افغان دہشتگردی پر رپورٹ پروپیگنڈا نہیں، کھلی حقیقت ہے، طالبان عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش نہ کریں، پاکستان

پیر 12 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے افغان طالبان رجیم کے ترجمان کی جانب سے دیے گئے بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے افغانستان کی سرزمین سے جاری دہشتگردانہ دھمکیوں اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی ) کی پناہ گاہوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق افغان طالبان رجیم کے ترجمان نے اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف جنم لینے والے دستاویزی بنیادوں پر ثابت شدہ دہشتگردی کے خطرے کو حل کرنے کے بجائے ایک بار پھر محض زبانی جمع خرچ، الزامات اور توجہ ہٹانے والے بیانیے کا سہارا لیا ہے۔

دفترخارجہ کے مطابق پاکستان کے داخلی معاملات کی طرف توجہ موڑنے کی یہ تمام تر کوششیں اس سچائی کو قطعی طور پر نہیں چھپا سکتیں کہ افغان رجیم اپنے ملک کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں اور منصوبہ بندی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

6000 ٹی ٹی پی جنگجو اور افغان طالبان کی معاونت

پاکستان نے عالمی اداروں کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم نے اپنی سولہویں رپورٹ (ایس/2025/796) میں اس بات کی باضابطہ تصدیق کی ہے کہ افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے تقریباً 6000 جنگجو موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:طالبان قیادت کے بیانات پر پاکستان کا مؤقف، افغانستان میں دہشتگردی اور حکومتی طرزِ عمل پر سوالات

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق رپورٹ میں افغان طالبان کی جانب سے اس گروپ کو ملنے والی امداد کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ ان بین الاقوامی رپورٹس کے واضح نتائج کو محض ’پاکستانی پروپیگنڈا‘ کہہ کر مسترد نہیں کیا جا سکتا، بلکہ افغان رجیم کو اس ثابت شدہ خطرے کا انکار کرنے کے بجائے عملی اور ٹھوس اقدامات کے ذریعے حل نکالنا ہوگا۔

انسانی حقوق، لڑکیوں کی تعلیم اور افغان رجیم کا طرزِ عمل

پاکستانی حکام نے افغان انتظامیہ کی جانب سے دوسروں کو گود لینے یا حکمرانی اور شہریوں کے حقوق پر نصیحتیں کرنے کی کوششوں کو سخت آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ اپنے دورِ حکومت میں لڑکیوں کی تعلیم پر مسلسل سخت پابندیاں عائد کرنے اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر مبنی ریکارڈ کے ہوتے ہوئے افغان رجیم کے یہ خطبات اور نصیحتیں مکمل طور پر کھوکھلی اور بے معنی محسوس ہوتی ہیں۔

مزید پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردی کے خلاف پاکستان اور چین یک زبان، کابل کو کیا اہم پیشکش کی؟

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ مسائل کے حل کے لیے بات چیت اور مذاکرات کا حامی رہا ہے، تاہم کسی بھی معنی خیز پیش رفت کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ افغان طالبان رجیم اپنے انسدادِ دہشتگردی کے معاہدوں پر پورا اترے اور دہشتگردوں کی پناہ گاہوں و سہولت کاروں کے نیٹ ورک کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کرے۔

پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ، قومی خودمختاری کے دفاع اور علاقائی سلامتی کے لیے بین الاقوامی قوانین کے مطابق تمام تر ضروری اقدامات اٹھائے گا۔

افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کی تمام تر ذمہ داری براہ راست افغان طالبان رجیم پر عائد ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان سے امریکی فورسز کے انخلا اور طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پاک افغان سرحد پر کشیدگی اور کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستان کے اندر دہشتگردانہ حملوں میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

پاکستان مسلسل دوطرفہ سطح پر اور عالمی فورمز پر یہ معاملہ اٹھاتا رہا ہے کہ طالبان کی سرپرستی یا چشم پوشی کے باعث ٹی ٹی پی کے شدت پسند افغان سرزمین کو بطورِ محفوظ پناہ گاہ استعمال کر رہے ہیں، جبکہ افغان حکام بارہا ان الزامات سے انحراف کرتے رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp