متعدد قتل کے مجرم کو 15 سال بعد رہائی کا فائدہ نہیں ملنا چاہیے، پنجاب پروسیکیوشن کا سپریم کورٹ میں موقف

پیر 19 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ کے لارجر بینچ میں ایک سے زائد یا متعدد قتل کے مقدمات میں عمر قید کی سزاؤں کے بیک وقت یا یکے بعد دیگرے نفاذ اور عمر قید کی حقیقی مدت سے متعلق اہم قانونی سوالات پر غور آج بھی جاری رہا۔

جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 7 رکنی لارجر بینچ 2 بنیادی قانونی سوالات کا جائزہ لے رہا ہے، اول یہ کہ ایک سے زائد قتل کے مقدمے میں عمر قید کی سزائیں ایک ساتھ چلیں گی یا یکے بعد دیگرے نافذ ہوں گی اور دوسرا یہ کہ پاکستان میں عمر قید کی قانونی اور عملی مدت درحقیقت کتنی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے ملازمین کی سنیارٹی تبدیل کرنے سے پہلے سماعت کا موقع دینا لازم قرار دیدیا

پنجاب حکومت نے عدالت میں تحریری جواب جمع کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سنگین اور سفاکانہ جرائم میں سزائیں یکے بعد دیگرے نافذ کرنے کا حکم دیا جانا چاہیے۔

ایڈیشنل پروسیکیوٹر جنرل پنجاب طارق صدیق کے ذریعے پنجاب حکومت کی جانب سے جمع کرائے گئے تحریری جواب میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ہر عام نوعیت کے مقدمے میں سزاؤں کو یکے بعد دیگرے چلانے کا حکم نہیں دینا چاہیے، بلکہ اس حوالے سے واضح وجوہات پر مبنی عدالتی حکم غیر معمولی مقدمات میں دیا جانا چاہیے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: ٹیلی کام ٹیکس کیس میں 27ویں آئینی ترمیم پر عدالت اور وکیل کے درمیان جملوں کا دلچسپ تبادلہ

پنجاب پروسیکیوشن کے مطابق قتل، اغوا، جنسی زیادتی اور دہشتگردی جیسے انتہائی سنگین، سفاکانہ اور وحشیانہ جرائم میں سزاؤں کو یکے بعد دیگرے نافذ کرنے کا حکم دیا جا سکتا ہے، بالخصوص ایسے مقدمات میں جہاں جرم سے عوامی ضمیر مجروح ہوا ہو۔

تحریری جواب میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ سنگین جرائم میں سزاؤں کا یکے بعد دیگرے نفاذ فوجداری نظامِ انصاف پر عوام کا اعتماد مضبوط کرنے، معاشرے میں توازن برقرار رکھنے اور سزا کے عبرت ناک و تادیبی مقاصد پورے کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

عمر قید کی عملی مدت 15 سال رہ جانے کا مؤقف

پنجاب پروسیکیوشن نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ معافیوں اور سزاؤں میں تخفیف کو شمار کرنے کے بعد عملی طور پر عمر قید کی مدت 15 سال رہ جاتی ہے۔ قانون ساز اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ پاکستان میں عمر قید کو ایک متعین مدت، یعنی 25 سال، کے طور پر شمار کیا جاتا ہے۔

جواب میں کہا گیا ہے کہ متعدد افراد کے قتل میں ملوث مجرم کو یہ فائدہ نہیں ملنا چاہیے کہ وہ محض 15 سال بعد جیل سے رہا ہو جائے، اگر متعدد سزاؤں کو غیر محتاط انداز میں بیک وقت چلانے کا حکم دیا جائے تو یہ تاثر پیدا ہوگا کہ نظامِ انصاف ایک قتل اور متعدد قتل کے درمیان فرق نہیں کرتا۔

مزید پڑھیں: ’کیا پراسیکیوٹر جنرل ملک کے بادشاہ ہیں؟‘ سانحہ بلدیہ کیس میں التوا مانگنے پر سپریم کورٹ کے سخت ریمارکس

پنجاب حکومت کے مطابق جب متعدد انسانی جانیں غیر قانونی طور پر لی جائیں تو ہر جرم کے لیے الگ اور واضح قانونی سزا ہونی چاہیے۔

تمام سزاؤں کو ایک ہی مدت میں ضم کرنے سے اضافی جرائم کی سنگینی کم ہو جاتی ہے اور مصنوعی برابری کا تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ایک قتل کیا جائے یا کئی، مجرم کو ایک ہی مدت کے بعد رہائی مل سکتی ہے۔

عمر قید کی تعریف اور قانونی ترامیم کا حوالہ

تحریری جواب میں کرمنل لاز (ترمیمی) ایکٹ 2021 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جنسی جرائم کے بڑھتے ہوئے رجحان کی روک تھام کے لیے یہ قانون یکم دسمبر 2021 کو نافذ کیا گیا تھا۔

اس قانون کے ذریعے تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 375-A اور 376 میں نئی سزا متعارف کرائی گئی، جس میں مجرم کی طبعی زندگی کی باقی ماندہ مدت تک قید کو عمر قید قرار دیا گیا ہے۔

پنجاب پروسیکیوشن کا کہنا ہے کہ عدالت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے فیصلے میں واضح کرے کہ مختلف سزائیں بیک وقت چلیں گی یا یکے بعد دیگرے نافذ ہوں گی۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: اپنے 5 سالہ بچے کو زندہ جلانے کے الزام میں نامزد ماں عدم شواہد پر بری

جواب میں پنجاب سزائیں ایکٹ 2019 کی دفعہ 4 کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس کے تحت سزا دینے کے مقاصد میں مجرموں کو سزا دینا، جرائم کی روک تھام، مجرموں کی اصلاح و بحالی، عوام کا تحفظ اور عبرت کے ذریعے جرائم کی حوصلہ شکنی شامل ہیں۔

پروسیکیوشن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مقننہ اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ سنگین اور ہولناک جرائم کے لیے خصوصی قانونی برتاؤ ضروری ہوتا ہے اور ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے معمول کے اقدامات کافی نہیں ہوتے۔

جواب میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 اور انسدادِ منشیات ایکٹ 1997 میں سزاؤں میں معافی سے متعلق پابندیوں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

شاہ حسین کیس کے فیصلے پر اعتراض

پنجاب پروسیکیوشن نے اپنے تحریری جواب میں شاہ حسین کیس کے پیراگراف 40 پر بھی اعتراض اٹھایا ہے اور استدعا کی ہے کہ اسے خلافِ قانون قرار دیا جائے، جواب کے مطابق اس پیراگراف میں بشیر کیس میں طے کردہ قانونی اصول کو نظر انداز کیا گیا۔

پروسیکیوشن کا مزید کہنا ہے کہ اگر عمر قید کا مطلب مجرم کی باقی ماندہ پوری زندگی تک قید ہوتا تو ایک سے زائد سزاؤں کو یکے بعد دیگرے نافذ کرنے کا سوال پیدا نہ ہوتا، کیونکہ کسی شخص کو اس کی باقی ماندہ زندگی کے لیے 2 مرتبہ قید کی سزا نہیں دی جا سکتی۔

مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت نے ای او بی آئی کی اپیل منظور کرلی، اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم

جواب میں یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا لارجر بینچ انتظامیہ کے سزاؤں میں تخفیف یا معافی دینے کے اختیار کو تسلیم کر چکا ہے۔ تاہم، پنجاب پروسیکیوشن کے مطابق ان انتظامی رعایتوں کے باعث عمر قید کی کم از کم مؤثر مدت عملی طور پر 15 سال تک رہ گئی ہے۔

متعدد قتل کے مقدمات میں عمر قید کی مدت اور سزاؤں کے نفاذ سے متعلق کیس کی آئندہ سماعت 10 نومبر کو ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp