دودھ اور واشنگ مشین تک اے آئی سے زیادہ سخت قوانین کے تابع ہیں، صدر مائیکروسافٹ

پیر 12 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مائیکروسافٹ کے صدر بریڈ اسمتھ کا کہنا ہے کہ اس وقت دودھ اور واشنگ مشین تک مصنوعی ذہانت سے زیادہ سخت قوانین کے تابع ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: صارفین نے بدسلوکی کی تو اے آئی ماڈل کلاڈ ان سے گفتگو روک دے گا، اینتھروپک کا انتباہ

بریڈ اسمتھ نے کہا کہ عالمی حفاظتی قوانین کی ضرورت ہے جن میں قانونی طور پر یہ بتانا بھی شامل ہو کہ اگر کسی کا سسٹم بگڑے ہوئے اے آئی ایجنٹ کے ذریعے ہیک ہو جائے تو متاثرہ شخص کو اطلاع دی جائے ساتھ ہی یہ طے کرنا کہ اے آئی پروڈکٹ کو ریلیز سے پہلے باہر کے جائزہ کاروں سے کب منظوری لینی چاہیے۔

ان کے تبصرے انہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متصادم کرتے ہیں جنہوں نے کہا تھا کہ اس سیکٹر کو خود کو ریگولیٹ کرنا چاہیے تاکہ امریکی کمپنیاں چینی حریفوں سے پیچھے نہ رہ جائیں۔

لیکن اسمتھ نے کہا کہ اس وقت آپ کی واشنگ مشین اے آئی سے زیادہ حفاظتی قوانین کے تابع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گروسری اسٹور میں دودھ کا ہر ڈبہ حفاظتی قوانین اور معائنے کے تابع ہے۔

اے آئی کو کنٹرول کرنے کے لیے قوانین اور ضوابط کے مطالبات اس وقت بڑھ گئے ہیں جب اس شعبے کے ماہرین نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی انسانیت کے لیے خطرہ ہے۔

امریکا میں قائم اے آئی کی بڑی کمپنیوں جیسے اینتھروپک، اوپن اے آئی اور گوگل ڈیپ مائنڈ کے باسز نے اے آئی کی ترقی کو سست کرنے کے خیال کی حمایت کی ہے لیکن ٹرمپ نے اس کے خلاف زور دیا ہے۔

بی بی سی کے بگ باس انٹرویو پوڈکاسٹ سے بات کرتے ہوئے اسمتھ نے اے آئی کو ایک ٹول اور ہتھیار دونوں قرار دیا جسے فوری طور پر ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’آئیے آج سے ہی شروعات کرتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ کمپنیوں کو ’ایمرجنسی بریکس‘ کی ضرورت ہے جنہیں اکثر انڈسٹری میں ’کل سوئچز‘ کے نام سے جانا جاتا ہے تاکہ اگر اے آئی کسی طرح قابو سے باہر ہو جائے تو اسے روکا یا سست کیا جا سکے۔

مزید پڑھیے: مصنوعی ذہانت نے اپنے رنگ دکھانے شروع کردیے، اوپن اے آئی کا جدید ماڈل بے قابو، سائبر حملہ کردیا

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کمپنیوں کے لیے قانونی تقاضہ ہونا چاہیے کہ وہ ’انسیڈنٹ رپورٹس‘ لکھیں اور اگر ٹیکنالوجی بگڑ جائے تو متاثرین کو بتائیں۔ انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ آزاد سرکاری جائزہ کاروں کو نئی اے آئی ٹیکنالوجی کی جانچ کرنی چاہیے۔

اسمتھ نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ دوسری مصنوعات کے لیے یہ کیسے کرنا ہے، ہمیں اس علم کو بنیاد بنانا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ اسے اے آئی پر کیسے لاگو کیا جائے۔

اسمتھ نے کہا کہ برطانیہ اے آئی کے لیے ان عالمی قوانین کو آگے بڑھانے کے لیے بہترین پوزیشن میں ہے کیونکہ اس کے پاس اے آئی سیکیورٹی انسٹی ٹیوٹ ہے جسے سابق وزیر اعظم رشی سونک کی حکومت کے دوران اے آئی سیفٹی انسٹی ٹیوٹ کے طور پر لانچ کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کی دنیا اور تکنیکی صلاحیت میں رہنما ملک برطانیہ ہے۔

’وہ لمحہ آن پہنچا‘

اسمتھ کے خیالات اپنے صدر سے بہت مختلف ہیں جو سمجھتے ہیں کہ امریکا کو اے آئی پر پوری رفتار سے آگے بڑھنا چاہیے۔

ٹرمپ نے بارہا کہا تھا کہ جو اے آئی جیتے گا وہی جیتے گا۔

مزید پڑھیں: اینتھروپک کا انکشاف: مجرم کس طرح اس کے اے آئی ماڈل کلاڈ کو حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں

تاہم اسمتھ کو یقین نہیں ہے کہ امریکی حکومت برطانیہ کی قیادت میں اے آئی ریگولیشنز کی اتنی ہی مخالف ہوگی جتنا ٹرمپ کے تبصروں سے لگتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا برطانیہ کے معیارات بنانے کو یورپی یونین کے مقابلے میں زیادہ قبول کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ڈی سی میں، لوگ برطانیہ اور لندن کو اس طرح نہیں دیکھتے جیسے وہ برسلز کو دیکھتے ہیں، یہ ایک طاقت ہے۔

بریڈ اسمتھ نے کہا کہ جب آپ ایسے اے آئی ایجنٹس کو دیکھتے ہیں جو انسانی کنٹرول سے نکل گئے ہیں اور جب آپ ایسے ماڈلز کو دیکھتے ہیں جو اتنے طاقتور ہیں کہ وہ دنیا کی سائبر سیکیورٹی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں تو میں کہوں گا جکہ ’ وہ لمحہ آن پہنچا ہے‘۔

صدر مائیکروسافٹ نے کہا کہ آئیے سکون اور آہستگی سے ہی صحیح لیکن بات کریں اور لوگوں کو اکٹھا کرنا شروع کریں اور مجھے امید ہے کہ یہ وہ کردار ہے جو ہم ایک کمپنی کے طور پر ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ یہ وہ کردار ہے جو برطانیہ ایک ملک کے طور پر ادا کر سکتا ہے۔

گزشتہ ماہ کے آخر میں ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں امریکی ٹیک کمپنیوں اوپن اے آئی، اینتھروپک، اینویڈیا، اسپیس ایکس، میٹا، اور گوگل کے رہنماؤں کی میزبانی کی جہاں ایگزیکٹوز نے ایک ’اخلاقی طور پر پابند‘ دستاویز پر دستخط کیے۔

کمپنیوں نے ’آزاد آڈیٹرز‘ کے ساتھ کام کرنے پر اتفاق کیا تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ آیا ان کے اے آئی سسٹمز مطلوبہ طریقے سے کام کر رہے ہیں اور اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ غیر ارادی طریقوں سے تکنیکی نظاموں کو ہیک یا ان تک رسائی حاصل نہ کریں۔

بریڈ اسمتھ نے کہا کہ وہ اس بیان کی تعریف کرتے ہیں اور مائیکروسافٹ اس پر دستخط کرنے کے لیے خوش ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک اچھا اور ضروری قدم ہے لیکن میرے خیال میں یہ اب کافی نہیں رہا۔

یہ بھی پڑھیے: اے آئی کا پیٹ بھرنے کے لیے کتابیں جلا کر تلف کی جانے لگیں؟ علمی ذخائر کو ٹیکنالوجی سے نیا خطرہ

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی سیلف ریگولیٹری نظام کے لیے چیلنج یہ ہے کہ اچھی کمپنیاں وہی کریں گی جو آپ چاہتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جن کمپنیوں کے بارے میں آپ کو فکر کرنی چاہیے وہ وہ ہیں جو اتنی ذمہ دار نہیں ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp