متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما حسان صابر کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا فیصلہ اچانک نہیں ہوا اور اس پر عملدرآمد قومی اتفاق رائے کے بعد کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کہیں ہم جیت نہیں سکتے تو کسی کے ذریعہ ہروا تو سکتے ہیں، رہنما ایم کیوایم حسان صابر
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کے ایم کیو ایم سینیئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی حسان صابر نے ملک کی سیاسی صورتحال، خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی توثیق، قومی وسائل پر صوبائی حقوق کی بحث اور ایم کیو ایم کے انٹرا پارٹی انتخابات جیسے اہم موضوعات پر کھل کر اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔
حسان صابر نے ’ریاست ماں ہوتی ہے‘ والے پی ٹی آئی کے بیان پر کہا کہ ریاست بالکل ماں کی طرح ہے لیکن کیا ماں اپنے باقی بچوں کو چھوڑ دے اور کیا صرف ایک صوبائی حکومت بچانے کے لیے افواج پاکستان کے جوان اپنی جانوں کے نذرانے دیتے رہیں؟
خیبر پختونخوا میں گورنر راج آئینی اور قومی ضرورت ہے
حسان صابر نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی امن و امان کی صورتحال کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا اختیار وفاق کے پاس موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت تمام تر چیلنجز کے باوجود دہشتگردی کے خلاف ریاست کے ساتھ کھڑی ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت نے نہ صرف دہشتگردی کی مذمت سے گریز کیا بلکہ ریاست کے خلاف بیان بازی کی۔
مزید پڑھیے: ایم کیو ایم کے 2 دھڑوں کے درمیان بہادر آباد کے مرکز پر تصادم کے پس پردہ حقائق کیا ہیں؟
انہوں نے بتایا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے گورنر راج کی توثیق قومی اتفاق رائے کا نتیجہ ہے اور آئندہ 6 ماہ کے اندر اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
قومی وسائل کسی سیاست دان کی ذاتی جاگیر نہیں
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے اس بیان پر کہ ’قانون سازی کے ذریعے صوبائی وسائل پر قبضہ کیا جا رہا ہے‘ ردعمل دیتے ہوئے ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ ایسی باتیں آئین اور قوانین سے ناواقفیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کا ایک ایک انچ زمین اور اس کے تمام معدنی وسائل پاکستان اور قوم کی ملکیت ہیں۔
حسان صابر نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے سوئی مقام سے پورے پاکستان کو گیس ملی، سندھ اور پنجاب سے گیس و کوئلہ اور کھیوڑہ سے نمک حاصل کیا جاتا ہے اور ان تمام وسائل سے پورا ملک مستفید ہوتا ہے اور صوبوں کے حقوق این ایف سی ایوارڈ کے تحت محفوظ ہیں لہٰذا کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے سیاسی بیانیے کے لیے عوام میں لسانی یا علاقائی تفریق پیدا کرے۔
ایم کیو ایم میں شخصیات نہیں، نظریات اہم ہیں انٹرا پارٹی الیکشن پر مؤقف
ایم کیو ایم کے اندرونی انٹرا پارٹی انتخابات میں تاخیر اور رہنماؤں کے درمیان اختلافات کے تاثر پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کسی ایک فرد یا شخصیت کی جماعت نہیں ہے بلکہ یہ ایک نظریاتی جماعت ہے۔
مصطفیٰ کمال اور دیگر رہنماؤں کی پارٹی میں موجودگی اور کارکنان کی حمایت سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ الیکشن سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر پارٹی میں شکست یا ہارنے کے خوف سے انتخابات ملتوی کیے جا رہے ہیں تو یہ ایک انتہائی عجیب بات ہے اور الیکشن کمیشن کی ہدایات اور آئینی تقاضوں کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات فوری انعقاد پذیر ہونے چاہییں۔
یہ بھی پڑھیے: خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کے علاوہ ایم کیو ایم پاکستان کی چیئرمین شپ کے مضبوط امیدوار کون ہیں؟
انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم غریب اور متوسط طبقے کی جماعت ہے جہاں اختلافات کسی کے پیٹھ پیچھے نہیں بلکہ کھلے عام اور مائیک پر ہوتے ہیں اور حتمی فیصلہ کارکنان کی مرضی کے مطابق ہوتا ہے۔









