حکومت نے پاکستان پوسٹ کے بڑھتے ہوئے خسارے پر قابو پانے کے لیے ادارے کی نجکاری اور ملازمین کی تعداد میں کمی کے امکانات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے منگل کو سینیٹ کو بتایا کہ پنشن کے اخراجات شامل کرنے کے بعد پاکستان پوسٹ کا سالانہ خسارہ 18 سے 19 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ پنشن کے بغیر یہ خسارہ تقریباً 12 ارب روپے ہے۔
ہی بھی پڑھیں:پاکستان پوسٹ کی جلد نجکاری کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟
وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت ادارے کے اخراجات کم کرنے کے لیے پالیسی تیار کر رہی ہے، جس میں نجکاری کا امکان بھی زیر غور ہے۔ سینیٹر شہادت اعوان کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان پوسٹ کی مالی مشکلات کم کرنے کے مختلف طریقوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ادارے کی تنظیم نو کا تفصیلی منصوبہ سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان پوسٹ میں تقریباً 22 ہزار ملازمین کام کرتے ہیں، جبکہ ادارہ ملک بھر میں 9 ہزار 707 یونٹس چلا رہا ہے۔ ان میں 2 ہزار 887 محکمانہ ڈاک خانے، 6 ہزار 735 اضافی محکمانہ ڈاک خانے اور 85 دیگر یونٹس شامل ہیں۔
حکومت کی مجوزہ پالیسی میں اخراجات کم کرنے کے ساتھ ڈاک کی خدمات جاری رکھنے کے طریقہ کار کا بھی تعین کیا جائے گا۔










