سپریم کورٹ: ٹیلی کام ٹیکس کیس میں 27ویں آئینی ترمیم پر عدالت اور وکیل کے درمیان جملوں کا دلچسپ تبادلہ

جمعہ 16 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ آف پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشنز پر عائد ٹیکسز سے متعلق اہم کیس کی سماعت کے دوران 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بنچ اور سینئر وکیل کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا۔

سپریم کورٹ میں ٹیلی کمیونیکیشنز ٹیکس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے نکتہ اٹھاتے ہوئے وکیل سے استفسار کیا، ’کیا اس مقدمے کی ڈائریکٹ اپیل داخل نہیں ہونی چاہیے تھی؟ اب تو 27ویں آئینی ترمیم بھی آ چکی ہے۔‘

جسٹس مندوخیل کے اس سوال پر وکیلِ صفائی عزیر بھنڈاری نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، ’مائی لارڈ! میں نے تو احتجاجاً 27ویں ترمیم کو کافی عرصے تک پڑھا ہی نہیں تھا، اب جا کر اسے تھوڑا بہت دیکھا ہے۔‘

فاروق ایچ نائیک کی موجودگی اور عدالتی طنز و مزاح

وکیل عزیر بھنڈاری کے جواب پر جسٹس جمال مندوخیل نے ازراہِ تفنّن کہا، ’ایسی بات نہ کریں، فاروق ایچ نائیک صاحب بھی عدالت میں موجود ہیں۔‘ اس پر وکیل عزیر بھنڈاری نے برجسۃ کہا ’فاروق نائیک صاحب تو آئینی ترمیم کے لیے بنائی گئی کمیٹی کا بھی حصہ تھے اور اس کی تیاری میں شامل رہے ہیں۔‘

اس گفتگو پر جسٹس جمال مندوخیل نے مزید خوش گوار تبصرہ کرتے ہوئے ریمارکس دیے، ’فاروق نائیک صاحب کا ایک ہاتھ عدالت میں اور ایک ہاتھ پارلیمنٹ میں ہوتا ہے، اور دونوں اطراف کے لوگ انہیں اپنی اپنی جانب کھینچتے ہیں۔‘

عدالت اور وکلاء کے درمیان اس دلچسپ اور خوشگوار جملہ بازی کے بعد سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے ٹیلی کمیونیکیشنز پر ٹیکسز کے اس مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp