جاپان کے محکمہ موسمیات کی جانب سے زلزلے کے ایک ابتدائی الرٹ میں غلطی سے 9.9 شدت کے زلزلے کی اطلاع جاری کر دی گئی، جسے بعد میں منسوخ کر دیا گیا۔ یہ الرٹ دراصل روس کے جزیرہ نما کامچٹکا میں آنے والے 6.9 شدت کے زلزلے کے بعد جاری ہوا تھا۔
جمعہ کی صبح روس کے جنوبی جزیرہ نما کامچٹکا میں ‘اوژرنوسکی’ گاؤں کے قریب 6.9 شدت کا زلزلہ آیا جس کے جھٹکے جاپان کے شہر ہاکوداتے تک محسوس کیے گئے۔ اس کے فوراً بعد جاپان کے محکمہ موسمیات نے زلزلے کا ہنگامی الرٹ جاری کیا جس میں غلطی سے زلزلے کی شدت 9.9 بتائی گئی۔
چند منٹ بعد اس انتباہ کو واپس لے لیا گیا، لیکن اس نے دنیا بھر کے ماہرین نے حساب کتاب شروع کردیا کہ اگر یہ زلزلہ واقعی 9.9 شدت کا ہوتا تو کیا ہوتا!
امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کے مطابق انسانی تاریخ کے چند شدید ترین ریکارڈ شدہ زلزلے درج ذیل ہیں:
چلی (1960ء): والدیویا زلزلہ تاریخ کا سب سے بڑا زلزلہ تھا جس میں 1,655 افراد ہلاک اور 20 لاکھ لوگ بے گھر ہوئے۔
گریٹ الاسکا زلزلہ (1964ء): 9.2 شدت کا یہ زلزلہ تقریباً 5 منٹ تک جاری رہا اور 130 افراد کی جانیں لیں۔
سوماترا زلزلہ، انڈونیشیا (2004ء): 9.1 شدت کے اس زلزلے نے بحر ہند میں سونامی پیدا کی جس سے ڈھائی لاکھ سے زائد افراد لقمہ اجل بنے۔
تؤہوکو زلزلہ، جاپان (2011ء): 9.1 شدت کے اس زلزلے نے تباہ کن سونامی کو جنم دیا اور فوکوشیما ایٹمی حادثے کا سبب بنا، جس میں 1,800 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
کامچٹکا زلزلہ، روس (1952ء): یہ دنیا کا پہلا ریکارڈ شدہ 9.0 شدت کا زلزلہ تھا جس نے ہوائی کی طرف 30 فٹ اونچی سونامی لہریں بھیجی تھیں۔
9.9 شدت کا زلزلہ آئے تو کیا ہوگا؟
امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کی شدت فالٹ لائن کی لمبائی اور رقبے پر منحصر ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق 9.9 شدت کا زلزلہ حالیہ 6.9 شدت کے زلزلے سے تقریباً 32,000 گنا زیادہ توانائی خارج کرے گا، جو 1960ء کے چلی اور 2011ء کے جاپان زلزلوں سے کہیں زیادہ ہوگی۔
اس نوعیت کے زلزلے کے لیے 3,000 سے 5,000 کلومیٹر طویل فالٹ لائن کا ٹوٹنا ضروری ہے، اور اس دوران زمین کی لرزش کم از کم پانچ منٹ یا اس سے زیادہ دیر تک جاری رہے گی۔
زمین کے جغرافیے میں تبدیلی: زلزلے کے مرکز کے قریب مکمل تباہی ہوگی اور سمندری سطح میں بڑی منتقلی دیکھی جائے گی۔ ساحلی حصوں کی زمین مستقل طور پر چند میٹر نیچے دھنس سکتی ہے یا اوپر اٹھ سکتی ہے، جس سے ساحلی نقشہ بدل جائے گا۔
زمین کے محور پر اثرات: بعض ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اتنی بڑی شدت کا واقعہ زمین کی محوری گردش کی رفتار کو (مائیکرو سیکنڈز کی حد تک) تبدیل کر سکتا ہے اور اس کے محور کو بھی جھکا سکتا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق زلزلے کی شدت ماپنے کا پیمانہ لامحدود (Open-ended) ہے، تاہم زمین کے سائز کی وجہ سے ایک عملی حد موجود ہے۔ مثال کے طور پر 12 شدت کے زلزلے کے لیے خود کرہ ارض کے سائز سے بھی بڑی فالٹ لائن درکار ہوگی۔
جاپان کا زلزلوں سے گہرا تعلق
جاپان بحر الکاہل کے ‘رنگ آف فائر’ پر واقع ہے، جو کہ 40,000 کلومیٹر پر محیط گھوڑے کی نعل کی شکل کا ایک انتہائی زلزلہ خیز اور آتش فشاں خطہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جاپانی جزائر پر اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں۔
مزید برآں، جاپان چار بڑی ٹیکٹونک پلیٹوں پسیفک، فلپائن سی، یوریشین، اور نارتھ امریکن (اوخوٹسک) پلیٹ کے ملاپ کے نقطے پر واقع ہے۔ ان پلیٹوں کی مسلسل حرکت کی وجہ سے جاپان میں ‘ماؤنٹ فوجی’ سمیت 100 سے زائد فعال آتش فشاں موجود ہیں اور یہاں سالانہ تقریباً 1,500 زلزلے محسوس کیے جاتے ہیں۔













