میری موت، میری مرضی

پیر 12 اکتوبر 2026
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فلسطینی نژاد سابق امریکی میجر نضال حسن کی سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے 3 دسمبر 2026 کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ نضال حسن نے نومبر 2009 میں ٹیکساس کے امریکی فوجی اڈے فورٹ ہڈ میں فائرنگ کرکے 13 امریکی فوجیوں کو قتل جبکہ 33 کو زخمی کیا تھا۔ نضال کو 2013ء میں فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی، جس کی حال ہی میں صدر ٹرمپ نے منظوری دی ہے۔ صدر ٹرمپ صرف سزائے موت کی منظوری تک نہیں رہے بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر یہ فیصلہ بھی کردیا ہے کہ نضال حسن کو سزائے موت فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے دی جائے گی۔ ابھی اس پر تنازع شروع ہی ہوا تھا کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے یہ کہہ کر سب کو چونکا دیا ہے کہ سزائے موقت پر عمل درآمد کا منظر لائیو دکھایا جائے گا۔

بظاہر یہ امریکا میں سرزد ہونے والے ایک جرم کی سزا کا معاملہ ہے لیکن واضح نظر آرہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں خواری کا سامنا کرنے والی ٹرمپ انتظامیہ اس ایونٹ کے ذریعے اپنی بھڑاس نکالنے کی کوشش میں ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے فائرنگ اسکواڈ اور سزا کی لائیو نشریات کے فیصلے کو امریکا کے قانونی ہی نہیں ملٹری حلقوں کی جانب سے بھی شدید تنقید کا سامنا ہے۔ لائیو نشریات پر تنقید کی اہم وجہ یہ ہے کہ امریکا کے ایک عدالتی فیصلے کے نتیجے میں قتل کا کوئی منظر عوامی سطح پر دکھانا ممنوع ہے۔ جبکہ فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزا دینے کے فیصلے کو امریکی روایات کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ کئی سابق امریکی فوجی افسروں کا کہنا ہے کہ یہ سزا نہیں دی جا رہی بلکہ اسے انتقام اور توہین کا رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ پورا معاملہ اس وقت بین الاقوامی سوشل میڈیا پر گرم بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ عین اسی طرح کی صورتحال 80 سال قبل نیورمبرگ کے اس انٹرنیشنل ملٹری ٹریبیونل کی سنائی گئی ایک سزائے موت کے نتیجے میں بھی پیدا ہوئی تھی۔ اور اس انجام سے دوچار ہوئی تھی جو امریکا کے لیے ایک ایسی ہزیمت کا باعث بنی تھی، جس کے اثر سے آج بھی امریکی نہیں نکل سکے۔ آیئے 80 برس پیچھے جا کر نیورمبرگ کا وہ پورا منظر نامہ دیکھتے ہیں۔

یکم اکتوبر 1946 کو نیورمبرگ کے انٹرنیشنل ملٹری ٹربیونل میں دوپہر 2 بج کر 47 منٹ پر ٹربیونل کے صدر جج سر جیوفرے لارنس نے ہرمن گورنگ کا نام پکارا تو گورنگ ہیڈ فون اتار کر کھڑا ہوگیا۔ گورنگ کی اہمیت یہ تھی کہ وہ نازی جرمنی میں ہٹلر کے بعد دوسرا طاقتور شخص تھا۔  یوں ہٹلر کی خود کشی کے بعد اتحادیوں کے لیے اس کی علامتی حیثیت غیر معمولی تھی۔ پچھلے گیارہ ماہ سے اس کے خلاف مقدمے کی سماعت جاری تھی، جس میں اب فیصلے کی گھڑی آپہنچی تھی۔

جسٹس  لارنس نے فیصلہ سنانا شروع کیا تو  اس فیصلے میں تمام جرائم کی تفصیل درج تھی۔ جن کے چار بڑے عنوانات تھے۔ امن کے خلاف مجرمانہ سازش میں شرکت، امن کے خلاف جارحانہ جنگ، جنگی جرائم، اور انسانیت کے خلاف جرائم۔ ٹربیونل نے ان جرائم کی پاداش میں ہرمن گورنگ کو سزائے موت بذریعہ پھانسی کی سزا سنائی۔ گورنگ نے سزا سنی اور خاموشی سے اپنی نشست پر واپس بیٹھ گیا۔

7 اکتوبر 1946 کو  گورنگ ٹربیونل کے نام خط لکھتا ہے۔ اور موقف اختیار کرتا ہے کہ پھانسی کسی فوجی افسر کے لیے باعث ذلت سزا ہے۔ لہذا مجھے سزائے موت فائرنگ سکواڈ کے ذریعے دی جائے۔ وہ سابقہ مثالوں اورفوجی روایات کا ہی حوالہ نہیں دیتا بلکہ ایک عام مجرم کو دی جانے والی سزا اور فوجی انصاف کے درمیان فرق کو بھی واضح کرتا ہے۔ وہ ایڈمرل بنگ کے مقدمے کا ذکر کرتا ہے، جسے 1757ء میں برطانوی بحریہ نے سزائے موت دی تھی۔ وہ خود جرمن مسلح افواج، یعنی ویرماخت، کے افسران کو سزائے موت دینے کے ضابطوں کا حوالہ بھی دیتا ہے۔ اس طرح وہ اپنی عزت و وقار کے تحفظ کے لیے ایک مدلل قانونی موقف پیش کرتا ہے۔ لیکن عدالت اس درخواست کو مسترد کردیتی ہے۔

اتحادیوں کی مجلس کنٹرول، یعنی چاروں بڑی اتحادی طاقتوں کا وہ ادارہ جو مقبوضہ جرمنی کی نگرانی کر رہا تھا، حکم جاری کرتی ہے کہ موت کی تمام سزاؤں پر نیورمبرگ جیل کے جمنازیم میں 16 اکتوبر 1946 کو پھانسی کی صورت عمل درآمد کیا جائے گا۔ گورنگ کو یہ جواب 9 اکتوبر کو موصول ہوتا ہے۔ دو دن تک وہ کچھ نہیں کہتا۔ معمول کے مطابق کھانا کھاتا ہے، مطالعہ کرتا ہے اور محافظ کے ساتھ شطرنج کھیلتا ہے۔ امریکی ماہرِ نفسیات گلبرٹ اس سے ملاقات کرتا ہے اور اسے غیر معمولی طور پر پرسکون، لاتعلق، بلکہ تقریباً مطمئن پاتا ہے۔ گلبرٹ اعلیٰ حکام کو رپورٹ بھیجتا ہے

’گورنگ نے کسی معاملے میں کوئی فیصلہ کر لیا ہے، لیکن وہ یہ نہیں بتائے گا کہ وہ فیصلہ کیا ہے۔‘

 11 اکتوبر 1946 کو گورنگ کا وکیل اوٹو شٹاہمر اتحادی مجلس کنٹرول کے سامنے آخری اپیل دائر کرتا ہے۔ اپیل میں قانونی طریقہ کار کی بنیاد پر اعتراض اٹھایا جاتا ہے  کہ آیا بعد میں بنائے گئے قانون کے تحت کسی شخص کو ماضی کے اعمال پر موت کی سزا دی جا سکتی ہے ؟ مجلس کنٹرول 13 اکتوبر کو یہ اپیل مسترد کر دیتی ہے۔ گورنگ کو یقین ہوگیا کہ پھانسی کا طریقہ اسے ذلیل کرنے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جرمن سلطنت کے فیلڈ مارشل کو ایک عام مجرم کی سطح پر لا کھڑا کیا جائے، اسے رسی سے لٹکتا ہوا دکھایا جائے، اس کی موت کی تصاویر اتاری جائیں اور انہیں اتحادیوں کی فتح کے علامت کے طور پر تاریخ کا حصہ بنا دیا جائے۔

کوئی نہیں جانتا تھا کہ گورنگ اتحادیوں کی اس طرح کی کسی حسرت کا توڑ دامن میں لیے جیل آیا تھا۔ اس کی کوٹھڑی میں کہیں ایک چھوٹا سا پیتل کا خول چھپا ہے، جس کے اندر پوٹاشیم سائنائیڈ ہے۔ یہ خول گیارہ ماہ سے سینکڑوں تلاشیوں کے باوجود محفوظ رہا ہے۔ فیلڈ مارشل کے طور پر اسے عام قیدیوں کے برخلاف کچھ رعایتیں بھی حاصل تھیں۔ جن میں ذاتی استعمال کی کچھ مخصوص اشیا ساتھ لانے کی اجازت شامل تھی۔ گورنگ اسی سامان میں کیپسول چھپائے بیٹھا تھا۔

15 اکتوبر 1946ء رات 10 بج کر 44 منٹ پر ہرمن گورنگ نیورمبرگ جیل کی کوٹھڑی نمبر 5 میں پیتل کے اس خول کو  توڑتا ہے۔ اور اسے منہ میں انڈیل دیتا ہے۔ یہ زہر اثر دکھانے میں تین منٹ لیتا ہے۔  رات 10 بج کر 47 منٹ پر گورنگ کا دل دھڑکنا بند کر دیتا ہے۔  10 بج کر 50 منٹ پر امریکی فوج کا سنتری کوٹھڑی میں جھانک کر دیکھتا ہے۔ اسے گورنگ اپنی چارپائی پر بے حس و حرکت پڑا ملتا ہے۔ اس کا منہ قدرے کھلا ہوا ہے اور فضا میں کڑوے بادام جیسی بو پھیلی ہوئی ہے۔ اس کی پھانسی رات ایک بجے مقرر ہے۔ یعنی ابھی دو گھنٹے دس منٹ باقی ہیں۔

موت کی سزا پانے والے دیگر دس افراد بھی اپنی اپنی کوٹھڑیوں میں انتظار کر رہے ہیں۔ پھانسی گھاٹ جمنازیم میں تیار ہو چکا ہے۔ لکڑی کا ایک چبوترہ، تیرہ سیڑھیاں، اور پھانسی کا تختہ، جسے ریت کی بوریوں سے آزمایا جا چکا ہے۔ سرکاری فوٹوگرافر اپنے آلات کے ساتھ تیار ہیں۔ چاروں اتحادی ممالک کے فوجی گواہ راستے میں ہیں۔ خبر رساں اداروں کے کیمرے اپنی جگہ نصب ہیں۔ یعنی ریاستی اختیار کے تحت پھانسی دینے کا پورا انتظام تیار ہے، جس کا مقصد تیسری رائخ کی تاریخ کا آخری باب لکھنا ہے۔

رات 11 بج کر 15 منٹ پر جیل کے کمانڈنٹ، کرنل برٹن اینڈرس گورنگ کی کوٹھڑی میں داخل ہوتا ہے تو اسے گورنگ نہیں اس کی لاش ملتی ہے۔ وہ جیل کو مکمل طور پر بند کرنے کا حکم دیتا ہے، موت کی طبی تصدیق کے لیے ڈاکٹرز کو بلایا جاتا ہے، اور پھر اس تحقیقات کا آغاز ہوجاتا ہے جو آنے والے کئی ماہ تک امریکی فوج کو مصروف رکھے گی، مگر ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ زہر کا خول کہاں سے آیا؟ سینکڑوں تلاشیوں کے باوجود وہ کیسے بچا رہا؟ کیا کسی نے گورنگ کی مدد کی تھی؟ امریکی فوج کو کبھی ان سوالات کے تسلی بخش جواب نہیں مل سکیں گے۔

اس رات دیگر 10 مجرموں کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کردیا جاتا ہے۔  لاشوں کی تصاویر اتاری جاتی ہیں۔ اور انہیں دنیا بھر کے خبر رساں اداروں کو جاری کر دیا جاتا ہے۔ لیکن اصل کہانی ان دس آدمیوں کی نہیں جنہوں نے اتحادیوں کی طے کردہ شرائط کے مطابق موت پائی۔ اصل کہانی اس ایک آدمی کی ہے جس نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ گورنگ نے دو خطوط چھوڑے تھے۔ ایک اپنی بیوی کے نام، جس میں اس نے بعد از مرگ زندگی میں دوبارہ ملنے کا وعدہ کیا تھا۔ دوسرا خط جیل کمانڈنٹ کرنل اینڈرس کے نام۔ گورنگ نے کمانڈنٹ کو مخاطب کرکے لکھا تھا:

’میں تمہیں مجھے پھانسی دینے دیتا، لیکن جرمنی کی عزت کا تقاضا تھا کہ میں تم کو یہ اطمینان حاصل نہ کرنے دوں۔ جرمن رائخ کا فیلڈ مارشل کسی عام مجرم کی طرح پھانسی نہیں دیا جا سکتا تھا۔ میں نے جلاد کو مات دے دی ہے۔‘

اتحادی تمام گیارہ لاشوں کو، گورنگ سمیت، ایک ساتھ جلاتے ہیں اور ان کی راکھ میونخ کے قریب دریائے کونونٹ کی ایک ندی میں بکھیر دیتے ہیں۔ نہ کوئی قبر، نہ کوئی یادگار، نہ کوئی ایسا مقام جہاں مستقبل میں نازیوں کے عقیدت مند جمع ہو سکیں۔ لیکن گورنگ وہ حاصل کر لیتا ہے جو وہ چاہتا تھا، یعنی اپنے آخری لمحے پر اپنا اختیار۔ گردش کرنے والی تصاویر میں دس پھانسی پانے والے افراد پھندوں پر لٹکے دکھائی دے رہے تھے، جبکہ ایک شخص کی لاش چارپائی پر پڑی تھی۔ یہ فرق اہم ہے، کیونکہ ہرمن گورنگ نیورمبرگ کسی مقدمے میں کامیابی حاصل کرنے نہیں آیا تھا۔ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا تھا کہ تیسری رائخ کے دوسرے سب سے طاقت ور شخص کو تاریخ کسی جمنازیم میں رسی سے لٹکا ہوا یاد نہ رکھنے پائے۔

گورنگ کا آخری اقدام  نظام کی یہ بے بسی ظاہر کرتا ہے کہ آپ نتائج کو اپنے قابو میں رکھ سکتے ہیں، فیصلوں پر عمل درآمد کرا سکتے ہیں اور ریاضیاتی صحت کے ساتھ کسی کے جرم کا ریکارڈ مرتب کر سکتے ہیں۔ لیکن آپ کسی شخص کو مجبور نہیں کر سکتے کہ وہ اسی کہانی کو قبول کرے جو آپ نے اس کے لیے لکھی ہے۔ اس رات اتحادیوں نے دس آدمیوں کو پھانسی دی۔ انہوں نے گیارہ لاشوں کی تصاویر اتاریں، انہیں جلایا اور ان کی راکھ بکھیر دی۔ لیکن ان میں سے ایک شخص نے اپنے اختتام کا انتخاب خود کیا۔ یہ فرق نہایت معمولی دکھائی دیتا ہے۔ مگر یہ معمولی فرق بھی یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ انصاف اور اختیار کے درمیان موجود فاصلہ کبھی نہیں مٹتا، وہ باقی رہتا ہے، قائم رہتا ہے۔

گورنگ کے استدلال میں یہ بنیادی مفروضہ چھپا ہوا تھا کہ فوجی ہونا محض ایک پیشہ نہیں، ایک الگ مرتبہ ہے،  اس مرتبے کے حامل شخص کی موت بھی عام مجرم کی موت سے مختلف ہونی چاہیے۔  گورنگ خود کو فوجی افسر کی حیثیت سے دیکھ رہا تھا۔ عدالت اسے جنگی جرائم کا مجرم دیکھ رہی تھی۔  گورنگ اپنی موت میں بھی فوجی افسر رہنا چاہتا تھا،  عدالت اس کی موت کو اس کے فوجی مرتبے سے مستثنیٰ رکھنا چاہتی تھی۔ مگر اس واقعے کا سب سے قابل غور پہلو یہ ہے کہ ایک شخص اپنی پوری زندگی طاقت کے ذریعے دوسروں کی تقدیر طے کرتا رہا، لیکن آخری مرحلے پر اس کی ساری جدوجہد اس ایک نکتے پر سمٹ گئی کہ اس کی اپنی موت کس عنوان کے تحت لکھی جائے ؟  گورنگ کی دلیل میں ایک عجیب خود اعتمادی بھی تھی۔ گویا فوجی وردی اتار لینے، عہدہ چھین لینے اور مجرم قرار دے دینے سے بھی اس کی اپنی نظر میں اس کی فوجی شناخت ختم نہیں ہوئی تھی۔

 اس کالم کا مقصد ہرمن گورنگ کو گلوریفائی کرنا ہرگز نہیں۔ وہ انسانی تاریخ کے سنگین ترین جنگی جرائم میں برابر کا حصے دار تھا۔ مگر نیورمبرگ میں  آخری رات اس نے جو کیا، وہ  آخری دم تک مزاحمت کی بڑی تاریخی علامات میں سے ایک ہے۔

ایسے میں یہ سوال بہت اہم ہوجاتا ہے کہ اگر ہرمن گورنگ اکتوبر 1946 کی بجائے اس رواں اکتوبر 2026ء میں کھڑا ہوتا تو ٹرمپ کے فائرنگ سکواڈ والے فیصلے پر اطمینان ظاہر کرتا یا ٹرمپ سے بھی اس کی حسرت چھین ڈالتا؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp