وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ معاشی استحکام، پائیدار اقتصادی ترقی، ڈھانچہ جاتی اصلاحات، تجارت و سرمایہ کاری، نئی معیشت اور مالی سہولیات تک رسائی حکومت کی 6 اہم ترجیحات ہیں، گزشتہ اڑھائی برس کے دوران پاکستان نے معاشی استحکام کے حصول میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔
پاکستان مائیکروفنانس نیٹ ورک کی 10ویں سالانہ مائیکروفنانس کانفرنس سے بدھ کو ورچوئل خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کے دوہرے خسارے، جو بلند ترین سطح پر جی ڈی پی کے تقریباً 12.5 فیصد تک پہنچ گئے تھے، گزشتہ مالی سال کے اختتام پر کم ہو کر 2.6 فیصد رہ گئے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 21.4 ارب ڈالر کی تاریخی بلند سطح پر پہنچ گئے ہیں جو تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ اپریل 2025 سے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں تین مرتبہ بہتری آئی جبکہ 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کے کامیاب اجرا کے ذریعے پاکستان عالمی سرمایہ منڈیوں میں دوبارہ واپس آیا ہے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاکہ یورو بانڈ کے اجرا میں ایشیا، مشرق وسطیٰ، یورپ اور امریکا کے سرمایہ کاروں کی بھرپور شرکت پاکستان پر عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاس ہے۔
انہوں نے کہاکہ معاشی استحکام کو مستقل بنیادوں پر مضبوط بنانا پائیدار اقتصادی سرگرمی اور عروج و زوال کے معاشی چکروں سے نکلنے کے لیے ضروری ہے۔
پائیدار اور ذمہ دارانہ اقتصادی ترقی پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی
وزیر خزانہ نے کہا کہ آئندہ مرحلے میں کھپت پر مبنی اقتصادی توسیع کے بجائے پائیدار اور ذمہ دارانہ اقتصادی ترقی پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ پاکستان کی معیشت تین سال قبل سکڑاؤ کا شکار تھی، گزشتہ مالی سال میں 3.7 فیصد بڑھی جبکہ رواں مالی سال میں 4 فیصد کی شرح سے زیادہ اقتصادی ترقی متوقع ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس، توانائی، سرکاری اداروں، نجکاری اور عوامی مالیات کے شعبوں میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ حکومت اقتصادی سرگرمیوں میں نجی شعبے کے کردار کو مزید بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں دو بڑے ملکی سرمایہ کار گروپس کی تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی مشترکہ بولی نجی شعبے کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔ ڈسکوز کی نجکاری میں بھی بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے اور تین ترک کمپنیوں نے پہلی پیش کی جانے والی ڈسکو میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
پاکستان امداد پر انحصار سے تجارت و سرمایہ کاری کی جانب منتقل ہو رہا ہے
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان امداد پر انحصار سے تجارت اور سرمایہ کاری کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔ دوطرفہ شراکت داروں کی مسلسل معاونت قابل تحسین ہے تاہم مضبوط تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات مزید اہم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، بلاک چین اور ویب تھری سمیت نئی معیشت کے لیے پاکستان کو خود کو بہتر طور پر تیار کرنا ہوگا۔ پاکستانی فری لانسرز نے گزشتہ مالی سال کے دوران آئی ٹی خدمات کی برآمدات سے 1.6 ارب ڈالر کمائے۔ نوجوانوں کو زیادہ قدر والی ڈیجیٹل خدمات کی جانب منتقل کرنے کے لیے موجودہ مہارتوں کو بہتر بنانے کے ساتھ نئی مہارتوں کی تربیت ضروری ہے۔
مالی سہولیات تک رسائی بڑھانے کی ضرورت ہے
سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ عوام اور مالی سہولیات تک محدود رسائی رکھنے والی کمیونٹیز کے لیے مالی وسائل تک رسائی بڑھانے کی ضرورت ہے۔ سستی رہائش کے لیے پہلی مرتبہ گھر خریدنے والوں کو تقریباً 76 ارب روپے فراہم کیے گئے جبکہ بینکاری نظام نے 400 ارب روپے سے زیادہ کی منظوری دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چھوٹے کسانوں کے لیے ڈیجیٹل اور بغیر ضمانت مالی معاونت کی سکیم کے تحت گزشتہ سات سے آٹھ ماہ میں تقریباً 6 ارب روپے منظور اور 2 ارب روپے سے زائد جاری کیے گئے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ایس ایم ایز، زراعت اور سستی رہائش کے لیے مالی معاونت بڑھانے کے لیے کمرشل بینکوں اور مائیکروفنانس شعبے کے درمیان مضبوط تعاون ضروری ہے۔ مالی رسائی سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی اور پاکستان مائیکروفنانس نیٹ ورک مالی نظام سے محروم طبقات تک رسائی بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
’مائیکروفنانس ادارے ڈیجیٹل قرضوں کا نظام مضبوط بنائیں‘
انہوں نے مائیکروفنانس اداروں پر زور دیا کہ وہ ڈیجیٹل قرضوں کے نظام کو مضبوط بنائیں، صارفین کے تجربے کو بہتر کریں اور مؤثر کریڈٹ سکورنگ ماڈلز تیار کریں۔ قرضوں کی فراہمی میں متبادل ڈیٹا اور ڈیجیٹل کریڈٹ نظام کے استعمال کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہاکہ قرض دینے کے فیصلے صرف ضمانت کی بنیاد پر نہیں بلکہ قرض واپس کرنے کی صلاحیت، موسمی عوامل اور استطاعت کو مدنظر رکھ کر کیے جانے چاہئیں۔ مائیکروفنانس شعبے کو قرضوں کے حجم کے بجائے ان کے حقیقی معاشی اور سماجی نتائج پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
وزیر خزانہ نے کہاکہ زرعی شعبے اور ایس ایم ایز میں نئے قرض لینے والوں کی تعداد بڑھانا مائیکروفنانس شعبے کی اہم ترجیح ہونی چاہیے۔ برآمدی ری فنانس کی حد ایک کھرب روپے سے بڑھا کر ڈیڑھ کھرب روپے کر دی گئی ہے جبکہ نئی حد کا 20 فیصد ایس ایم ایز کے لیے مختص ہے۔
انہوں نے کہاکہ بڑے برآمد کنندگان کی ویلیو اور سپلائی چین سے منسلک کاروبار 4.5 فیصد کی خصوصی شرح پر مالی سہولیات حاصل کر سکیں گے۔
خواتین کی معاشی شمولیت کو بھی کامیابی کے پیمانوں میں شامل کیا جائے
سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاکہ چھوٹے قرض لینے والوں کی درمیانے اور بڑے کاروبار میں ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور خواتین کی معاشی شمولیت کو بھی کامیابی کے پیمانوں میں شامل کیا جانا چاہیے۔ خواتین کاروباری افراد کی شمولیت میں اضافہ مالی شمولیت اور پائیدار معاش کے لیے اہم ہے۔
انہوں نے کہاکہ مائیکروفنانس میں نتائج پر مبنی پیمائش مالی شمولیت، پیداواری سرگرمی اور پائیدار معاش کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کرے گی۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ مائیکروفنانس شعبے کو مضبوط بنانے اور پاکستان بھر میں عوام، کاروباری اداروں اور کمیونٹیز تک مالی سہولیات کی رسائی بڑھانے کے لیے کانفرنس میں ہونے والی گفتگو اہمیت کی حامل ہے۔














