کراچی میں سڑک کی تعمیر کے تنازع پر پاکستان ریلوے پولیس اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کرگئی، سٹی وارڈنز کے ڈائریکٹر کی شکایت پر ریلوے پولیس اہلکاروں کے خلاف اغوا اور تشدد کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق کے ایم سی سٹی وارڈنز کے ڈائریکٹر سائم عمران نے الزام عائد کیا کہ کینٹ تھانے کے ایس ایچ او احسن رشید دیگر اہلکاروں کے ہمراہ تعمیراتی مقام پر پہنچے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ شکایت کنندہ کے مطابق انہیں زبردستی نامعلوم مقام پر لے جایا گیا، جہاں سینئر افسران کی ہدایت پر ان سے پاؤں پکڑنے اور جوتے چاٹنے کے لیے کہا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: فیصل آباد: سابق ریلوے ملازم جعلی این او سی جاری کرنے کے الزام میں گرفتار
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ انکار کرنے پر انہیں مزید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث وہ بے ہوش ہوگئے۔ سائم عمران کے مطابق انہیں ہوش آنے پر معلوم ہوا کہ وہ عباسی شہید اسپتال میں موجود ہیں۔ مقدمہ شاہراہ فیصل تھانے میں درج کیا گیا ہے۔
واقعہ اتوار کی سہ پہر اس وقت پیش آیا جب ریلوے پولیس اہلکاروں نے سڑک کی تعمیر رکوا دی، جس پر کے ایم سی سٹی وارڈنز کے ڈائریکٹر موقع پر پہنچے۔ دونوں فریقین کے درمیان پہلے تلخ کلامی ہوئی، جو بعد ازاں ہاتھا پائی میں تبدیل ہوگئی۔ کے ایم سی کا مؤقف ہے کہ ریلوے پولیس اہلکاروں نے سائم عمران کو شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد پاکستان ریلوے پولیس اسٹیشن منتقل کردیا۔
تنازع ناتھا خان پل سے پہلوان گوٹھ اور حبیب یونیورسٹی تک جانے والی دو رویہ سڑک کی تعمیر پر ہے، جو چکور نالے کے متوازی بنائی جارہی ہے۔ تقریباً 78 کروڑ روپے کی لاگت سے جاری اس منصوبے کا مقصد شاہراہ فیصل، راشد منہاس روڈ، ڈالمیا روڈ اور گلستان جوہر پر ٹریفک کا دباؤ کم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ریلوے میں کفایت شعاری اقدامات، ہاؤس بلڈنگ ایڈوانس کا اجرا 31 دسمبر تک معطل
پاکستان ریلوے کے ایک عہدیدار نے مؤقف اختیار کیا کہ جس زمین پر سڑک تعمیر کی جارہی ہے، وہ کراچی سرکلر ریلوے کی ملکیت ہے اور تنازع ریلوے کی زمین پر تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث پیدا ہوا۔ ان کے مطابق ریلوے حکام واقعے سے متعلق معلومات جمع کررہے ہیں اور تمام حقائق سامنے آنے کے بعد قانون کے مطابق آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
دوسری جانب کے ایم سی نے منصوبے میں رکاوٹ ڈالنے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ریلوے حکام نے منصوبے پر اعتراض اتنی تاخیر سے کیوں کیا، جبکہ اس کی تکمیل میں چند ہفتے باقی ہیں۔
کے ایم سی کے ترجمان نے ریلوے کی جانب سے زمین کی ملکیت کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی ادارے نے منصوبہ شروع کرنے سے پہلے تمام قانونی تقاضے پورے کیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ کراچی کے شہریوں کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے اور اس کے فوائد کو نقصان پہنچانے یا اسے خطرے میں ڈالنے کی کوئی بھی کوشش شہریوں کے مفادات کے منافی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: ریلوے پولیس نے کروڑوں روپے کی منشیات کی اسمگلنگ ناکام بنا دی
ترجمان کے مطابق کے ایم سی کے سینئر حکام ریلوے انتظامیہ سے رابطے میں ہیں اور امید ہے کہ معاملہ جلد حل کرلیا جائے گا۔











