خیبر پختونخوا کے شہریوں نے صوبے میں امن و امان کی صورتِحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کے واقعات عوام کے جان و مال کے لیے سنگین خطرہ ہیں، جبکہ قانون کی حکمرانی اور ریاستی رٹ کی مؤثر بحالی ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ کے اہم اجلاس میں خیبر پختونخوا کی مخدوش سیکیورٹی پر رپورٹ پیش
شہریوں کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف مؤثر کارروائی اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مربوط حکمتِ عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔ منتخب نمائندوں کی اولین ذمہ داری عوام کا تحفظ ہونا چاہیے، نہ کہ ذاتی سیاسی سرگرمیوں کو ترجیح دینا۔
ان کا کہنا ہے کہ جب صوبائی حکومت امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام دکھائی دے تو اس کی کارکردگی اور آئینی ذمہ داریوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیں:خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ، سہیل آفریدی اور پارٹی قیادت کہاں ہے؟
خیبر پختونخوا کے شہریوں نے وزیراعلیٰ کی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ صوبے میں دہشتگردی جاری ہو اور وزیراعلیٰ سیاسی سرگرمیوں میں مصروف دکھائی دیں تو ایمرجنسی جیسے اقدامات ناگزیر ہوجاتے ہیں۔














