سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کی اجازت دینے سے متعلق بل پر تنقید کے بعد وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے کہ یہ سفری دستاویز بیرونِ ملک صرف سرکاری فرائض کے لیے استعمال ہو اور بیشتر صورتوں میں محدود مدت کے لیے جاری کی جائے۔
سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے 28 سال سے کم عمر زیرِ کفالت بچوں کو بلیو پاسپورٹ جاری کرنے سے متعلق بل 10 جولائی کو سینیٹ کی ایک کمیٹی نے منظور کیا تھا۔ اگر یہ ترمیمی بل قانون بن جاتا ہے تو سابق ارکانِ پارلیمنٹ کو ریٹائرڈ گریڈ 22 سرکاری افسران کے برابر سہولت حاصل ہو جائے گی، جن کے زیرِ کفالت بچے پہلے ہی اس سہولت سے مستفید ہورہے ہیں۔
رواں ماہ کے آغاز میں سینیٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری سرکاری پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ طلال چوہدری نے بھی بل کی منظوری سے اتفاق کیا تھا۔
تاہم بعد میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 10 جولائی کو سینیٹ کمیٹی کی کارروائی کے دوران بل کی مخالفت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بتایا تھا کہ اس معاملے پر پہلے وفاقی کابینہ اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق، ’میرے تحفظات کے باوجود انہوں نے بل منظور کر لیا۔‘
ہر درخواست وزارتِ داخلہ کی منظوری سے مشروط ہوگی
طلال چوہدری نے نجی ٹی وی کو بتایا ہے کہ آئندہ بلیو پاسپورٹ کے لیے ہر درخواست وزارتِ داخلہ کی منظوری کے بعد ہی نمٹائی جائے گی۔
انہوں نے کہاکہ ہر کیس سیکریٹری داخلہ کو بھجوایا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر وزیرِ داخلہ کے سامنے بھی پیش کیا جائے گا۔
انہوں نے تسلیم کیاکہ پاکستان میں بلیو پاسپورٹ رکھنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، جو دوسرے ممالک کے ساتھ ویزا ختم کرنے کے معاہدوں کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
انہوں نے کہا، ’ہماری توجہ زیادہ سے زیادہ ممالک کے ساتھ بغیر ویزا داخلے کے معاہدے کرنے پر ہے۔‘
طلال چوہدری کے مطابق، حالیہ عرصے میں ملک میں جاری کیے گئے بلیو پاسپورٹس کی تعداد قریباً 70 ہزار سے کم کرکے 50 ہزار سے بھی کم کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا، ’اب اس تعداد میں مزید 15 سے 20 فیصد کمی کی جائے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ بلیو پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا استثنیٰ کے معاہدے پر سعودی عرب کے ساتھ بات چیت پیش رفت کے آخری مراحل میں ہے، جبکہ اٹلی سمیت بعض دیگر ممالک کے ساتھ بھی مذاکرات جاری ہیں۔
بل کا فیصلہ سیاسی قیادت کرے گی
سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ جاری کرنے سے متعلق بل کے بارے میں انہوں نے کہاکہ قانون سازی سے متعلق فیصلہ سیاسی جماعتیں کریں گی۔
تاہم انہوں نے مزید کہاکہ یہ بل بلیو پاسپورٹس کی تعداد کم کرنے کے حکومتی ارادے کے خلاف ہے۔
انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ اگر اس قانون سازی کا مقصد سابق ارکانِ پارلیمنٹ کو ریٹائرڈ گریڈ 22 سرکاری افسران کے برابر لانا ہے تو بہتر طریقہ یہ ہوگا کہ ترمیم کے ذریعے ریٹائرڈ بیوروکریٹس کو دستیاب یہ سہولت واپس لے لی جائے۔
علی ظفر کی بل کی مخالفت
سینیٹ میں تحریکِ انصاف کے پارلیمانی رہنما بیرسٹر علی ظفر سے جب اس معاملے پر رائے مانگی گئی تو انہوں نے کہاکہ بلیو پاسپورٹ کوئی ایسی دستاویز نہیں جسے ان افراد کو دیا جائے جنہیں سرکاری ریاستی فرائض کے لیے حقیقی طور پر اس کی ضرورت نہ ہو۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا، ’اس کا مقصد سرکاری سفارتی ذمہ داریوں میں سہولت دینا ہے، نہ کہ اسے حیثیت کی علامت یا تاحیات حق بنانا۔‘
انہوں نے کہا، ’میں نے سینیٹ میں ارکانِ پارلیمنٹ کے بچوں تک ایسے پاسپورٹس کی سہولت بڑھانے کی تجویز کی مخالفت کی تھی، کیونکہ یہ سفارتی پاسپورٹس کے اصل مقصد سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اگرچہ معاملہ متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا تھا، جس کے ہم رکن نہیں تھے، اس لیے ہم اپنے اعتراضات آگے نہیں بڑھا سکے، تاہم اگر یہ تجویز منظوری کے لیے دوبارہ سینیٹ میں پیش کی گئی تو ہم اس کی مخالفت کریں گے۔‘
علی ظفر نے کہا کہ عوامی عہدہ عوام کی خدمت کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ عوامی نمائندوں اور ان کے خاندانوں کے لیے مراعات پیدا کرنے یا ان میں اضافہ کرنے کے لیے۔
بلیو پاسپورٹ کن افراد کو جاری کیا جاتا ہے؟
سرکاری بلیو پاسپورٹس اہم آئینی، حکومتی اور عدالتی عہدیداروں، سینیئر بیوروکریٹس اور ان کے اہل زیرِ کفالت افراد کو جاری کیے جاتے ہیں، جس کے ذریعے انہیں 55 ممالک میں بغیر ویزا داخلے کی سہولت حاصل ہوتی ہے۔
9 اگست 2023 کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے ذریعے تمام حاضر سروس اور ریٹائرڈ بی پی ایس 22 سرکاری افسران، جن میں سینیٹ اور قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے افسران اور مساوی رینک کے مسلح افواج کے افسران شامل ہیں، ان کے شریکِ حیات، والدین اور 28 سال تک کے زیرِ کفالت بچوں کو بھی بلیو پاسپورٹ کے اہل افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔
فہرست میں صدر اور وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر، گورنر اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان، سینیٹ، قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلیوں کے ارکان، قانون ساز اداروں کے اسپیکرز، ان کے شریکِ حیات، والدین اور 28 سال تک کے زیرِ کفالت بچے بھی شامل ہیں۔
سپریم کورٹ، وفاقی شرعی عدالت، ہائیکورٹس، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی عدالتوں کے جج، آڈیٹر جنرل، چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان، وفاقی محتسب، وفاقی ٹیکس محتسب، فیڈرل پبلک سروس کمیشن، فیڈرل سروسز ٹریبونل اور اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین اور ارکان، جبکہ چیئرمین قومی احتساب بیورو بھی اس سہولت کے اہل ہیں۔
اس کے علاوہ وفاقی سیکریٹریز، ایڈیشنل سیکریٹریز، جوائنٹ سیکریٹریز، چیف سیکریٹریز، بی پی ایس 21 کے افسران، ریٹائرڈ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان، سرکاری ڈیوٹی، تربیت، ڈیپوٹیشن یا اقوامِ متحدہ اور دیگر اداروں میں تعیناتی کے لیے بیرونِ ملک جانے والے افسران، وزیراعظم اور صوبائی حکومتوں کے وزیر کے درجے کے مشیر، امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے ڈائریکٹر جنرل اور ڈائریکٹرز، سابق گورنرز، آزاد کشمیر کے سابق صدور اور گلگت بلتستان کے سابق گورنرز، ریٹائرڈ جج اور سرکاری دوروں پر جانے والے بی پی ایس 20 اور اس سے اوپر کے کنٹریکٹ افسران بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
فیس کی ادائیگی پر سرکاری پاسپورٹ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر اور ڈپٹی گورنر، مسابقتی کمیشن پاکستان اور انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کے ارکان، بی پی ایس 20 اور اس سے اوپر کے خودمختار اداروں کے سربراہان، بی پی ایس 17 سے 21 تک کے سرکاری ملازمین اور 9 ماہ سے زیادہ مدت کی تربیت یا کورسز پر جانے والے فوجی افسران، ان کے شریکِ حیات اور بچوں، وزیراعظم یا صدر کے غیر ملکی دوروں کی کوریج کرنے والے پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کے عملے اور پاکستانی سفارتی مشنز میں تعینات نادرا ملازمین کو بھی جاری کیے جاتے ہیں۔
55 ممالک میں بغیر ویزا رسائی
رپورٹ کے مطابق بلیو پاسپورٹ رکھنے والوں کو 55 ممالک میں بغیر ویزا رسائی حاصل ہے، جن میں 22 یورپی ممالک بھی شامل ہیں۔














