ایم ڈی کیٹ نتائج پر اعتراضات، سیاسی نمبر اسکورنگ یا حقیقی مسئلہ؟

جمعرات 8 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایم ڈی کیٹ امتحانات کے نتائج سامنے آتے ہی ایک بار پھر سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کی جانب سے اعتراضات اور الزامات کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ تاہم سینیئر صحافی حمید الرحمان نے ان اعتراضات کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ محض سیاسی ’نمبر اسکورنگ‘ ہے۔

حمید الرحمان کے مطابق ماضی کے برعکس گزشتہ 3 سال سے سکھر آئی بی اے ٹیسٹنگ سروس کے تحت ایم ڈی کیٹ امتحانات شفاف انداز میں منعقد ہو رہے ہیں اور اس دوران پیپر لیک ہونے کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے امتحانات کے شفاف انعقاد کا کریڈٹ وائس چانسلر پروفیسر آصف احمد شیخ اور ان کی ٹیم کو دیا۔

انہوں نے کہا کہ امتحانات میں شفافیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وائس چانسلر سکھر آئی بی اے نے امتحان کی تاریخ کے اعلان کے وقت محکمہ صحت کو آگاہ کردیا تھا کہ ان کی بیٹی بھی امتحان میں شریک ہو رہی ہیں، اس لیے وہ خود کو امتحان کے انعقاد سے الگ رکھنا چاہتے ہیں تاکہ مفادات کے ٹکراؤ یا کسی رعایت کا الزام نہ لگے۔ تاہم محکمہ صحت نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں ذمہ داری جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ نتائج کے مطابق وائس چانسلر کی بیٹی نے 157 نمبر حاصل کیے اور سندھ بھر میں 2411ویں نمبر پر رہیں، جبکہ وہ ٹاپ 20 میں شامل نہیں ہوئیں۔

نتائج کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ بھر سے 34 ہزار طلبہ و طالبات نے ایم ڈی کیٹ امتحان میں حصہ لیا، جن میں کراچی کے 10 ہزار سے زائد امیدوار شامل تھے۔ کراچی کا مجموعی کامیابی کا تناسب 66.98 فیصد رہا۔ سندھ کے 30 اضلاع میں کراچی ایسٹ 71 فیصد کامیابی کے ساتھ پہلے، کراچی سینٹرل 68 فیصد کے ساتھ دوسرے اور تھرپارکر 66 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔

حمید الرحمان نے کہا کہ الزام لگانے والی سیاسی جماعتیں اب تک دھاندلی یا ناانصافی کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکیں اور نہ ہی پرچے یا جوابی کلید میں کسی غلطی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان کے مطابق بلاجواز الزامات سے قومی اداروں پر عوام کا اعتماد متاثر ہونے کے ساتھ شب و روز محنت کرنے والے طلبہ کی حق تلفی بھی ہوتی ہے۔ اگر معاملہ بے بنیاد تحقیقات یا تنازعات کی نذر ہوا تو 3 سال پہلے کی طرح ایک بار پھر میڈیکل کا تعلیمی سال شدید تاخیر کا شکار ہوسکتا ہے۔

ایم ڈی کیٹ نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے سینیئر صحافی نیاز علی نے کہا کہ نتائج کو سیاسی یا تعصب کی نظر سے دیکھنے کے بجائے زمینی حقائق کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق کراچی کے 71 فیصد سے زائد طلبہ امتحان میں کامیاب ہوئے ہیں، جو سندھ کے دیگر اضلاع اور ڈویژنز کے مقابلے میں زیادہ تناسب ہے۔

نیاز علی نے کہا کہ پیپر کے انداز اور تیاری کے طریقہ کار میں فرق ہوسکتا ہے، ممکن ہے تھرپارکر اور جامشورو کے طلبہ نے ٹیسٹ پیٹرن کے مطابق بہتر تیاری کی ہو۔ تاہم اگر امتحان کی شفافیت پر سوالات ہیں تو ان کی تحقیقات ہونی چاہییں، لیکن بچوں کی محنت کو مسترد نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے سندھ کے تعلیمی نظام میں موجود نقائص کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ میٹرک کی سطح پر نقل، امتحانی مراکز کی مبینہ خرید و فروخت اور ایجنٹ مافیا کی سرگرمیوں کے باعث نتائج 83 فیصد تک پہنچ جاتے ہیں، تاہم جب یہی طلبہ انٹر، این ای ڈی یا ایم ڈی کیٹ جیسے داخلہ ٹیسٹس کا سامنا کرتے ہیں تو کامیابی کا تناسب کم ہوکر 35 سے 40 فیصد رہ جاتا ہے۔

ان کے مطابق ماضی میں این ای ڈی یونیورسٹی کے ٹیسٹ میں کیمبرج اور فیڈرل بورڈ کے طلبہ کی کامیابی کا تناسب سندھ کے روایتی بورڈز کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر رہا۔ اسی طرح فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں بھی کراچی کے طلبہ کی کامیابی کی شرح توقع کے مطابق نہیں رہی۔

نیاز علی نے کہا کہ دنیا مصنوعی ذہانت اور جدید طرز تعلیم کی طرف بڑھ رہی ہے، اس لیے لسانی، قومی اور علاقائی تعصبات سے نکل کر جدید ٹیکنالوجی اور تعلیمی نظام کو اپنانا ہوگا، بصورت دیگر عالمی سطح پر مقابلہ کرنا مشکل ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp