امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ اپنے دستخط سے منظور ہونے والے قانون کے تحت روس سے متعلق اہم امریکی پابندیوں اور محصولات کو نافذ ہونے سے چند روز قبل ہی معاف کردیا ہے۔
ان اقدامات میں روسی مصنوعات پر محصولات کے ساتھ ساتھ روس سے تیل اور گیس خریدنے والے ممالک کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیاں بھی شامل تھیں۔
مزید پڑھیں: امریکا میں ڈیزل کی قیمتیں کم کرنے کی کوشش، روس سے لاکھوں ٹن ایندھن درآمد کرنے کا فیصلہ
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے ایک انتظامی حکم نامے میں صدر ٹرمپ نے کہاکہ ان پابندیوں اور محصولات کو معاف کرنا امریکا کے قومی مفاد میں ہے۔
اس قانون کا مقصد روس پر یوکرین کے خلاف 2022 میں شروع کی گئی جنگ کے حوالے سے دباؤ بڑھانا تھا۔ تاہم صدر ٹرمپ حالیہ عرصے میں ماسکو کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی جانب مائل دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ وہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کو عوامی سطح پر تنقید کا نشانہ بھی بناتے رہے ہیں۔ ٹرمپ یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ یوکرین کو نئی قیادت کی ضرورت ہے۔
امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے چند ہفتے قبل یہ فیصلہ سامنے آیا ہے، جہاں ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی معمولی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے انتخابی مقابلے میں مصروف ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی پابندیوں کے نفاذ سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ تھا، جبکہ امریکی عوام پہلے ہی بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کررہے ہیں، جنہیں بڑی حد تک ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ سے منسوب کیا جا رہا ہے۔
روس سے تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک محصولات کی تجویز
اس قانون کے بنیادی حامی جنوبی کیرولائنا سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم تھے۔
قانون کے تحت روس سے خام تیل یا گیس درآمد کرنے والے 5 بڑے ممالک سے امریکا آنے والی تمام مصنوعات پر 30 روز کے اندر 100 فیصد تک محصولات عائد کیے جانے تھے۔
اس کے علاوہ ایسے کسی بھی ملک پر محصولات عائد کیے جانے کی گنجائش رکھی گئی تھی جو قانون کے نفاذ کے 30 روز بعد جان بوجھ کر روس سے تیل یا گیس خریدتا یا ان 5 بڑے ممالک میں شامل ہوتا جو روس کو امریکی پابندیوں سے بچنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے جاری کردہ انتظامی حکم نامے کے مطابق پابندیوں سے استثنیٰ اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک صدر یا ان کے اعلیٰ حکام یہ فیصلہ نہیں کرتے کہ مزید کارروائی مناسب ہوگی۔
ٹرمپ نے ستمبر کے وسط میں اس قانون پر دستخط کیے تھے جس کے مطابق روس پر پابندیاں عائد کی جانی تھیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ انہوں نے کانگریس کو ایک تصدیقی دستاویز جمع کرائی ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ وقت میں پابندیوں سے استثنیٰ دینا امریکا کے قومی مفاد میں ہے۔
چین اور بھارت نے امریکی پابندیوں پر کیا مؤقف اختیار کیا؟
روس سے تیل خریدنے والے بڑے ممالک میں شامل چین اور بھارت پہلے ہی روس سے متعلق امریکی پابندیوں کے مجوزہ قانون پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔
چین کا کہنا تھا کہ وہ بین الاقوامی قانون میں قانونی بنیاد نہ رکھنے والے ایسے اقدامات کی مستقل مخالفت کرتا ہے جن کے ذریعے کوئی ملک اپنے قوانین کا اطلاق دوسرے ممالک پر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
دوسری جانب بھارت نے واشنگٹن کو خبردار کیا تھا کہ نئے محصولات کے نفاذ سے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔
امریکی قانون کے تحت صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کانگریس کو محض یہ اطلاع دے کر پابندیوں سے استثنیٰ دے سکتے ہیں کہ ان کے خیال میں ان پابندیوں کا نفاذ امریکا کے قومی مفاد میں نہیں ہے۔
امریکی ڈیموکریٹ رکن کانگریس کی ٹرمپ پر تنقید
ریاست ورجینیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن کانگریس ڈان بیئر نے صدر ٹرمپ کے فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیاکہ وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے سامنے جھک رہے ہیں۔
ڈان بیئر نے اپنے بیان میں کہا کہ پیوٹن کے سامنے ٹرمپ کی تازہ ترین پسپائی ایک مرتبہ پھر یوکرین میں امریکا کے شراکت داروں کے ساتھ غداری کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کانگریس کی اس واضح قانون سازی کے مقصد کے بھی خلاف ہے جس کا ہدف روس کو یوکرین کے خلاف غیر قانونی جارحانہ جنگ کی سزا دینا تھا۔
روس کے ساتھ ڈیزل معاہدے پر بھی ٹرمپ کو تنقید کا سامنا
اس سے قبل صدر ٹرمپ کو روس کے ساتھ ڈیزل کی فراہمی کے حالیہ معاہدے پر بھی متعدد امریکی سینیٹرز کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، جن میں بعض ریپبلکن ارکان بھی شامل تھے۔
اس معاہدے کے تحت صدر ٹرمپ نے روسی برآمدات پر عائد پابندیاں اٹھانے پر اتفاق کیا تھا، جبکہ روس نے عالمی منڈیوں کو ڈیزل فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی تاکہ ایندھن کی قیمتوں میں کمی لائی جاسکے۔
اس معاہدے پر تنقید کرنے والے امریکی قانون سازوں کا مؤقف تھا کہ اس اقدام سے روس کو اپنی جنگی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
روس نے ٹرمپ کے فیصلے کو تاریخی لمحہ قرار دے دیا
دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے سرمایہ کاری سے متعلق نمائندے کیریل دیمتریئف نے صدر ٹرمپ کی جانب سے پابندیوں میں دیے گئے استثنیٰ کو ایک حقیقی تاریخی لمحہ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: خلا میں بھی جنگ کا خطرہ؟ امریکا کا خلا میں ہتھیار تعینات کرنے کا اعتراف، روس اور چین برہم
انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ قانون مؤثر طور پر روس اور امریکا کے درمیان تمام اقتصادی تعاون کو مکمل طور پر روک سکتا تھا۔














