پاکستان میں 12 سے 17 سال کی عمر کے انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچوں میں سے تقریباً ہر 16 میں ایک بچہ ایک سال کے دوران آن لائن جنسی استحصال یا بدسلوکی کا شکار ہوا۔ یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق متاثرہ بچوں کی تعداد تقریباً 15 لاکھ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس استحصال میں بچوں کو ناپسندیدہ جنسی تصاویر یا پیغامات بھیجنا، نجی تصاویر فراہم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا، ان کی تصاویر اجازت کے بغیر شیئر کرنا اور تصاویر کی بنیاد پر دھمکیاں یا بلیک میلنگ کرنا شامل ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے بچوں کی جعلی جنسی تصاویر اور ویڈیوز بنانا بھی ایک ابھرتا ہوا خطرہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بچوں کے جنسی استحصال کا عالمی نیٹ ورک، بھارتی سرغنہ کو 20 سال قید
یونیسیف، ای سی پی اے ٹی انٹرنیشنل اور انٹرپول کی تحقیق کے مطابق رپورٹ میں درج 85 فیصد واقعات میں ملوث شخص وہ تھا جسے بچہ پہلے سے جانتا تھا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایسے واقعات کے لیے سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والے ڈیجیٹل ذرائع تھے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ جن بچوں کو آن لائن جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑا، ان میں سے نصف سے زیادہ نے اپنے تجربے کے بارے میں کسی کو نہیں بتایا، جبکہ سروے میں شامل بچوں میں سے کسی نے بھی ہیلپ لائن، سماجی کارکن یا پولیس جیسے باضابطہ ذرائع سے شکایت درج نہیں کرائی۔
یونیسیف نے حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں، اسکولوں، والدین اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر زور دیا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور متاثرہ بچوں کو محفوظ طریقے سے مدد اور انصاف تک رسائی فراہم کی جائے۔










