کینیا میں ایبولا وائرس کا پھیلاؤ نہ رک سکا، مزید ایک شخص متاثر

پیر 19 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کینیا میں ایبولا وائرس کا ایک اور کیس سامنے آنے کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 8 ہوگئی ہے۔

کینیا کے ڈائریکٹر جنرل برائے صحت پیٹرک اموتھ نے اتوار کو اس پیشرفت کی تصدیق کی۔

یہ بھی پڑھیں: کانگو میں ایبولا وائرس کا پھیلاؤ تیز، ہلاکتیں 4 ہزار 381 ہو گئیں

کینیا کے ٹیلی وژن چینل سٹیزن ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے پیٹرک اموتھ نے بتایا کہ آج 38 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سے ایک شخص میں ایبولا وائرس کی تصدیق ہوئی۔

ان کے مطابق، متاثرہ شخص کی عمر 49 سال ہے، جو طبی عملے کا حصہ نہیں اور جس میں بخار، سر درد اور پٹھوں میں درد کی علامات ظاہر ہوئی تھیں۔

اموتھ نے بتایا کہ متاثرہ شخص مریضوں کی دیکھ بھال میں معاونت کرتا تھا اور برتنوں اور بستر کی چادروں سمیت استعمال شدہ اشیا کی صفائی کرتا تھا۔

امکان ہے کہ وہ کینیا میں ایبولا کے پہلے کیس سے متاثر ہوا، جس کی رواں ماہ کے آغاز میں شناخت ہوئی تھی۔

مزید پڑھیں: ایبولا کے خلاف امید کی نئی کرن، 50 رضاکاروں پر ویکسین کے ٹرائل کا آغاز

ایبولا کا پہلا مریض جمہوریہ کانگو سے نیروبی آیا تھا اور 5 اکتوبر کو نیروبی کے ایک اسپتال میں انتقال کر گیا تھا۔

وزارت صحت کے ایک ذریعے کے مطابق، نئے مریض میں ہفتے کے روز علامات ظاہر ہوئیں، جس کے بعد اسے قرنطینہ میں موجود دیگر افراد سے الگ کر دیا گیا۔

اس کے بعد وائرس کی جانچ کے لیے ٹیسٹ کیا گیا، جس کا نتیجہ اتوار کو مثبت آیا۔

مزید پڑھیں: ایبولا کا شکار امریکی ڈاکٹر صحت یاب، کانگو میں متاثرہ افراد کی تعداد 488 تک پہنچ گئی

کینیا میں ایبولا کے پھیلاؤ کے خدشات کے پیش نظر ہائی الرٹ ہے، کیونکہ جمہوریہ کانگو میں وائرس کی بڑی وبا خطے کے دیگر ممالک تک پھیل چکی ہے۔

دوسری جانب، جمہوریہ کانگو نے اتوار کو تصدیق کی کہ ایبولا کی وبا ملک کے 8ویں صوبے، شمالی اوبانگی تک پہنچ گئی ہے۔ اس پیشرفت نے خطے میں وائرس کے مزید پھیلاؤ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp