الجزیرہ کے 45 آلات کو نشانہ بنایا گیا، اقوام متحدہ، نیٹو اور مختلف ممالک کے حساس نیٹ ورکس پر بھی خطرات کی نشاندہی
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی اسپائی ویئر کمپنی کینڈیرو سے منسلک ایک جدید سائبر حملے میں صارفین کے موبائل فون اور کمپیوٹر کو کسی لنک پر کلک کیے بغیر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس طریقے کو ’زیرو کلک‘ حملہ کہا جاتا ہے، جس میں نقصاندہ اشتہارات کے ذریعے آلے میں جاسوسی کا سافٹ ویئر داخل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
کینیڈا کے تحقیقی ادارے سٹیزن لیب کی تحقیقات کے مطابق جون 2025 میں الجزیرہ کے عملے کے زیر استعمال45 آلات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں حساس موضوعات پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے آلات بھی شامل تھے۔ تحقیقات میں اسرائیلی کمپنی کینڈیرو کو ان حملوں سے منسلک کیا گیا۔
Israeli spyware targeted "hundreds of millions" through zero-click ads, researchers find. Millions of people have been affected, including Al Jazeera devices, by first-ever zero-click spyware delivered through advertisementshttps://t.co/PDU0ZjQXcO
— Middle East Eye (@MiddleEastEye) October 16, 2026
رپورٹ کے مطابق ڈسکور ٹیک نامی اسرائیلی اشتہاری کمپنی کے اشتہارات صارفین کو خاموشی سے ایسے سرورز کی طرف منتقل کرتے تھے جہاں سے جاسوسی کا سافٹ ویئر آلے کو متاثر کر سکتا تھا۔ اس سافٹ ویئر کے ذریعے فائلیں، دستاویزات، براؤزر کی معلومات، محفوظ پاس ورڈز، پیغامات اور ای میلز چوری کیے جا سکتے ہیں، جبکہ مائیکروفون، کیمرے اور اسکرین تک رسائی کی کوشش بھی ممکن ہے۔
سٹیزن لیب کے مطابق ایسے اشتہارات مختلف ممالک کے سرکاری اور حساس اداروں کے نیٹ ورکس پر بھی دیکھے گئے، جن میں اقوام متحدہ، نیٹو، یورپی پارلیمان اور یورپی کمیشن کے نیٹ ورکس شامل ہیں۔ تاہم ان تمام اداروں کے آلات میں جاسوسی سافٹ ویئر نصب ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ہیکرز کا اسرائیلی کمپنی پر سائبر اٹیک، مالی معاملات میں نقائص کا انکشاف
ماہرین کے مطابق عام صارفین کے مقابلے میں صحافیوں اور سرکاری حکام جیسے مخصوص افراد کو زیادہ خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اشتہارات روکنے والے سافٹ ویئر کے استعمال، فون کی اشتہاری شناخت بند کرنے اور آپریٹنگ سسٹم کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔












