انسدادِ دہشتگردی کی عدالت (ATC) میں 9 مئی کے سانحہ کے دوران ریڈیو پاکستان پشاور پر حملے سے متعلق کیس کی سماعت جج کے چھٹی پر ہونے کے باعث پیشرفت کے بغیر ملتوی کر دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق انسدادِ دہشتگردی عدالت کے جج ولی محمد کی رخصت کے باعث کیس کی باقاعدہ کارروائی نہ ہو سکی۔۔
کیس کے تفتیشی افسر خوشحال خان عدالت میں پیش ہوئے اور چالان ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر کے پاس جمع کرایا۔ چالان میں معطل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ریڈیو پاکستان حملہ کیس: بعض ملزمان اراکین اسمبلی اس وقت بھی ایوان میں موجود ہیں، عدالت کا تحریری فیصلہ جاری
اس سے قبل 28 ستمبر کو ہونے والی سماعت میں تفتیشی افسر نے پیشرفت رپورٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے چالان جمع کرانے کے لیے مزید وقت مانگا تھا۔ عدالت نے اس وقت تفتیشی افسر کو چالان جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔
پولیس رپورٹ میں سہیل آفریدی کے علاوہ تیمور سلیم جھگڑا، کامران بنگش، عرفان سلیم اور عامر چمکنی کے نام بھی شامل کیے گئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق تحقیقات میں نادرا اور پنجاب فرانزک کی رپورٹس سمیت واقعے کی ویڈیوز اور ملزمان کی شناخت سے متعلق مواد کا جائزہ لیا گیا۔
دوسری جانب تیمور سلیم جھگڑا اس معاملے پر مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ تحقیقات 2023 میں مکمل ہو گئی تھیں اور اس وقت ان کا نام شامل نہیں تھا۔ ان کے مطابق بعد میں انہیں کیس میں نامزد کیا گیا۔
عدالت نے کیس پر مزید پیشرفت اور سماعت کو 28 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔
ریڈیو پاکستان حملہ کیس کا پس منظر
یاد رہے کہ 9 مئی 2023ء کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پرتشدد احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔ اس دوران پشاور میں واقع تاریخی اور تاریخی اہمیت کی حامل ریڈیو پاکستان کی عمارت پر مشتعل مظاہرین نے حملہ کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے سہیل آفریدی کی ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں نامزدگی: اُس دن ہوا کیا تھا؟
مظاہرین نے عمارت میں توڑ پھوڑ کی اور اسے آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں ریڈیو پاکستان پشاور کی تاریخی عمارت، جدید براڈکاسٹنگ آلات اور آڈیو آرکائیوز سمیت نایاب تاریخی ریکارڈ اور کتب جل کر خاکستر ہو گئی تھیں۔
اس واقعے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں مقدمات درج کر کے ملوث افراد اور سیاسی رہنماؤں کو چالان میں نامزد کرنا شروع کیا تھا۔













