ایلون مسک نے کہا ہے کہ ان کی 2 کمپنیوں، اسپیس ایکس اور ٹیسلا، کو ضم کرنا ایک اچھا خیال ہو سکتا ہے اور اس ضمن میں دونوں کمپنیوں نے مجوزہ انضمام پر بات چیت کے لیے خصوصی کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں۔
اس خبر کے بعد توسیعی کاروباری اوقات میں اسپیس ایکس کے شیئرز میں 8 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ٹیسلا کے شیئرز بھی 1.8 فیصد بڑھ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ہر امریکی بچہ اسپیس ایکس کا شیئر ہولڈر، ایلون مسک نے بڑا اعلان کردیا
اسپیس ایکس نے ایک عوامی کمپنی بننے کے بعد پہلی مرتبہ منافع حاصل کیا ہے، کمپنی کی مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی سے متعلق کاروباری سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث ڈیٹا سینٹرز کی سہولتوں کی طلب بڑھ رہی ہے۔
ایلون مسک نے توقع ظاہر کی کہ 2027 کے اختتام تک کمپنی کی سالانہ بار بار حاصل ہونے والی آمدنی 500 ارب سے ایک کھرب ڈالر کے درمیان پہنچ سکتی ہے۔
BREAKING: Elon Musk backs merger of Tesla and SpaceX
"Do I think it would be a good idea. Yes!" pic.twitter.com/BMoA0plDt5
— Insider Paper (@TheInsiderPaper) October 20, 2026
سرمایہ کاروں سے گفتگو کے دوران مسک نے کہا کہ دونوں کمپنیوں کے انضمام میں خاصی افادیت موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ دونوں کمپنیوں کی خصوصی کمیٹیوں پر منحصر ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اپنے مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ کے باعث وہ ان کمیٹیوں کی بات چیت میں براہِ راست شریک نہیں ہو سکتے۔
ایلون مسک کے مطابق دونوں کمپنیوں کے درمیان مصنوعی ذہانت، چِپ ڈیزائن، روبوٹکس، خلائی ٹیکنالوجی اور رابطے کے نظام سمیت کئی شعبوں میں تعاون کے مواقع موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: سائنس فکشن حقیقت میں تبدیل: ایلون مسک کی فلائنگ کار نے ’اڑان‘ بھر لی
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ فی الحال انضمام کو یقینی سمجھنا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ خصوصی کمیٹیوں نے ابھی تک کسی معاہدے کی شرائط طے نہیں کیں اور ممکن ہے کہ کوئی معاہدہ طے ہی نہ پا سکے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، حالیہ ہفتوں میں دونوں کمپنیوں کے درمیان بات چیت شروع ہوئی ہے، معاملے سے واقف ایک شخص نے بتایا کہ اس ممکنہ معاہدے کے نتیجے میں اسپیس ایکس، ٹیسلا کو خرید سکتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
اے آئی سے اسپیس ایکس کی آمدنی میں نمایاں اضافہ
اسپیس ایکس کی آمدنی رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 161 فیصد اضافے کے ساتھ 14.58 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والی آمدنی تقریباً دس گنا بڑھ کر 7.56 ارب ڈالر ہوگئی، جس کا بڑا حصہ ڈیٹا سینٹرز کی گنجائش دیگر کمپنیوں کو فراہم کرنے سے حاصل ہوا۔
کمپنی نے اس سہ ماہی میں 4.4 ارب ڈالر کا خالص منافع حاصل کیا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں اسے 1.1 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔
مزید پڑھیں: ایلون مسک کی ٹیکنالوجی پھر میدان میں، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ سے قربت سوشل میڈیا پر زیر بحث
دوسری جانب، اے آئی انفرااسٹرکچر پر بھاری سرمایہ کاری کے باعث کمپنی کے سرمائے کے اخراجات بھی بڑھ گئے۔
اسپیس ایکس کے چیف فنانشل آفیسر بریٹ جانسن کے مطابق، کمپنی رواں سال کی چوتھی سہ ماہی میں 35 سے 40 ارب ڈالر کے سرمایہ جاتی اخراجات کی توقع کر رہی ہے۔
اسٹارلنک کے صارفین کی تعداد توقعات سے بڑھ گئی
اسپیس ایکس کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹارلنک کے صارفین کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے، تیسری سہ ماہی کے اختتام تک صارفین کی تعداد 1 کروڑ 36 لاکھ ہوگئی، جو تجزیہ کاروں کے اندازے 1 کروڑ 21 لاکھ 90 ہزار سے زیادہ ہے۔
تاہم، کم قیمت پیکیجز اور بین الاقوامی مارکیٹ میں توسیع کے باعث فی صارف اوسط ماہانہ آمدنی 2023 کے 99 ڈالر سے کم ہو کر رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں 69 ڈالر رہ گئی۔
کمپنی کی طویل مدتی حکمت عملی میں اسٹار شپ راکٹ نظام کو اہم حیثیت حاصل ہے، جس کے ذریعے مستقبل میں زیادہ گنجائش والے اسٹارلنک سیٹلائٹس اور خلا میں اے آئی کمپیوٹنگ انفرااسٹرکچر پہنچانے کی توقع ہے۔ تاہم، اسٹار شپ ابھی تک باقاعدہ تجارتی خدمات کے لیے فعال نہیں ہوا۔











