جمہوریہ کانگو کے مشرقی علاقوں میں ایبولا کی وبا مزید پھیلنے لگی، جبکہ کینیا میں بھی کانگو سے آنے والا ایک شخص وائرس سے متاثر ہونے کے بعد ہلاک ہوگیا۔
مزید پڑھیں:کانگو میں ایبولا بے قابو، ہلاکتیں 1,300 سے تجاوز، وائرس جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے لگا
عالمی ادارۂ صحت نے 8 اکتوبر کو بتایا کہ کانگو کے صوبے شمالی کیوو کے علاقے الیمبونگو میں پہلی بار ایبولا کے کیسز سامنے آئے۔ 6 اکتوبر تک وہاں وائرس کے 4 مصدقہ کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جن میں 2 افراد ہلاک ہوئے۔
🔵#Congo #Unicef. Oltre 1.900 bambini hanno perso, o sono stati separati, da uno o entrambi i genitori a causa dell’epidemia di ebola. I numeri sono probabilmente sottostimati poiché molti bambini, dopo il ricovero dei genitori, finiscono in strada. @UNICEF_Italia https://t.co/RX8Xxo64aY
— Rai Radio1 (@Radio1Rai) October 7, 2026
عالمی ادارۂ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 6 اکتوبر تک کانگو میں ایبولا کے 8 ہزار 728 مصدقہ کیسز سامنے آچکے تھے، جبکہ 4 ہزار 205 افراد ہلاک اور 2 ہزار 269 صحت یاب ہوئے۔ وبا اب ملک کے 7 صوبوں کے 64 صحت کے انتظامی علاقوں تک پھیل چکی تھی۔
کینیا میں 6 اکتوبر کو ایبولا کے وائرس کی درآمد شدہ منتقلی کا پہلا کیس تصدیق ہوا۔ مریض کانگو میں مقیم کینیا کا شہری تھا، جو بیمار ہونے کے بعد یوگنڈا کے راستے نیروبی پہنچا۔ اسے اسپتال میں الگ تھلگ رکھا گیا، تاہم وہ 5 اکتوبر کو دم توڑ گیا۔
کینیا کے حکام نے مریض سے رابطے میں آنے والے 28 افراد کی نشاندہی کی ہے، جن میں اہلخانہ اور طبی عملہ شامل ہیں۔ حکام متاثرہ پرواز کے مسافروں اور عملے کا سراغ لگانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں، جبکہ کینیا اور یوگنڈا میں نگرانی اور رابطوں کی تلاش کا عمل تیز کردیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: کانگو میں ایبولا کی وبا بے قابو، متاثرہ افراد کی تعداد 5 ہزار سے تجاوز کرگئی
طبی امدادی تنظیم ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے مطابق کانگو میں علاج کی سہولتوں کی کمی، سکیورٹی مسائل اور مقامی آبادی میں غلط معلومات وبا پر قابو پانے کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق بنڈی بگیو وائرس سے ہونے والی اس بیماری کے لیے فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں۔











