سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کراچی کیس کے ملزمان عبدالرحمان عرف بھولا اور محمد زبیر عرف چریا کی بریت کے خلاف دائر نظرثانی درخواستوں کی سماعت کے دوران تاخیری حربوں اور التوا کی استدعا پر پراسیکیوشن کی شدید سرزنش کی ہے۔
سپریم کورٹ میں سانحہ بلدیہ ٹاؤن کراچی کے مرکزی ملزمان عبدالرحمان بھولا اور محمد زبیر چریا کی بریت کے خلاف دائر نظرثانی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔
کیس کی سماعت جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے کی۔
یہ بھی پڑھیے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس: سپریم کورٹ کی التوا کی درخواست پر سرکاری وکیل کی سرزنش
سماعت کے آغاز پر ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے عدالت سے کیس ملتوی کرنے کی استدعا کی، جس پر بینچ نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پراسیکیوشن کی سخت سرزنش کی۔
جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’سپریم کورٹ کو مذاق نہ بنائیں۔ پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو التوا کی درخواست خود بھجوانی چاہیے تھی۔ کیا پراسیکیوٹر جنرل ملک کے بادشاہ ہیں؟ درخواست میں التوا کی کوئی وجہ تک بیان نہیں کی گئی۔ ہو سکتا ہے ہم یہ کیس خود پڑھ کر ہی فیصلہ سنا دیں۔‘
جسٹس ملک شہزاد نے مزید کہا کہ عدالت کے لیے عام درخواست گزار اور ریاست کے ساتھ ایک جیسا ہی سلوک ہوگا۔
انہوں نے پراسیکیوشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر صبح پیش ہونا ہے تو بتائیں، ورنہ عدالت چیمبر میں کیس کا جائزہ لے کر فیصلہ جاری کر دے گی۔ عدالت نے فائل نہ ملنے کے عذر کو مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے ’آج کے دور میں ای میل اور واٹس ایپ پر فائلیں چلی جاتی ہیں، یہ تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔‘
بینچ کے رکن جسٹس عقیل احمد عباسی نے بھی حکومت کی جانب سے مہلت مانگنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا’پہلے نظرثانی درخواست دائر کی جاتی ہے اور پھر دو ہفتے کا وقت مانگا جا رہا ہے۔ ریاست کی طرف سے کوئی بھی کیس چلا سکتا ہے، یہ کوئی مفسر کا کورس تو نہیں ہے۔‘
اس موقع پر جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیے کہ نظرثانی درخواست کا مقصد یہ بتانا ہوتا ہے کہ فیصلے میں کیا غلطی ہے جس پر نظرثانی کی جا رہی ہے، لیکن یہاں مہلت مانگی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے سزائے موت کالعدم،سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس میں ملزمان بری کر دیے
سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی جانب سے 2 ہفتے کا التوا دینے کی استدعا کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ پراسیکیوٹر جنرل یا ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل میں سے جو بھی پیش ہونا چاہتا ہے بدھ کے روز پیش ہو، اس کے بعد اب کوئی مزید التوا نہیں دیا جائے گا۔
کیس کی مزید سماعت بدھ تک ملتوی کر دی گئی۔













