صبح بچے ہنسی خوشی اسکول کے لیے نکل گئے، لیکن چند گھنٹے بعد ہی ان کی لاشیں لائی گئیں۔ مائیں اب بھی ماننے کو تیار نہیں ہیں۔
یہ کہنا ہے پشاور اسکول سانحے میں جاں بحق ہونے والے بچوں محمد سنان اور محمد مبشر کے چچا حسین کا، جن کے گھر تعزیت کے لیے آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ صوبائی کونسل کے مشیر اور دیگر حکومتی عہدیداران بھی غم زدہ خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کے لیے مسلسل ان کے گھر پہنچ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور اسکول حادثہ: 12 ہزار نجی اسکولوں کی رجسٹریشن سے عمارتوں کی جانچ تک، تحقیقات کا فیصلہ
محمد حسین نے بتایا کہ ان کے خاندان کے دیگر گھروں کے بھی 3 بچے جاں بحق ہوئے۔ ‘5 بچے ہمارے خاندان کے جاں بحق ہونے والوں میں شامل ہیں۔ ہم شدید غم میں ہیں، بس دعا کریں۔’
حسین احمد نے بتایا کہ ان کے بھتیجے مبشر اور سنان دوست بھی تھے اور اسی اسکول میں ایک ساتھ پڑھتے تھے۔
کبھی اسپتال، کبھی اسکول میں تلاش کرتے رہے، لاشیں گھر پہنچا دی گئی تھیں
جاں بحق بچوں کے کزن محمد صادق نے وی نیوز کو بتایا کہ جمعرات کی صبح اطلاع ملی تو وہ سیدھا اسکول پہنچے۔ ‘اسکول میں اس وقت افراتفری تھی۔ بچے ملبے کے نیچے تھے اور گردوغبار تھا۔’
یہ بھی پڑھیں: پشاور اسکول سانحہ: خیبرپختونخوا حکومت کا اہم اقدام، نجی اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظتی جانچ کا فیصلہ
صادق بتاتے ہیں کہ وہ افراتفری کے عالم میں بچوں کی تلاش میں کبھی اسپتال تو کبھی اسکول بھاگ رہے تھے، جبکہ لاشیں گھر پہنچا دی گئی تھیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ گھروں میں قیامت کا سماں ہے۔ ‘ہم پھر بھی خود کو سنبھال رہے ہیں، ماؤں کی حالت بہت خراب ہے۔ وہ اب بھی ماننے کو تیار نہیں کہ بچے اب نہیں رہے۔’
محمد حسین کے مطابق، وہ کبھی اسکول نہیں گئے تھے اور انہیں اسکول کی حالت کے بارے میں معلومات نہیں تھیں، تاہم انہوں نے کہا کہ بچوں نے شکایت ضرور کی تھی۔ وہ بتاتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے والدین سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔ ‘ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے، ہاں تحقیقات کا انتظار ہے اور امید ہے کہ حکومت کارروائی کرے گی۔’
مزید اس ویڈیو رپورٹ میں۔۔۔












