مولانا فضل الرحمان ہمیشہ مذہب، اخلاقیات اور اصولی سیاست کی بات کرتے ہیں مگر کبھی کبھار ان کے کچھ سیاسی فیصلے چونکا دینے والے بھی ہوتے ہیں اور عوام کے لیے اس کے پیچھے چھپی مصلحت کو سمجھنا کچھ اتنا آسان نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پی ٹی آئی مولانا فضل الرحمان سے کچھ سیکھ پائے گی؟
سیاسی ناقدین کی رائے میں ان کی سیاست کا جائزہ لیا جائے تو کہیں مدارس کی رجسٹریشن کو سیاسی مذاکرات کی میز پر لانا، کہیں ماضی میں طالبان سے روابط کی بازگشت اور کہیں برسوں کے سیاسی مخالفین سے ہاتھ ملانا یہ سب کچھ مولانا کی اصولی سیاست کے بیانیے سے لگا کھاتا دکھائی نہیں دیتا۔
سال 2024 میں مدارس کی رجسٹریشن جیسے حساس معاملے کو آئینی مذاکرات کے ساتھ جوڑنا بھی کچھ لوگوں کو ایک عجیب سا عمل لگا کیوں کہ ان کے نزدیک یہ بات الجھا دینے والی ہے کہ دینی اداروں کے مستقبل کا فیصلہ تعلیمی بنیادوں پر ہونا چاہیے یا ایوانوں میں لاکر کر کسی سیاسی عمل کی صورت میں؟
اسی طرح سنہ 2008 کی امریکی سفارتی کیبل میں مولانا کی امریکی عہدیداروں سے ملاقات اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش کا ذکر ملتا ہے۔ ان رابطوں سے ملک کو کیا فائدہ پہنچا وہ بھی ایک تشریح طلب معاملہ رہا۔
مزید پڑھیے: مولانا فضل الرحمان بھائیوں کی طرح ہیں، حکومت میں آکر بھولنے کی بات درست نہیں، اسپیکر ایاز صادق
مولانا کے طالبان سے تاریخی سیاسی روابط ہمیشہ زیر بحث رہے ہیں لیکن آج جب افغان طالبان کی حکومت قائم ہے اور پاکستان کی سلامتی کو سرحد پار سے چیلنجز کا سامنا ہے تو اس پر آپ (مولانا) کا دو ٹوک اور واضح مؤقف کیا ہے؟
مذہبی اقدار اور ایمانداری اپنی جگہ مگر سوال یہ بھی ہے کہ آپ کی جماعت کے مالی وسائل اور بیرون ملک سمیت عطیات کی مکمل شفافیت کیسے یقینی بنائی جاتی ہے؟ تاہم سیاسی ماہرین یہ توقع بھی رکھتے ہیں کہ دوسروں کے لیے سخت اخلاقی معیار رکھنے والے مولانا فضل الرحمان اپنے لیے بھی وہی معیار اپنائیں گے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کل تک تحریک انصاف والے مولانا کو غیر مناسب القابات دیتے تھے اور خود مولانا پی ٹی آئی حکومت کو جائز قرار نہیں دیتے تھے لیکن آج وہی دونوں سیاسی مذاکرات کی میز پر بیٹھے ہیں۔
مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمان اور عمران خان ایک پیج پر؟ حکومت کی مذاکرات کی آفر ایک ٹریپ
کبھی حکومت کے خلاف احتجاج اور آزادی مارچ، کبھی حکومتی اتحاد سے مذاکرات اور کبھی مخالفین سے مفاہمت یہ وہ باتیں ہیں جو مولانا کی سیاست کے مداحوں کو بھی اکثر الجھا دیتی ہیں۔
















