں کھانے کے بعد خون میں شکر کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔ اس لیے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے غذا، ورزش اور خون میں شکر کی سطح کو باقاعدگی سے قابو میں رکھنا اہم ہے۔ بعض افراد کو انسولین یا میٹفارمن جیسی ادویات کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔
صحت مند افراد میں شوگر کا بڑھنا معمول ہے
صحت مند افراد میں کھانے کے بعد خون میں گلوکوز کی مقدار کا بڑھنا ایک معمول کا جسمانی عمل ہے۔
برطانیہ کی یونیورسٹی کالج لندن میں غذائیت اور خوراک سے متعلق شعبے کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ایڈرین براؤن کے مطابق سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ خون میں گلوکوز کی ہر سطح میں اضافہ نقصان دہ ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: جسم کے کون سے حصے ہائی بلڈشوگر کی نشاندہی کرتے ہیں؟
عام طور پر کھانے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد خون میں شکر کی سطح بلند ترین مقام پر پہنچتی ہے اور اس کے بعد تقریباً 2 گھنٹوں کے دوران دوبارہ معمول کی سطح پر آنا شروع ہوجاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ اضافہ مختصر مدت کے لیے ہو اور متعلقہ شخص کا جسم گلوکوز کو معمول کے مطابق قابو میں رکھتا ہو تو عام طور پر اس پر تشویش کی ضرورت نہیں۔
کب فکر کرنے کی ضرورت ہے؟
مسئلہ اس وقت پیدا ہوسکتا ہے جب خون میں گلوکوز کی مقدار توقع سے زیادہ دیر تک بلند رہے۔ ییل اسکول آف میڈیسن کی جینیفر شیئر کے مطابق ایسا جسم کی جانب سے گلوکوز کو معمول کے مطابق منظم نہ کر پانے کی علامت ہوسکتا ہے۔
یہ انسولین کی مزاحمت کی طرف بھی اشارہ کرسکتا ہے، جس میں جسم گلوکوز کے مقابلے میں معمول کے مطابق ردعمل نہیں دیتا۔ انسولین کی مزاحمت بالآخر پیشگی ذیابیطس اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔
ذیابیطس کے بعض مریضوں میں خون میں شکر کی مسلسل بلند سطح اعصاب اور آنکھوں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ دل کی بیماری اور فالج سمیت دیگر پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: شوگر ٹیسٹ کے دوران لوگ عموماً کون سی غلطیاں کرتے ہیں؟
تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات کے شواہد کافی نہیں کہ خون میں گلوکوز کی زیادتی براہ راست انسولین کی مزاحمت کا سبب بنتی ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کی ماہر غذائیت اور سینیئر تحقیقی رکن نکولا گیس کے مطابق اس کی ایک ممکنہ وضاحت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جب ہم جسم کی ضرورت سے زیادہ کیلوریز استعمال کرتے ہیں تو اضافی کیلوریز جسم میں چربی کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں وزن بڑھ سکتا ہے جو ٹائپ ٹو ذیابیطس کا ایک اہم خطرہ ہے۔
صحت مند افراد میں خون میں شکر جانچنے والے آلات کا بڑھتا استعمال
ذیابیطس کے مریض پہلے ہی باقاعدگی سے اپنے خون میں شکر کی مقدار کی نگرانی کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے مسلسل گلوکوز کی نگرانی کرنے والے آلات استعمال کیے جاتے ہیں جو دن بھر وقفے وقفے سے خون میں شکر کی سطح ریکارڈ کرتے رہتے ہیں۔
اب ایسے آلات صحت مند افراد میں بھی تیزی سے مقبول ہورہے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جن افراد کو ذیابیطس نہیں ہے ان کے لیے عموماً ان آلات کی ضرورت نہیں ہوتی۔
ایک تحقیق میں ذیابیطس سے محروم افراد کے خون میں شکر کی سطح 96 فیصد وقت صحت مند حد کے اندر رہی۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ ایسے آلات بعض افراد کو غیر ضروری طور پر اپنی غذا تبدیل کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں اور صحت کے بارے میں ان کے تصور کو متاثر کرسکتے ہیں خصوصاً اس لیے کہ بعض صورتوں میں یہ خون میں شکر کی سطح کو ضرورت سے زیادہ ظاہر کرسکتے ہیں۔
براؤن اور ان کے ساتھیوں کی ایک حالیہ جائزہ تحقیق میں بھی ایسے افراد میں ان آلات کے استعمال سے صحت کے نتائج بہتر ہونے کے حوالے سے مستقل اور اعلیٰ معیار کے شواہد کی کمی سامنے آئی جنہیں ذیابیطس نہیں ہے۔
البتہ ایسے افراد کے لیے ان آلات کا کچھ فائدہ ہوسکتا ہے جنہیں ٹائپ ٹو ذیابیطس لاحق ہونے کا خطرہ زیادہ ہو۔ ابتدائی تحقیق سے عندیہ ملتا ہے کہ خون میں گلوکوز کی نگرانی کرنے والے آلات زیادہ خطرے کا شکار افراد کی نشاندہی میں مدد دے سکتے ہیں تاہم اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
متوازن غذا اب بھی بہترین انتخاب ہے
اگرچہ صحت مند افراد میں کھانے کے بعد خون میں شکر کا بڑھنا ایک معمول کا عمل ہے اور عام طور پر اس سے سنگین نتائج پیدا ہونے کا امکان نہیں ہوتا لیکن خون میں شکر کی سطح کو نسبتاً مستحکم رکھنے کے کچھ فوائد ضرور ہیں۔
مثال کے طور پر کھانے کے بعد خون میں گلوکوز کی سطح تیزی سے گرنے سے بھوک بڑھ سکتی ہے اور مجموعی طور پر زیادہ توانائی یعنی کیلوریز استعمال ہونے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔
مختلف غذائیں خون میں شکر کی سطح پر مختلف اثرات مرتب کرتی ہیں۔ ایسی غذائیں جو خون میں شکر کو نسبتاً مستحکم رکھتی ہیں زیادہ دیر تک پیٹ بھرا رہنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ ان میں ثابت اناج اور پروٹین سے بھرپور غذائیں شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ وجہ سامنے آگئی
اس کے برعکس سفید ڈبل روٹی اور سفید چاول جیسے سادہ کاربوہائیڈریٹس نسبتاً تیزی سے ہضم ہوکر خون میں شامل ہوجاتے ہیں۔
کھانا کھانے کی ترتیب بھی اہم ہوتی ہے
ماہرین کے مطابق بعض صورتوں میں کھانے کی ترتیب بھی خون میں شکر کے اضافے کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
مثلاً کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذا کھانے سے پہلے پروٹین اور سبزیاں کھانے سے کھانے کے بعد خون میں شکر کی سطح میں ہونے والے اضافے کو کم کیا جاسکتا ہے۔
اسی طرح ایسی متوازن غذا اختیار کرنا بہتر ہے جس میں پروٹین، فائبر سے بھرپور نباتاتی غذائیں اور صحت مند چکنائیاں شامل ہوں۔ اس طرح ہاضمے کا عمل نسبتاً سست رہتا ہے، جسم کو توانائی زیادہ مستحکم انداز میں ملتی ہے اور صحت مند وزن برقرار رکھنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
ہر شخص کا جسم غذا پر مختلف ردعمل دیتا ہے
ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ تمام افراد کا جسم ایک ہی غذا پر یکساں ردعمل نہیں دیتا۔
ایڈرین براؤن کے مطابق افراد کے درمیان نمایاں فرق پایا جاتا ہے حتیٰ کہ ایک ہی شخص میں بھی خون میں شکر کا ردعمل نیند، ذہنی دباؤ، جسمانی سرگرمی اور کھانے کی نوعیت جیسے عوامل کے باعث مختلف ہوسکتا ہے۔
نکولا گیس کے مطابق کاربوہائیڈریٹس سے مکمل پرہیز بھی بعض اوقات الٹا اثر ڈال سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کچھ عرصے تک کاربوہائیڈریٹس محدود رکھنے کے بعد اچانک کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور کھانا کھائے تو خون میں شکر کی سطح معمول سے زیادہ بڑھ سکتی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ کاربوہائیڈریٹس متوازن غذا کا ایک ضروری حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ اس لیے کسی مخصوص غذائی گروپ کو مکمل طور پر محدود کرنے سے بعض ایسی غذائیں بھی غیر ضروری طور پر ترک ہوسکتی ہیں جو صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔
اصل توجہ اضافی شکر کم کرنے پر ہونی چاہیے
ماہرین کے مطابق خون میں شکر کی نگرانی کرنے والے آلات کے صحت مند افراد کے لیے فوائد پر ابھی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا تاہم ایک بات واضح ہے کہ ہر بار خون میں شکر کے عارضی اضافے سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔
صحت مند افراد میں کھانے کے بعد خون میں گلوکوز کا عارضی طور پر بڑھنا جسم کے معمول کے ردعمل کا حصہ ہے۔
مزید پڑھیے: چینی کھانے کے بجائے پینا کیوں زیادہ خطرناک؟ ذیابیطس سے جڑا اہم راز سامنے آ گیا
اس کے بجائے زیادہ توجہ اس بات پر دینی چاہیے کہ روزمرہ خوراک میں شامل اضافی شکر کی مقدار کم کی جائے، متوازن غذا استعمال کی جائے اور مجموعی طور پر صحت مند طرز زندگی اپنایا جائے۔














