اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس 900 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا

منگل 13 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسٹاک ایکسچینج میں منگل کو کاروبار کے آغاز پر خریداری کا رجحان لوٹ آیا، جہاں ٹریڈنگ کے ابتدائی لمحات میں  انڈیکس میں 900 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

صبح 9 بج کر 40 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 944.43 پوائنٹس، یعنی 0.57 فیصد اضافے کے بعد 166,068.84 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔

مارکیٹ میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے شعبوں میں خریداری دیکھی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: سرمایہ کاروں کا اعتماد اسٹاک ایکسچینج میں بہتری کا باعث، کیا معیشت مستحکم ہورہی ہے؟

لکی سیمنٹ، ڈی جی خان سیمنٹ، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک، نیشنل بینک، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی، ماری انرجی اور پاکستان اسٹیٹ آئل جیسے انڈیکس پر نمایاں اثر رکھنے والےشیئرز مثبت زون میں کاروبار کرتے رہے۔

واضح رہے کہ پیر کو ملکی سیاسی بے یقینی اور علاقائی جغرافیائی کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں شدید فروخت دیکھی گئی تھی۔

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی غیر یقینی سمیت علاقائی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو حصص میں اپنی سرمایہ کاری کم کرنے پر آمادہ کیا۔

گزشتہ روز یعنی پیر کو کے ایس ای 100 انڈیکس 1,964.87 پوائنٹس، یعنی 1.18 فیصد گر کر 165,124.41 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

عالمی مارکیٹوں میں مندی، تیل کی قیمتیں بلند

دوسری جانب عالمی مالیاتی منڈیوں میں منگل کو محتاط رجحان غالب رہا، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتیں بلند رہنے سے ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی، جبکہ سرمایہ کاروں کی توجہ امریکی کمپنیوں کے مالی نتائج پر مرکوز رہی۔

عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 105.9 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جو تقریباً 2 ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔

مزید پڑھیں: عالمی کشیدگی میں کمی کی امید، پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تیزی

مشرق وسطیٰ اور روس یوکرین تنازع سے متعلق پیش رفت توانائی کی قیمتوں اور عالمی سرمایہ کاری کے رجحانات پر اثرانداز ہو رہی ہے۔

ایشیائی مارکیٹوں میں جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کی نمائندگی کرنے والا ایم ایس سی آئی انڈیکس ابتدائی کاروبار میں 2 فیصد گر گیا، جبکہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص پر مشتمل جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 6 فیصد نیچے آگیا۔

تعطیل کے بعد کاروبار بحال ہونے پر جاپان کا نکی انڈیکس بھی 2.6 فیصد گر گیا۔

امریکا میں بھی ٹیکنالوجی حصص دباؤ کا شکار رہے اور پیر کی رات نیسڈیک انڈیکس 0.5 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا۔

امریکا اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑھتے ہوئے مقابلے اور اس شعبے میں حصص کی حالیہ تیزی برقرار رہنے سے متعلق خدشات کے باعث سرمایہ کار محتاط دکھائی دیے۔

عالمی مالیاتی منڈیوں میں محتاط ماحول کے سبب امریکی ڈالر بھی گزشتہ 18 ماہ کی بلند سطح کے قریب رہا، یورو کی قدر 1.1157 ڈالر جبکہ جاپانی ین کی قدر 158.50 فی ڈالر ریکارڈ کی گئی۔

امریکی بینکوں کے مالی نتائج پر سرمایہ کاروں کی نظریں

سرمایہ کار اس ہفتے امریکی بینکوں کے مالی نتائج کا جائزہ لیں گے تاکہ اندازہ لگایا جاسکے کہ امریکی ٹریژری بانڈز کے منافع میں حالیہ اضافے سے قرضوں کی فراہمی، کاروباری سودوں اور بینکوں کی مالیاتی لاگت پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

توانائی کی بلند قیمتوں سے مہنگائی کے دباؤ اور حکومتی قرضوں میں اضافے کے خدشات نے حالیہ ہفتوں میں عالمی بانڈ مارکیٹوں میں فروخت کے کئی ادوار کو جنم دیا، جس سے مختلف ممالک میں قرض لینے کی لاگت کئی دہائیوں کی بلند سطحوں تک پہنچ گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp