کوئی وائرس یا جرثومہ نظروں سے اوجھل نہیں رہے گا؟ جینیاتی ٹیسٹنگ میں مصنوعی ذہانت کی شمولیت سے بڑی پیشرفت

پیر 19 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نئی جینیاتی تکنیک میٹاجینومک ٹیسٹنگ ڈاکٹروں کو ایسے جراثیم اور وائرس کی شناخت میں مدد دے رہی ہے جن کا روایتی ٹیسٹوں سے پتا لگانا مشکل ہوتا ہے لیکن مصنوعی ذہانت نے اس عمل کو مزید تیز کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا ایک جین انسانی دماغ کی پیچیدہ صلاحیتوں کو تشکیل دیتا ہے؟، چینی سائنسدانوں نے اہم ترین راز جان لیا

دسمبر 2019 کے آخری ایام میں چین کے 3 بڑے شہروں سے تعلق رکھنے والے وائرس کے ماہرین نے ووہان کے ہوانان سی فوڈ مارکیٹ جانے والے اور بعد ازاں نمونیا میں مبتلا ہو کر اسپتال پہنچنے والے مریضوں کے نمونوں کا تجزیہ شروع کیا۔

ابتدائی طور پر ان نمونوں میں موجود جینیاتی مواد کسی ایسے جرثومے یا وائرس سے مطابقت نہیں رکھتا تھا جس کی پہلے شناخت ہو چکی ہو۔ اس صورت حال میں ڈاکٹروں نے ایک نئی تکنیک استعمال کرنے کا فیصلہ کیا جسے میٹاجینومک ٹیسٹنگ کہا جاتا ہے۔

روایتی ٹیسٹوں میں عموماً مخصوص اور پہلے سے معلوم جراثیم یا وائرس کی تلاش کی جاتی ہے لیکن میٹاجینومک ٹیسٹنگ کے ذریعے کسی نمونے میں موجود تمام خردبینی جانداروں کے جینیاتی مواد کا جائزہ لیا جا سکتا ہے خواہ وہ پہلے دریافت ہوئے ہوں یا نہیں۔

اسی تکنیک کی مدد سے سائنسدانوں کو معلوم ہوا کہ مریضوں کے نمونوں میں موجود جرثومہ کورونا وائرس کے خاندان سے قریبی مماثلت رکھتا ہے۔ اس خاندان میں ایسے وائرس بھی شامل تھے جو اس سے پہلے انسانوں میں شدید نمونیا کی وبا پھیلانے کا سبب بن چکے تھے جن میں مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم بھی شامل ہے۔ یوں سائنسدانوں نے ایک نئے وائرس کی شناخت کی جو بعد میں کوویڈ 19 کی عالمی وبا کا سبب بنا۔

نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کے ایسوسی ایٹ پروفیسر نرنجن ناگراجن کے مطابق یہ طریقہ ماضی کی وباؤں کے مقابلے میں ایک بڑی پیشرفت ثابت ہوا کیونکہ وائرس کی فوری شناخت سے کوویڈ کی تشخیص کے ٹیسٹ تیار کرنے اس کے پھیلاؤ کو روکنے اور علاج و ویکسین کی تیاری کے لیے عالمی سطح پر کوششیں شروع کرنے میں مدد ملی۔

اگرچہ میٹاجینومک ٹیسٹنگ کا سب سے معروف استعمال کوویڈ 19 کے وائرس کی شناخت ہے تاہم اب یہ تکنیک اسپتالوں میں بھی تیزی سے استعمال ہو رہی ہے۔ اس کی مدد سے خون میں انفیکشن (سیپسس) کی فوری تشخیص سے لے کر ایسی بیماریوں کی وجوہات معلوم کرنے تک میں مدد مل رہی ہے جن کی علامات کی وضاحت کرنا ڈاکٹروں کے لیے مشکل ہوتا ہے۔

نامعلوم انفیکشن کی شناخت کیسے ہوتی ہے؟

جب کسی مریض کو شدید الجھن، غنودگی، بخار، سر درد اور جسمانی کمزوری کی شکایت کے ساتھ اعصابی امراض کے وارڈ میں لایا جاتا ہے تو ڈاکٹروں کے لیے یہ صورت حال انتہائی تشویش ناک ہوتی ہے کیونکہ یہ علامات دماغ اور حرام مغز کو متاثر کرنے والی جان لیوا بیماریوں کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔

ان بیماریوں میں میننجائٹس اور انسیفلائٹس شامل ہیں۔ تاہم ڈاکٹروں کے لیے بعض اوقات یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ مریض کی حالت کسی وائرس یا بیکٹیریا کے انفیکشن کی وجہ سے خراب ہوئی ہے یا اس کا مدافعتی نظام ضرورت سے زیادہ متحرک ہو کر دماغ پر حملہ آور ہو رہا ہے۔

علاج کا انتخاب اسی بات پر منحصر ہوتا ہے لیکن محدود تشخیصی سہولیات اور وقت کی کمی کے باعث ڈاکٹر اکثر ایک سے زیادہ امکانات کو سامنے رکھ کر علاج شروع کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیے: آئی وی ایف میں جینیاتی اسکریننگ بڑی عمر کی خواتین کے لیے امید کی نئی کرن

امریکا کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان فرانسسکو کے شعبہ طب کے پروفیسر اور متعدی امراض کے ماہر چارلس چیو کے مطابق ایسی صورت حال میں ڈاکٹروں کو فوری فیصلہ کرنا پڑتا ہے اور انتہائی تشویش ناک حالت میں پہنچنے والے مریضوں کا بیک وقت انفیکشن اور خودکار مدافعتی بیماری کے تناظر میں علاج کیا جاتا ہے۔

ان کے مطابق یہ صورت حال کسی حد تک متضاد بھی ہوتی ہے، کیونکہ اگر مریض کو انفیکشن ہو تو مدافعتی نظام کو دبانے والی ادویات دینا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے لیکن بعض اوقات ڈاکٹروں کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوتا۔

میٹاجینومک ٹیسٹنگ اب ایسے فیصلوں میں مدد فراہم کر رہی ہے۔ چارلس چیو اور ان کے ساتھیوں نے ایک جدید ٹیسٹ تیار کیا ہے جس کے ذریعے دماغ اور حرام مغز کے گرد موجود سیال مادے (سیری برو اسپائنل فلوئڈ) میں بیماری پیدا کرنے والے جراثیم اور وائرس کی شناخت کی جا سکتی ہے۔

اس ٹیسٹ کی مدد سے ایسے کئی معاملات سامنے آئے جن میں ڈاکٹروں کو مریض کی بیماری کی اصل وجہ معلوم نہیں تھی لیکن بعد میں پتا چلا کہ اس کی علامات کسی مخصوص جرثومے یا وائرس کی وجہ سے پیدا ہو رہی تھیں۔

مثال کے طور پر چارلس چیو کے سامنے ایک ایسی مریضہ کا کیس آیا جس میں میننجائٹس اور جگر کی خرابی کی تشخیص ہوئی تھی اور اس کے جگر کی پیوند کاری کا فیصلہ بھی کیا جا چکا تھا۔

تاہم مریضہ کے ریڑھ کی ہڈی کے سیال مادے پر کیے گئے میٹاجینومک ٹیسٹ سے انکشاف ہوا کہ وہ دراصل ہیپاٹائٹس ای وائرس سے متاثر تھی۔ یہ وائرس جگر کی بیماری کی ایک معلوم اور قابلِ علاج وجہ ہے لیکن امریکا جیسے ترقی یافتہ ممالک میں اس کے ٹیسٹ معمول کے مطابق نہیں کیے جاتے۔

چارلس چیو کے مطابق مریضہ کو وائرس کے خلاف دوا دی گئی جس کے بعد اس کی حالت بہتر ہو گئی اور اسے جگر کی پیوند کاری کے مشکل مرحلے سے گزرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

مصنوعی ذہانت نے تشخیص کا عمل تیز کردیا

اب تک میٹاجینومک ٹیسٹنگ کے وسیع پیمانے پر استعمال میں سب سے بڑی رکاوٹ نتائج حاصل کرنے میں لگنے والا وقت تھا۔ انسانی اور جرثومی ڈی این اے کو الگ کرنے اور ان میں کسی خطرناک جرثومے یا وائرس کی نشاندہی کے لیے انتہائی مہارت درکار ہوتی تھی۔

مزید پڑھیں: انسانوں کے ڈی این اے میں ایلینز کے جینز شامل ہوچکے، امریکی محقق کا دعویٰ

نرنجن ناگراجن کے مطابق جینیاتی مواد کی ترتیب معلوم کرنے اور اس کا تجزیہ کرنے میں کئی دن سے لے کر ایک ہفتے تک لگ سکتا تھا جبکہ بعض مریضوں کی حالت اتنی خراب ہوتی ہے کہ وہ نتائج آنے سے پہلے ہی زندگی کی بازی ہار سکتے ہیں۔

تاہم اب جدید مشینوں کی مدد سے ڈی این اے کی ترتیب صرف ایک سے 2 گھنٹے میں معلوم کی جا سکتی ہے جبکہ مصنوعی ذہانت کے جدید نظام بڑی مقدار میں موجود معلومات کا تجزیہ کرکے ان میں بیماری سے متعلق اہم اشاروں کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔

اس پیشرفت سے میٹاجینومک ٹیسٹنگ کو زیادہ تیزی سے اور وسیع پیمانے پر استعمال کرنا ممکن ہو رہا ہے۔

کمزور مدافعتی نظام والے مریضوں کے لیے اہم پیشرفت

جن افراد کا مدافعتی نظام کمزور ہو ان کے لیے معمولی انفیکشن بھی تیزی سے جان لیوا خطرہ بن سکتا ہے۔ اعضا کی پیوند کاری کروانے والے افراد، سرطان کے ایسے مریض جو مدافعتی نظام کو دبانے والا علاج کروا رہے ہوں اور خودکار مدافعتی بیماریوں میں مبتلا افراد کو انفیکشن کے حوالے سے خاص احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

تحقیقی مطالعات سے ظاہر ہوا ہے کہ کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد میں انفیکشن کے نتیجے میں اسیپسس یا خون میں زہر پھیلنے کی کیفیت پیدا ہو جائے تو اسپتال میں ان کی موت کا خطرہ 23 فیصد زیادہ ہو سکتا ہے۔ تاہم ایسے مریضوں میں انفیکشن کی فوری تشخیص ہمیشہ آسان نہیں ہوتی۔

چارلس چیو کے مطابق نمونیا اور سیپسس جیسی بیماریوں کی سیکڑوں ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں جس کے باعث ڈاکٹروں کو ایک کے بعد دوسرا ٹیسٹ کروانا پڑتا ہے اور تشخیص میں قیمتی وقت ضائع ہو سکتا ہے۔

سنگاپور میں نرنجن ناگراجن ایک ایسے منصوبے کی قیادت کر رہے ہیں جس کے تحت یہ جانچنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے میٹاجینومک ٹیسٹنگ کو بہتر بنا کر کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد کا زیادہ تیزی سے اور درست علاج کیسے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

چارلس چیو کے مطابق ان ٹیسٹوں سے حاصل ہونے والے جینیاتی اعداد و شمار میں بہت سی ایسی معلومات بھی شامل ہوتی ہیں جو بظاہر بے ضرر ہوتی ہیں۔ ان میں ایسے وائرس بھی شامل ہیں جو عام طور پر زیادہ تر انسانوں میں پائے جاتے ہیں جبکہ بعض اوقات لیبارٹری میں موجود جراثیم بھی اتفاقاً نمونے میں شامل ہو جاتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت ایسے غیرضروری اعداد و شمار کو الگ کرنے میں مدد دیتی ہے جس سے ڈاکٹروں کے لیے بیماری کی اصل وجہ تک پہنچنا آسان اور تیز ہو جاتا ہے۔

بعض مریضوں میں بیک وقت کئی انفیکشن بھی موجود ہو سکتے ہیں لیکن ان میں سے صرف ایک بیماری کی علامات پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات جسم کو پہنچنے والا نقصان کسی جرثومے یا وائرس کے بجائے مدافعتی نظام کے غیرمعمولی ردعمل کی وجہ سے ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خواتین کی عالمی مقابلوں میں شرکت کے لیے جینیاتی جانچ لازم، ورلڈ ایتھلیٹکس کا اہم فیصلہ

مصنوعی ذہانت مریض کے جینز کے اظہار (جین ایکسپریشن) کا تجزیہ کرکے یہ معلوم کرنے میں بھی مدد دے سکتی ہے کہ کون سے پروٹین بن رہے ہیں اور مدافعتی نظام کسی وائرس کے خلاف سرگرم ہے یا اس کے ساتھ معمول کے مطابق موجود ہے۔

چارلس چیو کے مطابق اس طریقے سے ہر مریض کی ضرورت کے مطابق درست علاج کا انتخاب کرنے یعنی انفرادی نوعیت کے علاج (پریسیژن میڈیسن) کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

صحت عامہ اور نئی وباؤں کی بروقت نشاندہی

میٹاجینومک ٹیسٹنگ کی افادیت سے متعلق مزید شواہد سامنے آنے کے بعد اسپتالوں میں اس کا استعمال بڑھنے کا امکان ہے۔

گزشتہ سال لندن کے دو اسپتالوں میں ایک ابتدائی تحقیق کی گئی جس میں یہ جانچنے کی کوشش کی گئی کہ سانس کی بیماریوں کے باعث اسپتال میں داخل مریضوں کی تشخیص کے لیے میٹاجینومک ٹیسٹنگ کس حد تک اضافی معلومات فراہم کر سکتی ہے۔

تحقیق میں معلوم ہوا کہ اس ٹیسٹ کے ذریعے ایسے بیماری پیدا کرنے والے جراثیم اور وائرس کی بھی شناخت ممکن ہوئی جن کا معمول کے تشخیصی ٹیسٹوں میں تقریباً 30 فیصد مواقع پر پتا نہیں چلتا۔

ایک کیس میں اس ٹیسٹ نے مریض کو پیچیدہ اور جسم میں مداخلت پر مبنی سرجری سے بچا لیا۔ ڈاکٹروں کو شبہ تھا کہ مریض کو پھیپھڑوں کا سرطان ہے لیکن ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ وہ دراصل تپ دق (ٹی بی) میں مبتلا تھا۔

اسی تحقیق کے دوران سانس کی بیماری پیدا کرنے والے وائرس پاروو وائرس بی 19 کے دو کیسز بھی سامنے آئے۔ خاص بات یہ تھی کہ ان کی نشاندہی برطانیہ اور یورپی اداروں کی جانب سے اس وائرس کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کے بارے میں عوامی انتباہ جاری کرنے سے کئی ماہ پہلے ہو گئی تھی۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ میٹاجینومک ٹیسٹنگ نہ صرف انفرادی مریضوں کی تشخیص بلکہ نئی وباؤں کے پھیلاؤ کی بروقت نشاندہی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

نرنجن ناگراجن کے مطابق سنگاپور کی کئی لیبارٹریوں میں اب گندے پانی اور ہوا کے نمونوں پر بھی میٹاجینومک ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ ان سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کو مصنوعی ذہانت کے ایسے نظاموں کے ذریعے جانچا جاتا ہے جنہیں نئے وائرس کی علامات تلاش کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مستقبل میں کسی نئی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پہلے ہی سے خبردار ہونا ہے۔

ان کے مطابق اگر اس نوعیت کی نگرانی پہلے سے موجود ہوتی تو کوویڈ 19 کی وبا کے بارے میں بھی ممکنہ طور پر پہلے آگاہی حاصل کی جا سکتی تھی۔

اٹلی میں گندے پانی کے تجزیے سے معلوم ہوا تھا کہ وہاں کوویڈ 19 وائرس کے آثار ملک میں پہلے مصدقہ کیسز سامنے آنے سے کئی ماہ قبل ہی موجود تھے۔

مزید پڑھیں: ارتقائی عمل محض اتفاق نہیں، 12 کروڑ سال پرانے جینیاتی راز سے پردہ اٹھ گیا

یوں میٹاجینومک ٹیسٹنگ نہ صرف ایسے انفیکشن کی شناخت میں مدد دے رہی ہے جن کا روایتی طریقوں سے پتا لگانا مشکل ہوتا ہے بلکہ مستقبل میں نئی وباؤں کی پیشگی نشاندہی اور ہزاروں انسانی جانیں بچانے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp