لاہور جمخانہ کی 5 ہزار روپے ماہانہ لیز کا معاملہ 2 سال بعد پنجاب اسمبلی میں زیر بحث، 52 ارب روپے کرایے کا مطالبہ

منگل 20 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پنجاب اسمبلی میں 2 سال بعد لاہور جمخانہ کی کرایہ داری اور لیز کا معاملہ ایک بار پھر زیر بحث آگیا، جہاں خصوصی کمیٹی نمبر 6 کے اجلاس میں ارکان نے جمخانہ کی لیز، معمولی کرایے، تعمیرات اور آڈٹ سے متعلق متعدد سوالات اٹھاتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

خصوصی کمیٹی نمبر 6 کا اجلاس چیئرمین سمیع اللہ خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں انکشاف ہوا کہ لاہور جمخانہ کا آڈیٹر جنرل سے کمرشل آڈٹ نہیں کروایا جارہا، جبکہ جمخانہ کے آڈٹ کا معاملہ عدالتوں میں زیر سماعت ہے۔

لاہور جمخانہ کا کرایہ 5 ہزار روپے کیسے مقرر ہوا؟

اجلاس کے دوران سیکریٹری بورڈ آف ریونیو نے بتایا کہ 1996 میں لاہور جمخانہ کی لیز وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کی ہدایت پر کی گئی تھی۔

اس پر چیئرمین کمیٹی سمیع اللہ خان نے سوال کیاکہ کیا وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کی ہدایت میں جمخانہ کا کرایہ 5 ہزار روپے مقرر کرنے کا بھی ذکر موجود تھا؟

سیکریٹری بورڈ آف ریونیو نے وضاحت کی کہ وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کی ہدایت میں 5 ہزار روپے کرایے کا ذکر نہیں تھا، تاہم بورڈ آف ریونیو کی جانب سے کمشنر کو لکھے گئے خط میں یہ رقم درج تھی۔

سمیع اللہ خان نے ہدایت کی کہ اگلے روز ہونے والے اجلاس میں مکمل تفصیلات پیش کی جائیں کہ بورڈ آف ریونیو نے جمخانہ کا کرایہ 5 ہزار روپے کس بنیاد پر مقرر کیا۔

چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ یا تو کرایے کے معاملے کا فیصلہ کیا جائے یا پھر 5 ہزار روپے کرایہ بھی معاف کرکے ساری کالک ہمارے منہ پر مل دی جائے۔

انہوں نے مزید کہاکہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ اشرافیہ 5 ہزار روپے کرایے کو مناسب سمجھتی ہے۔

’جمخانہ 52 ارب روپے کرایہ ادا کرے یا 65 ہزار دکان مالکان سے رقم نہ مانگی جائے‘

اجلاس میں کمیٹی کے رکن امجد علی جاوید نے کہا کہ لاہور جمخانہ یا تو کرایے کی مد میں 52 ارب روپے ادا کرے یا پھر 65 ہزار دکان مالکان سے پیسوں کا مطالبہ نہ کیا جائے۔

رکن کمیٹی افتخار حسین چھچھر نے کہاکہ وہ لاہور جمخانہ کی رکنیت حاصل کرنا اپنے لیے کلنک سمجھتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیاکہ ان کی لاہور جمخانہ سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں، لیکن ریاست انہیں یہ بتائے کہ جمخانہ کی لیز کس طرح کی گئی۔

افتخار حسین چھچھر کا کہنا تھا کہ پنجاب کے عوام یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا عام آدمی کے لیے قوانین الگ ہیں؟

لاہور جمخانہ آڈیٹر جنرل سے آڈٹ نہیں کروا رہا، ڈی جی آڈٹ

اجلاس میں سید علی حیدر گیلانی نے لاہور جمخانہ کے کمرشل آڈٹ سے متعلق ڈی جی آڈٹ سے سوال کیا۔

ڈی جی آڈٹ نے بتایا کہ لاہور جمخانہ آڈیٹر جنرل سے اپنا آڈٹ نہیں کروا رہا اور آڈٹ کا معاملہ جمخانہ انتظامیہ لاہور ہائیکورٹ میں لے جاچکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آڈیٹر جنرل کی جانب سے بھی سپریم کورٹ میں ایک رٹ دائر کی گئی ہے، تاہم لاہور جمخانہ کے آڈٹ سے متعلق کیس تاحال سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوا۔

ڈی جی آڈٹ نے وضاحت کی کہ اگر کسی ادارے میں سرکاری فنڈز یا عوامی ملکیت کی زمین شامل ہو تو اس کا آڈٹ کرنے کا اختیار آڈیٹر جنرل کو حاصل ہوتا ہے۔

ان کے مطابق کسی ادارے کی قانونی حیثیت آڈٹ کے اختیار کا فیصلہ کن معیار نہیں، بلکہ حکومتی یا عوامی وسائل کسی بھی شکل میں شامل ہونے کی صورت میں آڈیٹر جنرل کا اختیار لاگو ہوتا ہے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہاکہ اسلام آباد کلب کا بھی آڈٹ کیا جاتا ہے۔

ڈی جی آڈٹ نے مزید بتایا کہ لاہور جمخانہ کے آڈٹ کا معاملہ چیف سیکریٹری پنجاب کے علم میں بھی لایا جاچکا ہے۔

جمخانہ کو سرکاری سہولیات اور تعمیرات کی اجازت سے متعلق سوالات

اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی سمیع اللہ خان نے سوال کیا کہ کیا جناح باغ کی جگہ پر قائم لاہور جمخانہ کو پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کی جانب سے کوئی سہولت فراہم کی جاتی ہے؟

اس پر ڈی جی پی ایچ اے پنجاب نے بتایا کہ ادارہ لاہور جمخانہ کو گھاس سے متعلق بعض سہولیات فراہم کرتا ہے۔

کمیٹی کے رکن راؤ کاشف رحیم نے سوال اٹھایا کہ کیا لاہور جمخانہ میں تعمیرات شروع کرنے سے قبل متعلقہ محکموں سے باقاعدہ اجازت حاصل کی گئی تھی؟

ذوالفقار علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا ان تعمیرات کی مقررہ فیسیں بھی ادا کی گئی تھیں؟

اس پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو لاہور نے کمیٹی کو بتایا کہ تعمیرات کی اجازت سے متعلق تفصیلات اگلے روز ہونے والے اجلاس میں پیش کردی جائیں گی۔

2 پاکستان ختم کرنے ہیں تو جمخانہ کی زمین واپس لی جائے، خالد رانجھا

اجلاس میں پارلیمانی سیکریٹری خالد رانجھا نے کہاکہ اگر مقصد 2 پاکستان کے تصور کو ختم کرنا ہے تو پھر کرایہ داری کے معاملے میں الجھنے کے بجائے جمخانہ کی زمین واپس لے لینی چاہیے۔

راؤ کاشف رحیم نے تجویز دی کہ لاہور جمخانہ کی کمیٹی کو معطل کرکے وہاں ایڈمنسٹریٹر تعینات کیا جانا چاہیے تاکہ معاملے کی سنگینی کا اندازہ ہوسکے۔

کل تک جواب نہ آئے تو معاملہ استحقاق کمیٹی میں لے جائیں گے، چیئرمین

اجلاس کے اختتام پر چیئرمین خصوصی کمیٹی سمیع اللہ خان نے کہا کہ تمام ارکان کے سوالات اور تحفظات سن لیے گئے ہیں اور متعلقہ اداروں کو ان تمام سوالات کے جواب اگلے روز ہونے والے اجلاس میں پیش کرنا ہوں گے۔

انہوں نے خبردار کیاکہ اگر مقررہ وقت تک جواب فراہم نہ کیے گئے تو معاملہ پنجاب اسمبلی کی استحقاق کمیٹی میں لے جایا جائے گا۔

سمیع اللہ خان نے بتایا کہ لاہور جمخانہ کی کمیٹی کو بھی اگلے روز کے اجلاس میں شرکت کی درخواست کی گئی ہے تاکہ اس کا مؤقف سنا جاسکے۔

تاہم انہوں نے واضح کیاکہ اگر جمخانہ کمیٹی اجلاس میں شریک نہ بھی ہوئی تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ اٹھائے گئے سوالات کے جواب متعلقہ سرکاری اداروں نے فراہم کرنے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp