ایڈوائزری کونسل برائے تعلیم کے ممبر عامر عبداللہ نے کہا ہے کہ دیر کالونی اسکول حادثے کی انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے، 7 روز میں رپورٹ پیش کی جائے گی اور اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ اسکول کی عمارت کا این او سی کس نے جاری کیا اور نقشے کی منظوری کس نے دی۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے عامر عبداللہ نے کہا کہ انکوائری میں الف سے لے کر یے تک تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ واقعے کے ذمہ داروں اور ممکنہ غفلت کا تعین کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارے پھول جیسے بچے شہید ہوئے، مائیں ماننے کو بھی تیار نہیں ـ پشاور اسکول سانحے پر ہر آنکھ اشکبار
انہوں نے بتایا کہ صوبے کے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں کی عمارتوں کا سروے کرنے کا حکم بھی دے دیا گیا ہے۔ سروے رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہر اسکول کی عمارت کا الگ الگ جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے گا کہ وہاں کن اصلاحات اور تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔
عامر عبداللہ نے کہا کہ سرکاری اسکولوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ تعمیرات و مواصلات (سی اینڈ ڈبلیو) محکمے سے این او سی حاصل کریں، جس میں عمارت کی حالت اور ضروری مرمت سے متعلق تفصیلات شامل ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور اسکول حادثہ: 12 ہزار نجی اسکولوں کی رجسٹریشن سے عمارتوں کی جانچ تک، تحقیقات کا فیصلہ
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی اسکول کی عمارت میں معمولی مرمت کے بجائے بڑے پیمانے پر تعمیر نو کی ضرورت ہوئی تو اس حوالے سے بھی ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
عامر عبداللہ کے مطابق انکوائری اور اسکولوں کے سروے کا مقصد عمارتوں کی حفاظت یقینی بنانا اور مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کرنا ہے۔












