مصنوعی ذہانت یا اے آئی اب صرف معلومات حاصل کرنے یا تحریری کاموں تک محدود نہیں رہی بلکہ قانونی معاملات میں بھی لوگوں کی معاون بن رہی ہے بس اب ’اس کا ایک کالا کوٹ پہننا‘ ہی باقی رہ گیا۔ اس کی ایک دلچسپ مثال برطانیہ میں سامنے آئی ہے جہاں ایک شہری نے پارکنگ جرمانے کے خلاف تقریباً 3 سال تک جاری رہنے والی قانونی جنگ میں چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے کامیابی حاصل کرلی۔
یہ بھی پڑھیں: سال 2027: روبوٹس دنیا بدل دیں گے؟ ’چیٹ جی پی ٹی لمحے‘ کی پیشگوئی
45 سالہ رافل گورال اگست 2023 میں برطانیہ کے علاقے نیوکوی کے ساحلی مقام پر سیر کے لیے گئے تھے جہاں انہوں نے ایک پارکنگ ایریا میں گاڑی کھڑی کی۔
ان کے مطابق پارکنگ فیس جمع کرانے والی مشین کے سامنے طویل قطار تھی اور مشین کارڈ کے ذریعے ادائیگی قبول نہیں کر رہی تھی جس کے باعث انہیں موبائل ایپ کے ذریعے ادائیگی کرنا پڑی۔
تاہم پارکنگ ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے، اکاؤنٹ بنانے اور انٹرنیٹ سگنلز کی کمزوری کے باعث ادائیگی مکمل کرنے میں وقت لگ گیا۔ 2 ہفتے بعد انہیں پارکنگ کمپنی اسمارٹ پارکنگ لمیٹڈ کی جانب سے 100 پاؤنڈ جرمانے کا نوٹس موصول ہوا جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ انہوں نے گاڑی پارکنگ میں داخل ہونے کے 16 منٹ بعد فیس ادا کی۔
رافل نے جرمانے کے خلاف اپیل دائر کی تاہم ان کے مطابق انہیں اس کا کوئی جواب نہیں ملا۔ اس کے بجائے جنوری میں قرضوں کی وصولی کرنے والی ایک کمپنی کی جانب سے 170 پاؤنڈ کی ادائیگی کا مطالبہ موصول ہوگیا۔
مزید پڑھیے: اے آئی چیٹ بوٹ ’اپنی والدہ‘ کو یاد کرکے جذباتی، صارفین دنگ
ان کا کہنا تھا کہ انہیں مسلسل خطوط بھیجے جاتے رہے اور عدالت میں پیش ہونے کی دھمکیاں بھی دی گئیں جس سے وہ خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
چیٹ جی پی ٹی نے کیسے مدد کی؟
رافل نے اس دوران چیٹ جی پی ٹی سے مدد لینے کا فیصلہ کیا۔ وہ جرمانے اور قانونی کارروائی سے متعلق موصول ہونے والے ہر خط اور ای میل کو مصنوعی ذہانت کے اس نظام پر اپ لوڈ کرتے اور پوچھتے کہ انہیں اس کا کیا جواب دینا چاہیے۔
چیٹ جی پی ٹی انہیں جوابات تیار کرنے، متعلقہ اداروں سے رابطے اور قانونی کارروائی کے مختلف مراحل کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتا رہا۔ یہاں تک کہ اس نے ان کے لیے عدالت میں جمع کرانے کے لیے دفاعی مؤقف بھی تیار کیا۔
مزید پڑھیں: کتنے فیصد بالغ امریکی اے آئی چیٹ بوٹس سے نجی گفتگو کرتے ہیں؟
رافل کے مطابق انہوں نے ہر مرحلے پر مصنوعی ذہانت کی مدد حاصل کی اور اسی کی تیار کردہ دستاویزات عدالت کو بھیجیں۔
اس دوران وہ قرضوں کی وصولی کرنے والی کمپنیوں سے بھی رابطے میں رہے۔ تقریباً 4 ماہ تک خط و کتابت جاری رہنے کے بعد مقدمہ عارضی طور پر روک دیا گیا تاہم ڈیڑھ سال تک خاموشی کے بعد نومبر 2025 میں انہیں ایک دوسری وصولی کمپنی کی جانب سے نیا خط موصول ہوا۔
اس بار انہیں بتایا گیا کہ مقدمے کی سماعت اکتوبر 2026 میں ہوگی اور انہیں اپنا دفاع تیار رکھنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: اے آئی چیٹ بوٹ کے چکمے: صارف ہتھوڑا لے کر جنگ کے لیے نکل پڑا، چشم کشا رپورٹ
مقدمے کے حل کے لیے ایک ثالث بھی مقرر کیا گیا جس کے ذریعے پارکنگ کمپنی نے مبینہ طور پر جرمانہ 60 پاؤنڈ تک کم کرنے کی پیشکش کی، لیکن رافل نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا۔
عدالت جانے سے چند ہفتے پہلے جرمانہ منسوخ
رافل کے مطابق وہ عدالت میں مقدمہ لڑنے کے لیے پوری طرح تیار تھے تاہم سماعت سے چند ہفتے قبل 25 ستمبر کو انہیں ای میل موصول ہوئی جس میں بتایا گیا کہ مقدمہ اور جرمانہ دونوں ختم کردیے گئے ہیں۔
اس وقت تک جرمانے اور دیگر واجبات کی مجموعی رقم بڑھ کر تقریباً 300 پاؤنڈ ہوچکی تھی۔
رافل کا کہنا تھا کہ وہ اس کامیابی پر بے حد خوش ہیں کیونکہ یہ معاملہ تین سال تک ان کے لیے ذہنی پریشانی کا باعث بنا رہا۔
مزید پڑھیں: ’ٹیکن فار گرانٹڈ‘ والا معاملہ اے آئی میں بھی؟ زیادہ دوستانہ چیٹ بوٹس کم قابل بھروسا، نئی تحقیق
ان کے بقول یہ معاملہ کبھی رقم کا نہیں تھا کیونکہ وہ جرمانہ ادا کرنے کی استطاعت رکھتے تھے بلکہ اصل مسئلہ اصول کا تھا۔ اگر کسی شخص کو یقین ہو کہ وہ درست ہے تو اسے محض دباؤ کی وجہ سے رقم ادا نہیں کرنی چاہیے۔
انہوں نے اپنی جدوجہد کو ’ڈیوڈ اور جالوت کی لڑائی‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف بڑی کمپنی تھی جس کے پاس وکلا تھے جبکہ دوسری طرف وہ تنہا تھے لیکن بالآخر کمپنی کو پیچھے ہٹنا پڑا۔
رافل نے مزید بتایا کہ انہوں نے شہریوں کے لیے قائم ایک مشاورتی ادارے سے بھی کئی مرتبہ رابطہ کیا تھا لیکن ان کے خیال میں مصنوعی ذہانت سے ملنے والی مدد زیادہ کارآمد ثابت ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ بھی جانیں کہ اگر انہیں یقین ہے کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو انہیں اپنے حق کے لیے آواز اٹھانی چاہیے اور ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔
مزید پڑھیے: ریٹائرڈ افراد کا رجحان اے آئی چیٹ بوٹس کی جانب کیوں بڑھ رہا ہے؟
واضح رہے کہ اے آئی چیٹ بوٹس کے مختلف ہلکے پھلکے معاملات میں مشورے اچھے بھی ہوتے ہیں لیکن بہرحال ان کی ہر بات پر آنکھ بند کرکے یقین کرلینا بھی کوئی بہت زیادہ مناسب نہیں۔ ان کی باتوں و مشوروں کو کراس چیک کرلینا ہی سمجھداری ہے کیوں کہ اکثر ایسی مثالیں بھی سامنے آئی ہیں کہ چیٹ بوٹس نے لوگوں کو غلط مشورے دے کر الٹا پھنسوایا بھی ہے۔














