بلغاریہ کے ساحل کے قریب 2 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سے ایک پر ڈرون حملہ کیا گیا، جبکہ دوسرا جہاز حملے کے بعد ڈوب گیا۔
بلغاریہ کے وزیراعظم رومن رادیف نے منگل کو واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان حملوں پر روسی سفیر کو طلب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بلغاریہ میں حکومت کا خاتمہ، نئی کابینہ کے لیے صدر کی مشاورت کا اعلان
وزیراعظم رومن رادیف نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا کہ یوکرین کی ملکیت والے ایک مال بردار جہاز کو 3 فضائی ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔
اس کے کچھ ہی دیر بعد ایک دوسرے جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جو بعد ازاں ڈوب گیا۔
Two vessels were struck by drones, likely Russian, today in the Black Sea just 18 miles off the coast of Bulgaria, with one vessels sinking. Rescue operations are currently underway, as at least twelve crew members, possibly Ukrainian, have been reported injured. This follows… pic.twitter.com/pyrCbOFnJX
— OSINTdefender (@sentdefender) October 13, 2026
انہوں نے ان حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی مخصوص فریق پر الزام عائد کرنے کے لیے ٹھوس اور واضح شواہد موجود نہیں، تاہم ان کے بقول، حالات کا منطقی جائزہ اس امکان کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ ان واقعات کا فائدہ روسی فیڈریشن کو پہنچتا ہے۔
رادیف نے پہلے جہاز کی شناخت مالٹا کے پرچم تلے چلنے والے مال بردار جہاز چیلسی 3 کے نام سے کی۔
ان کے مطابق، جہاز پر سوار عملے کے تمام 15 ارکان کو بحفاظت بچا لیا گیا، جن میں سات یوکرینی اور آٹھ آذربائیجانی شہری شامل تھے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور بلغاریہ کا مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق
بلغاریہ کے وزیراعظم نے بتایا کہ دوسرے جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا اور اس کے عملے کے ایک رکن کو بچا لیا گیا، تاہم انہوں نے دوسرے جہاز کی شناخت اور واقعے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
دوسری جانب، یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سِبیہا نے ان حملوں کا براہِ راست الزام روس پر عائد کرتے ہوئے ماسکو پر شہریوں کی زندگیوں اور بحیرۂ اسود کی بحری سلامتی کو دانستہ طور پر نظرانداز کرنے کا الزام لگایا۔
مزید پڑھیں: لندن سے چوری ہو کر کراچی سے برآمد قیمتی گاڑی بلغاریہ کے سپرد کرنے کا فیصلہ
انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ بحیرۂ اسود عالمی غذائی تحفظ کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ روس اسے بھوک کو ہتھیار بنانے اور دنیا کو دباؤ میں رکھنے کے لیے نشانہ بنا رہا ہے۔
یہ واقعات ایسے وقت پیش آئے ہیں جب گزشتہ ہفتے بھی بلغاریہ کے ساحل کے قریب بحیرۂ اسود میں 2 تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔














