صدر مملکت آصف زرداری نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس صاحبان کو بیرون ملک دوروں کے لیے رخصت اور نو آبجیکشن سرٹیفکیٹس جاری کرنے کی منظوری دیدی ہے۔
ایوانِ صدر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدر زرداری نے چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کے غیر ملکی دوروں کی منظوری دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس کی زیر صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس، 59 شکایات کا جائزہ لیا گیا
بیان میں کہا گیا کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی 14 سے 21 اکتوبر اور پھر 27 اکتوبر سے 4 نومبر تک برطانیہ، جنوبی کوریا اور جاپان کا دورہ کریں گے۔
وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان 19 سے 22 اکتوبر تک آذربائیجان جائیں گے، جہاں وہ ترک دنیا کی آئینی عدالتوں اور آئینی دائرۂ اختیار رکھنے والے اداروں کی کانفرنس ’ترک اے وائی‘ میں شرکت کریں گے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی وزیراعظم کے مشورے پر چیف جسٹس آف پاکستان کے برطانیہ، جنوبی کوریا اور جاپان کے دوروں کے لیے این او سی اور بیرونِ پاکستان رخصت کی منظوری۔
چیف جسٹس آف پاکستان 14 سے 21 اکتوبر اور 27 اکتوبر سے 4 نومبر 2026 تک برطانیہ، جنوبی کوریا اور جاپان کے دورے پر…
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) October 12, 2026
وفاقی آئینی عدالت کو رواں سال جولائی میں اس فورم میں مبصر کی حیثیت سے شامل کیا گیا تھا۔ یہ فورم تقریباً 4 سال قبل قائم ہوا تھا۔
سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس صاحبان کو رخصت دینے کے لیے صدر مملکت متعلقہ قواعد کے تحت مجاز اتھارٹی ہیں۔
یہ اختیار بالترتیب 1997 اور 2025 کے ان احکامات میں دیا گیا ہے جو متعلقہ عدالتوں کے ججوں کی رخصت، پینشن اور مراعات سے متعلق ہیں۔
مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ، 1985 سے جاری جائیداد تنازع ختم
ان ہی قواعد کے تحت دونوں عدالتوں کے چیف جسٹس اپنے اپنے اداروں کے دیگر ججوں کی رخصت منظور یا مسترد کرنے کے مجاز ہیں۔
وہ پہلے سے منظور شدہ رخصت منسوخ یا اس کی مدت میں کمی بھی کر سکتے ہیں۔
اپریل 2025 میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے چین کے شہر ہانگ ژو میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی سپریم کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کی 20ویں کانفرنس میں پاکستانی وفد کی قیادت کی تھی۔
اسی سال جون میں جسٹس امین الدین خان نے روس میں منعقدہ 14ویں سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل لیگل فورم میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔














