راولپنڈی میں قتل ہونے والی حنا جاوید کے اہل خانہ نے قتل کیس کی تحقیقات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
اسلام آباد پریس کلب میں اہل خانہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مقتولہ کے بھائی فہد جاوید نے الزام عائد کیا کہ حنا جاوید قتل کیس کی تفتیش پہلے روز سے درست سمت میں نہیں کی گئی اور ابتدا ہی سے تمام معاملہ ذیشان پر ڈال کر فیصل اصغر امام کو بچانے کی کوشش کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: حنا جاوید قتل کیس: اہلِخانہ کا پولیس تفتیش پر تحفظات، آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ
ان کے مطابق پولیس اور تحقیقاتی ٹیم نے شواہد جمع کرنے میں سنجیدگی نہیں دکھائی، جبکہ بعض شواہد چھپائے جانے کا بھی شبہ ہے۔
فہد جاوید نے بتایا کہ 20 اگست کو ان کی بہن کے سسر نے فون کرکے کہا کہ گھر میں ایک چھوٹی سی ایمرجنسی ہے، اس لیے وہ گھر آجائیں۔
ان کے مطابق جب وہ وہاں پہنچے تو حنا جاوید کی لاش موجود تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بہن کو بے رحمی سے قتل کیا گیا تھا، تاہم ان کے بقول سسرال کے افراد بظاہر پرسکون تھے۔
مزید پڑھیں: حنا جاوید قتل کیس: ’وہ شوہر کے غصے سے بچنے کی کوشش کرتی تھیں‘
مقتولہ کے بھائی نے دعویٰ کیا کہ فیصل اصغر امام کا ڈی این اے 4 مقامات سے ملا ہے، جبکہ گردن، بیڈ شیٹ اور دیگر اشیا سے خون کے شواہد بھی حاصل ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ شواہد کی موجودگی کے باوجود متعلقہ ملزم کو بے قصور قرار دینا سمجھ سے بالاتر ہے اور فیصل کا نام چالان میں شامل کرنے کے لیے بھی مؤثر کوشش نہیں کی جا رہی۔
فہد جاوید نے الزام لگایا کہ حنا جاوید کے قتل کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی اور ملزم سمیت اس کے ساتھیوں کے خلاف مؤثر تحقیقات نہیں ہوئیں۔
مزید پڑھیں: حنا جاوید قتل کیس ہائی پروفائل قرار، خصوصی کمیٹی قائم
انہوں نے کہا کہ راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے بعد مقتولہ کے والد کو تفتیش کے لیے بلانے کی بات کی گئی تھی، جس سے کیس کی تحقیقات کے طریقۂ کار پر مزید سوالات پیدا ہوئے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (این سی ایچ آر) کے اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ فیصل اصغر امام کے خلاف کافی شواہد مل چکے ہیں اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ اب وہ نہیں بچ سکے گا۔
تاہم فہد جاوید کے مطابق شواہد سامنے آنے کے باوجود ملزم کے خلاف کارروائی نہ ہونا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
مزید پڑھیں: گردن کی ہڈی ٹوٹی، جسم پر زخموں کے نشانات، حنا جاوید کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اہم انکشافات
مقتولہ کے بھائی نے مطالبہ کیا کہ کیس کی ازسرنو اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں، تمام شواہد کا فورینزک جائزہ لیا جائے اور مبینہ کوتاہیوں کی بھی تحقیقات ہوں۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی کہ حنا جاوید کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور تحقیقات کی نگرانی کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔











