ملک بھر میں 60 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر 76 لاکھ سے زیادہ زیتون کے پودے لگائے جا چکے ہیں، 2025 میں برآمدات 249 ٹن تک پہنچ گئیں؛ تاہم مقامی صنعت کو سرمایہ کاری، تشہیر اور مارکیٹنگ سمیت کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔
پاکستان میں زیتون کی کاشت اور اس سے تیل کی پیداوار بڑھانے کی کوششیں رنگ لانے لگی ہیں۔ ایک سرکاری سروے کے مطابق 2026 میں ملک میں زیتون کے تیل کی پیداوار تقریباً 716 ٹن تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ زیتون کے پھل کی پیداوار 7 ہزار 412 ٹن رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اگرچہ خوردنی تیل کی مجموعی ملکی طلب کے مقابلے میں یہ پیداوار اب بھی محدود ہے، تاہم ایک ایسی صنعت کے لیے یہ نمایاں پیشرفت ہے جس کی تجارتی بنیادیں چند برس پہلے تک نہ ہونے کے برابر تھیں۔
یہ بھی پڑھیے بلوچستان زیتون کی کاشت میں سب صوبوں سے آگے نکل گیا
پاکستان میں زیتون کی کاشت کے فروغ کے لیے کام 1986 میں شروع ہوا، جب پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل نے اٹلی کے تعاون سے زیتون متعارف کرانے اور اس کی بہتر کاشت کے طریقے وضع کرنے پر کام کیا۔ بعد ازاں جنگلی زیتون کی ایسی اقسام پر تحقیق کی گئی جنہیں پھل دینے والے درختوں میں تبدیل کیا جا سکے۔ سرکاری سروے کے مطابق اب ملک کے 131 اضلاع میں 60 ہزار 456 ایکڑ رقبے پر 76 لاکھ 40 ہزار زیتون کے پودے لگائے جا چکے ہیں۔ بلوچستان 32 لاکھ پودوں کے ساتھ سرفہرست ہے، جبکہ پنجاب میں 22 لاکھ 40 ہزار اور خیبر پختونخوا میں 16 لاکھ 60 ہزار پودے موجود ہیں۔ حکومتی پالیسی کے تحت 2030 تک کاشت کا رقبہ ایک لاکھ ایکڑ اور درختوں کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
زیتون کی صنعت میں ترقی کے آثار برآمدات کے اعداد و شمار سے بھی نمایاں ہیں۔ پاکستان سے زیتون کے تیل کی برآمدات 2020 میں صرف 9 ٹن تھیں، جو 2025 میں بڑھ کر 249 ٹن ہو گئیں، یعنی 5 برس میں تقریباً 27 گنا اضافہ ہوا۔ دوسری جانب اسی عرصے میں درآمدات میں بھی کمی دیکھی گئی اور 2021 میں 4 ہزار 479 ٹن کی بلند ترین سطح سے گھٹ کر 2025 میں تقریباً 2 ہزار 996 ٹن رہ گئیں۔ ملک میں زیتون کے تیل کی کشید کے لیے 51 یونٹ قائم کیے جا چکے ہیں، جن میں 23 بلوچستان، 16 خیبر پختونخوا اور 9 پنجاب میں ہیں۔ اس کے علاوہ پھلوں کی تیاری و پراسیسنگ، معیار کی جانچ اور تحقیق کے لیے بھی سہولتیں قائم کی گئی ہیں۔ حکومتی سروے کے مطابق پاکستان میں تقریباً 40 لاکھ ہیکٹر رقبہ زیتون کی کاشت کے لیے موزوں ہے، جس سے مستقبل میں پیداوار بڑھانے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے زیتون کی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے قومی پالیسی کا اجرا، وزیراعظم کا 100 زرعی گریجویٹس اٹلی بھیجنے کا اعلان
تاہم مقامی زیتون کے تیل کو تجارتی طور پر کامیاب بنانے کے لیے کئی رکاوٹیں دور کرنا ہوں گی۔ 2023 میں دیہی ترقی کے منصوبے ’گراسپ‘ کے تحت ہونے والے ایک مطالعے کے مطابق 74 فیصد صارفین درآمدی زیتون کے تیل کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ مقامی مصنوعات کو پسند کرنے والوں کی شرح صرف 26 فیصد ہے۔ برانڈنگ، پیکنگ، مارکیٹنگ، معیار کی جانچ کی سہولتوں اور تقسیم کے مؤثر نظام کی کمی بھی مقامی مصنوعات کی فروخت میں رکاوٹ ہے۔ اس کے علاوہ زیتون کے درخت ابتدائی 4 برسوں میں پھل یا مالی آمدن نہیں دیتے، جبکہ سرمایہ کاری کی لاگت پوری ہونے میں تقریباً 10 برس لگ سکتے ہیں۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی کی صورت حال بھی طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے ایک اہم سوال ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کو اس شعبے میں خود کفالت اور برآمدات بڑھانے کے لیے مسلسل سرمایہ کاری، بہتر منڈیوں، معیاری مصنوعات اور طویل مدتی حکمت عملی کی ضرورت ہوگی۔










