بانی پی ٹی آئی کے کزن نوشیروان برکی اور صحت کارڈ کا نظام، اختیار ولی نے مبینہ بدعنوانی پر سوالات اٹھا دیے

ہفتہ 10 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی نے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کو سیاسی انتشار نہیں بلکہ امن، خوشحالی اور ترقی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 13 سے 14 سال کے دوران صوبے میں تعلیمی اور صحت کے شعبوں میں خاطر خواہ ترقی نہیں ہوئی اور 34 میں سے 18 یونیورسٹیاں دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ انہوں نے سرکاری اسپتالوں، ادویات کی خریداری، صحت کارڈ اور ترقیاتی وسائل کے استعمال میں مبینہ بدعنوانی کے الزامات بھی عائد کیے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اختیار ولی نے کہا کہ تحریک انصاف نے 90 دن میں تبدیلی اور 6 ماہ میں مثالی نظام حکومت قائم کرنے کے وعدے کیے تھے، جہاں امیر اور غریب کے لیے انصاف، تعلیم اور صحت کی سہولتیں یکساں ہوتیں، تاہم ان کے بقول عملی صورت حال ان وعدوں کے برعکس ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کی یونیورسٹیوں کو مالی مشکلات اور انتظامی مسائل کا سامنا ہے، جبکہ حکومت کوئی بڑا اسپتال قائم کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوئی۔ اختیار ولی نے صوبائی حکومت کے ایک وزیر کے یونیورسٹیوں سے متعلق دعوؤں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جس یونیورسٹی کا ذکر کیا جا رہا ہے، وہاں زمین خالی پڑی ہے اور عمارت تک تعمیر نہیں ہوئی۔ انہوں نے متعلقہ وزیر کو اس معاملے پر براہ راست بحث کا چیلنج بھی دیا۔

صحت کارڈ اور ادویات کی خریداری میں مبینہ بدعنوانی

اختیار ولی نے خیبر پختونخوا کے صحت کے نظام پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ سرکاری اسپتالوں کے لیے ادویات اور طبی آلات کی خریداری اور صحت کارڈ کے پینل میں اسپتالوں کی شمولیت کے عمل میں مبینہ مالی بے ضابطگیاں ہوئیں۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کے کزن نوشیروان برکی اور بعض دیگر افراد کا نام لیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ادویات کی فراہمی اور طبی خدمات کے ٹھیکوں میں مخصوص مفادات کو فائدہ پہنچایا گیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض اسپتالوں کو صحت کارڈ کے پینل میں شامل کرنے کے لیے بھی رقم وصول کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام کو معیاری علاج کی سہولتیں ملنی چاہییں، لیکن صحت کے شعبے میں مبینہ بدعنوانی اور مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات کی تحقیقات ضروری ہیں۔

پولیس، انسدادِ دہشتگردی اور ترقیاتی فنڈز پر سوالات

اختیار ولی نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس اور انسدادِ دہشتگردی کے اداروں کو جدید وسائل اور بہتر سہولتوں کی ضرورت ہے، لیکن صوبے میں امن و امان کے مسائل برقرار ہیں۔ ان کے بقول پولیس اہلکار دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں جانیں دے رہے ہیں، جبکہ حکومت کو پولیس کی استعداد بڑھانے اور عوام کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرنے چاہییں۔

انہوں نے قبائلی اضلاع کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں سڑکوں سمیت بنیادی ڈھانچے کے متعدد منصوبے مسلم لیگ ن کے سابق دور میں گورنر سردار مہتاب عباسی کے ذریعے شروع کیے گئے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس کے بعد اسکولوں، کالجوں اور پولیس اسٹیشنوں کے قیام کے حوالے سے خاطر خواہ پیشرفت نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں جلسے جلوس کی اجازت ہے، ریاست کو یرغمال بنانے کی نہیں، اختیار ولی

اختیار ولی نے الزام لگایا کہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد ترقی کے لیے مختص رقوم کو مطلوبہ مقاصد پر خرچ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ تحریک انصاف نے سوشل میڈیا پر اپنی تشہیر کے لیے کارکنوں اور اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کو مالی ادائیگیاں کیں۔ ان کے مطابق صوبے کے ترقیاتی وسائل کے استعمال کی تفصیلات عوام کے سامنے آنی چاہییں۔

جنگلات کی کٹائی اور اثاثے بنانے کے الزامات

اختیار ولی نے خیبر پختونخوا میں جنگلات کی کٹائی اور ٹمبر مافیا کی سرگرمیوں پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جنگلات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے اور لکڑی کی غیر قانونی تجارت سے وابستہ عناصر کو فائدہ پہنچا۔

انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں اور سابق و موجودہ حکومتی عہدیداروں کے اثاثوں اور کاروبار میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ان کے بقول ایک رہنما جس کے پاس 2013 میں محدود تعلیمی کاروبار تھا، اب متعدد اسکولوں کا مالک بن چکا ہے، جبکہ ایک سابق وزیر نے اسپتالوں کا کاروبار قائم کر لیا ہے۔ انہوں نے ان دعوؤں کی بنیاد پر سوال اٹھایا کہ صوبے کے عوام اور متعلقہ ادارے حکومتی عہدیداروں کے اثاثوں اور آمدن کے ذرائع کا جائزہ کیوں نہیں لیتے۔

اختیار ولی نے پنجاب، سندھ اور بلوچستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دیگر صوبوں میں بھی مسائل اور کوتاہیاں موجود ہیں، تاہم وہاں ترقیاتی سرگرمیاں اور عوامی سہولتوں کی فراہمی دکھائی دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام بھی معیاری اسپتالوں، تعلیمی اداروں، بہتر سڑکوں، جدید پولیس نظام اور روزگار کے مواقع کے مستحق ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی نے ریاست مخالف بیانیے کے ذریعے نئی نسل کو گمراہ کیا، اختیار ولی خان

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو سیاسی سرگرمیوں اور محاذ آرائی کے بجائے امن و امان، تعلیم، صحت، روزگار اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کے مطابق، خیبر پختونخوا کے عوام کو مزید سیاسی کشمکش کے بجائے بہتر حکمرانی اور بنیادی سہولتوں کی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp