’لہرا دو ترنگا‘ مارچ سے پہلے دہلی پولیس کی کارروائی، ابھجیت ڈپکے گرفتار، نیہا بورا رہا

ہفتہ 17 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں جمعہ کو کناٹ پلیس کے مقام پر ’لہرا دو ترنگا‘ احتجاجی مارچ سے قبل دہلی پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھجیت ڈپکے کو امن و امان کی صورتِ حال خراب ہونے کے خدشے کے پیشِ نظر احتیاطی حراست میں لے لیا جبکہ آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی سربراہ نیہا بورا کو ہفتے کی صبح رہا کر دیا گیا۔

ابھجیت ڈپکے کے خلاف بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعات 126 اور 170 کے تحت کارروائی کی گئی، انہیں دن کے اواخر میں اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پولیس کریک ڈاؤن کے باوجود ’کاکروچ‘ مظاہرین کا دوبارہ احتجاج کا اعلان

دوسری جانب نیہا بورا کو دہلی پولیس ایکٹ کی دفعہ 65 کے تحت حراست سے متعلق قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد رہا کیا گیا۔

سی جے پی کی قانونی امور کی سربراہ رتنا سنگھ نے الزام عائد کیا کہ ابھجیت ڈپکے کے بارے میں تاحال معلوم نہیں کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے اور وکلا کو بھی ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔

رتنا سنگھ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ ابھجیت کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور انہیں ایس ای ایم کی عدالت میں پیش کیا جائے گا، تاہم ان کا مقام تاحال نامعلوم ہے اور وکلا ان سے ملاقات نہیں کر سکے۔

سی جے پی، حزبِ اختلاف کی جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی کے اداروں کی جانب سے بھارت کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں، ان کا مؤقف ہے کہ انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور الیکشن کمیشن کی جانب سے خصوصی جامع نظرثانی کے عمل پر بھی تحفظات ہیں۔

’غیر قانونی حراست کا مقصد شہریوں میں خوف پیدا کرنا ہے‘

حراست سے رہائی کے بعد نیہا بورا نے الزام عائد کیا کہ مظاہرین کو جائز وجوہات کے بغیر حراست میں لیا جا رہا ہے اور انہیں کئی گھنٹوں تک تھانوں میں رکھا جاتا ہے۔

ان کے مطابق اس طرزِ عمل کا مقصد عام شہریوں کے ذہنوں میں خوف پیدا کرنا ہے۔

نیہا بورا نے کہا کہ بھارت میں ایک طویل عرصے سے لوگوں کو بغیر کسی معقول وجہ کے حراست میں لے کر گھنٹوں بٹھائے رکھنے کا سلسلہ جاری ہے، تاہم موجودہ تحریک کے دوران یہ صورتِ حال مزید نمایاں ہو گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ روزانہ مظاہرین کو حراست میں لیا جاتا ہے اور پھر اگلی صبح یا شام انہیں رہا کر دیا جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود دیکھا ہے کہ ایسی حراستوں کا مقصد کیا ہے اور انہیں عام شہریوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے کس طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔

نیہا بورا نے ابھجیت ڈپکے اور دیگر زیرِ حراست مظاہرین کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔ ’مجھے خود بھی معلوم نہیں تھا کہ ابھجیت کو حراست میں لیا گیا ہے۔‘

مزید پڑھیں: ووٹر فہرستوں میں بے ضابطگیوں پر بھارت میں احتجاج شدت اختیار کرگیا، راہول گاندھی سمیت متعدد اپوزیشن ارکان گرفتار

ان کے مطابق دیگر تمام مظاہرین کو بھی فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے، کیونکہ وہ عام شہری ہیں جو صرف جواب دہی اور ووٹ دینے کے حق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

نیہا بورا نے مزید کہا کہ ایسے افراد کو غیر قانونی طور پر حراست میں لینے یا رات بھر تھانے میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔

احتجاج کے لیے جاتے ہوئے رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا

اس سے قبل جمعہ کو سی جے پی اور اے آئی ایس اے نے اپنے رہنماؤں ابھجیت ڈپکے اور نیہا بورا کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ دہلی پولیس نے انہیں احتجاج میں شرکت کے لیے جاتے ہوئے حراست میں لیا اور اس کے بعد انہیں وکلا اور ساتھیوں سے رابطے کی اجازت نہیں دی گئی۔

مزید پڑھیں: بھارت: یونیورسٹی طالبہ کا مبینہ اغوا اور گینگ ریپ، جنگی جہاز اور فوجی گاڑیاں کیوں نذر آتش کی جارہی ہیں؟

سی جے پی نے دعویٰ کیا تھا کہ ابھجیت ڈپکے کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے اور پارٹی کا ان سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے، پارٹی کے مطابق انہیں وکلا سے بات کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی تھی۔

دوسری جانب اے آئی ایس اے نے الزام لگایا تھا کہ نیہا بورا کو منگول پوری میں اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس کے دفتر میں تنہا رکھا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp