بلوچستان: 60 فراری پہاڑوں سے اتر کر قومی دھارے میں شامل، ماضی میں کب کب مسلح افراد نے ہتھیار ڈالے؟

جمعرات 15 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان میں فراریوں کی قومی دھارے میں واپسی کا سلسلہ جاری ہے، ڈیرہ بگٹی میں 20 سال سے پہاڑوں میں روپوش فراری کمانڈر نور خان بگٹی نے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت مجموعی طور پر 60 افراد کے ہمراہ ہتھیار ڈال کر ریاست پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھا لیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے سامنے نور خان بگٹی اور ان کے ساتھیوں نے 11 اکتوبر کو پاکستان ہاؤس سوئی میں ہتھیار ڈالے۔

مزید پڑھیں: کچے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن جاری، انتہائی مطلوب ڈاکو نے ہتھیار ڈال دیے

یہ پیشرفت وزیراعلیٰ کی سوئی میں منعقدہ کھلی کچہری کے دوران سامنے آئی۔ حکومتی اعلامیے کے مطابق نور خان بگٹی گزشتہ 20 سال سے پہاڑوں میں روپوش تھے اور ماضی میں متعدد دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔

قومی دھارے میں واپسی کے بعد نور خان بگٹی اپنے خاندان سمیت سوئی میں آباد ہوں گے۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر کہاکہ ریاست پاکستان سے وفاداری، آئین و قانون کی پاسداری اور قومی یکجہتی پائیدار امن اور ترقی کی بنیاد ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام امن، ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں، جبکہ تشدد اور بدامنی کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ صوبے میں دیرپا امن کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ معاشرے کے تمام طبقات کا تعاون بھی ضروری ہے۔

گزشتہ برسوں میں کب کب فراریوں نے ہتھیار ڈالے؟

دسمبر 2023 میں بلوچ نیشنلسٹ آرمی کے کمانڈر سرفراز بنگلزئی، المعروف مرید بلوچ نے اپنے 70 ساتھیوں سمیت ریاست کے سامنے ہتھیار ڈالنے اور قومی دھارے میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔

کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہاکہ وہ تشدد کا راستہ ترک کرکے صوبے اور ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔

دسمبر 2025 میں ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی میں مقامی علیحدگی پسند رہنما وڈیرہ نور علی چکرانی نے 100 سے زیادہ ساتھیوں کے ہمراہ ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔

اسی طرح فروری 2026 میں میرک خان چکرانی نے اپنے 24 ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال دیے۔ مجموعی طور پر 25 افراد نے ہتھیار ڈالنے کے بعد چکرانی پیس فورس میں شمولیت کا اعلان کیا۔

ان چار نمایاں واقعات میں کم از کم 256 افراد ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں واپس آچکے ہیں۔

ہتھیار ڈالنے کے اعلانات کے بعد اصل چیلنج کیا ہے؟

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بلوچستان میں مختلف اوقات میں فراری کمانڈروں اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کے اعلانات ریاستی سطح پر امن اور مفاہمت کی کوششوں کا اہم پہلو ہیں۔

تاہم ان کے مطابق ان واقعات کی مجموعی اہمیت جانچنے کے لیے صرف ہتھیار ڈالنے والوں کی تعداد کافی نہیں، بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ قومی دھارے میں واپس آنے والے افراد کس حد تک پُرامن شہری زندگی اختیار کرتے ہیں، ان کی آبادکاری اور روزگار کے کیا انتظامات ہوتے ہیں اور ان کے علاقوں میں تشدد کے واقعات میں کتنی کمی آتی ہے۔

مزید پڑھیں: کشمور، کچے کے متعدد ڈاکوؤں نے رینجرز اور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے

’اسی طرح پائیدار امن کے لیے قانون کی یکساں عملداری، مقامی آبادی کے تحفظات کا حل، تعلیم و روزگار کے مواقع اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد میں اضافہ بھی اہم عوامل ہیں۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp