ڈونلڈ ٹرمپ کا خلائی مخلوق اور پراسرار اڑن طشتریوں سے متعلق خفیہ دستاویزات منظرعام پر لانے کا وعدہ

جمعہ 16 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلائی مخلوق اور نامعلوم اڑنے والی اشیا (یو ایف اوز) سے متعلق حکومتی خفیہ دستاویزات مکمل طور پر جاری کرنے کا وعدہ کیا ہے جس کے بعد ایک بار پھر یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ آیا زمین پر خلائی مخلوق کی آمد کے شواہد کبھی امریکی حکومت کے پاس رہے ہیں اور کیا ان کے زیرِ استعمال کسی جدید ٹیکنالوجی کو سمجھنے یا اس کی نقل تیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے؟

یہ بھی پڑھیں: ماہرین فلکیات کو چاند پر بھی ’اڑن طشتریاں‘ دکھائی دے گئیں، ماجرا کیا ہے؟

نیوز میکس کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں ٹرمپ نے نامعلوم فضائی مظاہر (یو اے پی) سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان معاملات میں عوام کی غیرمعمولی دلچسپی کے پیش نظر حکومتی اداروں کو دستیاب معلومات سامنے لانے کی ضرورت ہے۔

انٹرویو کے دوران گفتگو میں ایسے طیاروں کا بھی ذکر ہوا جن کے بارے میں پائلٹس کے مشاہدات غیرمعمولی قرار دیے جاتے ہیں۔ ان میں ایک ایسے پراسرار طیارے کا حوالہ بھی شامل تھا جس کی رفتار ایف 22 لڑاکا طیارے کے مقابلے میں چار گنا زیادہ بتائی گئی۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ٹرمپ کے اس بیان نے اس سوال کو بھی دوبارہ توجہ کا مرکز بنا دیا ہے کہ کیا کبھی خلائی مخلوق زمین پر آئی ہے اور کیا امریکی حکومت یا اس کے اداروں نے کسی ایسی ٹیکنالوجی کو حاصل کرکے اس کی نقل تیار کرنے کی کوشش کی ہے جو انسانی ٹیکنالوجی سے کہیں آگے ہو؟

یو ایف اوز سے متعلق دستاویزات کیوں اہم ہیں؟

یو ایف اوز، یعنی نامعلوم اڑن اشیا، کی اصطلاح عام طور پر آسمان میں دیکھی جانے والی ایسی چیزوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جن کی فوری طور پر شناخت نہ ہوسکے۔ امریکی حکومت اب ان واقعات کے لیے یو اے پی (نامعلوم فضائی یا غیرمعمولی مظاہر) کی اصطلاح بھی استعمال کرتی ہے۔

کسی شے کا نامعلوم ہونا لازماً اس بات کا ثبوت نہیں کہ اس کا تعلق خلائی مخلوق سے ہے۔ ایسے مشاہدات میں بعض اوقات عام طیارے، موسمی غبارے، ڈرون، قدرتی مظاہر یا ایسے آلات شامل ہوسکتے ہیں جن کی شناخت دستیاب معلومات کی بنیاد پر ممکن نہ ہو۔

مزید پڑھیے: پینٹاگون نے 80 برس پرانے راز افشا کردیے، اڑن طشتریوں سے متعلق خفیہ فائلیں بالاخر جاری

رپورٹ کے مطابق مئی 2026 سے یو اے پی سے متعلق سرکاری دستاویزات جاری کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے جبکہ امریکی محکمہ دفاع کے سابق عہدیدار جے اسٹریٹن نے مبینہ طور پر زمین پر موجود ایسے غیرمعمولی خلائی طیاروں سے متعلق دعوے کیے ہیں جن کی ٹیکنالوجی انسانی صلاحیتوں سے مختلف ہوسکتی ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

مزید دستاویزات اور ویڈیوز سامنے آنے کی توقع ظاہر کی جارہی ہے، جن سے ان واقعات کے بارے میں دستیاب معلومات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر صارفین کا ردعمل

ٹرمپ کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بھی صارفین نے مختلف آرا کا اظہار کیا۔ بعض نے اسے اہم پیشرفت قرار دیا تو کچھ نے ماضی میں کیے گئے ایسے وعدوں کی یاد دہانی کراتے ہوئے شکوک و شبہات ظاہر کیے۔

مزید پڑھیں: اڑن طشتری والی مخلوق کا تعلق کس سیارے سے ہے، انوکھا نقطہ نظر

ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ٹرمپ کا انداز ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اس معاملے سے توجہ ہٹانا چاہتے ہوں تاکہ انہیں مزید وضاحتیں یا دستاویزات جاری کرنے کے مطالبات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ اگر واقعی تمام دستاویزات جاری کردی گئیں تو یہ تاریخ میں سرکاری دستاویزات کے سب سے بڑے انکشافات میں سے ایک ہوسکتا ہے تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ محض بیانات کے بجائے ٹھوس شواہد بھی سامنے لائے جائیں۔ صارف نے خاص طور پر مبینہ طور پر ملنے والے مواد کی تحویل اور منتقلی کے ریکارڈ جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے: یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

فی الحال اصل سوال یہی ہے کہ آیا امریکی حکومت کی جانب سے جاری ہونے والی دستاویزات میں کوئی ایسے قابلِ تصدیق شواہد موجود ہیں جو نامعلوم فضائی مظاہر کی حقیقت سمجھنے میں مدد دے سکیں گے یا یہ معاملہ بدستور مشاہدات، دعوؤں اور قیاس آرائیوں تک محدود رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp