مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات، روس یوکرین جنگ اور عالمی معاشی مشکلات کے باوجود انطالیہ کی سیاحت کی صنعت مستحکم رہی، اکتوبر میں نسبتاً کم قیمتیں اور موسمِ خزاں کی تعطیلات سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔
ترکیہ کے معروف سیاحتی شہر انطالیہ میں 2026 کے آغاز سے اب تک تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ غیر ملکی سیاح پہنچ چکے ہیں۔ سیاحت کے شعبے سے وابستہ نمائندوں کے مطابق خطے میں جاری تنازعات اور یورپ میں معاشی سست روی کے باوجود شہر نے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے چین کا ’اسکائی آئی‘ سائنسی منصوبہ، دور افتادہ گاؤں سیاحت اور ترقی کا نیا مرکز بن گیا
بحیرۂ روم کے سیاحتی ہوٹل مالکان اور آپریٹرز کی تنظیم (اے کے ٹی او بی) کے صدر کان کاسف کاوالوگلو نے اناطولو ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 5 فیصد کمی ہوئی، تاہم مجموعی طور پر سیاحتی سیزن کامیاب رہا۔
ان کے مطابق روس اور یوکرین کے درمیان 5 سال سے جاری جنگ نے بھی سیاحت کے شعبے کو متاثر کیا، تاہم اس سال یوکرین، ازبکستان اور ہنگری سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے دیگر منڈیوں میں کمی کے اثرات کسی حد تک کم ہوئے۔
کاوالوگلو کا کہنا تھا کہ جرمنی میں موسمِ خزاں کی تعطیلات جاری ہیں، جبکہ برطانوی اور روسی سیاح بھی اس عرصے میں چھٹیاں گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اکتوبر میں ہوٹلوں اور سیاحتی سہولتوں کی قیمتیں جولائی اور اگست کے مقابلے میں نسبتاً کم ہونے کے باعث سیاحوں کے لیے انطالیہ کا رخ کرنا زیادہ پرکشش ہو جاتا ہے، اگرچہ قیمتیں گرمیوں کے عروج کے سیزن جیسی نہیں ہوتیں۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان اور سری لنکا کا سیاحت، تعلیم اور ثقافت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
انہوں نے بتایا کہ انطالیہ نومبر میں اقوامِ متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس کوپ 31 (COP31) کی میزبانی بھی کرے گا، جس کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔ حکام اور سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد اس عالمی کانفرنس میں اہم شخصیات اور مہمانوں کی آمد کے پیش نظر انتظامات کر رہے ہیں۔














