سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے ستمبر کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو جمع کرا دی ہے۔
درخواست کے مطابق بجلی کی قیمت میں مجوزہ اضافے کا مقصد ستمبر کے دوران بجلی کی پیداوار پر آنے والے اضافی ایندھن کے اخراجات صارفین سے وصول کرنا ہے۔
نیپرا ستمبر کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت اضافی اخراجات کی وصولی سے متعلق سی پی پی اے کی درخواست پر 29 اکتوبر کو عوامی سماعت کرےگا۔
سی پی پی اے نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ستمبر کے لیے بجلی کی پیداوار کی اوسط فیول لاگت 7 روپے 46 پیسے فی یونٹ مقرر کی گئی تھی، تاہم یہ لاگت بڑھ کر 10 روپے 2 پیسے فی یونٹ تک پہنچ گئی۔
درخواست کے مطابق ستمبر کے دوران مقامی کوئلے سے بجلی کی پیداوار پر 7 ارب 95 کروڑ روپے جبکہ درآمدی کوئلے سے بجلی بنانے پر 37 ارب 14 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔
اسی طرح بجلی کی پیداوار کے لیے ڈیزل پر 13 ارب 26 کروڑ روپے اور فرنس آئل پر 11 ارب 81 کروڑ روپے کے اخراجات آئے۔
سی پی پی اے کے مطابق مقامی گیس سے بجلی کی پیداوار پر 13 ارب 89 کروڑ روپے خرچ ہوئے، جبکہ درآمدی مائع قدرتی گیس سے بجلی بنانے پر 31 ارب 93 کروڑ روپے لاگت آئی۔
درخواست میں بتایا گیا ہے کہ ستمبر کے دوران بجلی کی پیداوار پر ایندھن کی مجموعی لاگت 127 ارب 87 کروڑ روپے رہی۔
سی پی پی اے کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے ستمبر کے دوران مجموعی طور پر 12 ارب 76 کروڑ یونٹ بجلی فروخت کی۔
نیپرا سی پی پی اے کی درخواست کا جائزہ لینے اور متعلقہ فریقین کا مؤقف سننے کے بعد بجلی کی قیمت میں مجوزہ اضافے سے متعلق فیصلہ کرےگا۔











