بجلی چوری والے علاقوں میں ٹرانسفارمرز کیسے بند ہوں گے؟ وفاقی وزیر توانائی نے بتا دیا

پیر 19 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ بجلی چوری کی روک تھام کے لیے ملک میں الیکٹرانک پاور مانیٹرنگ سسٹم نصب کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے بجلی چوری والے علاقوں کے ٹرانسفارمرز بند کیے جا سکیں گے، جبکہ اسی فیڈر سے بجلی حاصل کرنے والے دیگر صارفین متاثر نہیں ہوں گے۔

ڈیرہ غازی خان ایئرپورٹ کے توسیعی منصوبے کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ بجلی چوری کرنے اور بل ادا نہ کرنے والے صارفین کو کسی قسم کا ریلیف نہیں دیا جائے گا، تاہم حکومت نے صارفین کو بھاری بھرکم بجلی کے بلوں سے بچانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

مزید پڑھیں: بھاری بجلی بلوں سے پریشان عوام کے لیے ایک اور بری خبر، بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

اویس لغاری کے مطابق ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ایک طے شدہ منصوبے کے تحت کی جا رہی ہے اور جن فیڈرز پر لائن لاسز کی شرح 30 فیصد یا اس سے زیادہ ہے، وہاں لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رہے گا۔

انہوں نے بتایا کہ بجلی چوری سے متاثرہ علاقوں میں الیکٹرانک پاور مانیٹرنگ سسٹم (ای پی ایم ایس) کی تنصیب کا عمل جاری ہے۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ٹرانسفارمرز کو بند کیا جا سکے گا، جس سے بجلی چوری والے علاقوں کے خلاف کارروائی کے دوران اسی فیڈر کے دیگر صارفین بجلی کی بندش سے متاثر نہیں ہوں گے۔

وفاقی وزیر توانائی نے بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے باعث گیس کی قلت پیدا ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار مہنگی ہو رہی ہے۔

ڈیرہ غازی خان ایئرپورٹ کی توسیع جنوری 2028 تک مکمل ہونے کا امکان

اویس لغاری نے ڈیرہ غازی خان ایئرپورٹ کے توسیعی منصوبے سے متعلق بتایا کہ ایئرپورٹ کو بین الاقوامی پروازوں کے لیے اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے پر ساڑھے 5 ارب روپے لاگت آئے گی اور اسے جنوری 2028 تک مکمل کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: بجلی چوری اور نقصانات کی وجوہات جاننے کے لیے تمام ڈسکوز کا تکنیکی آڈٹ کرانے کا فیصلہ

انہوں نے مزید کہاکہ ڈیرہ غازی خان میں وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ 4 بڑے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، جن میں کینسر اسپتال، سیوریج کے نظام کی بہتری اور سڑکوں کی کشادگی کے منصوبے بھی شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp