غیرمعمولی تھکن، رنگ پیلا پڑنا اور بلاوجہ نیل پڑنا بچوں میں کینسر کی ممکنہ علامات ہوسکتی ہیں جن کے مسلسل برقرار رہنے یا بڑھنے پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بہت زیادہ گرم چائے یا کافی غذائی نالی کو نقصان پہنچا کر کینسر کا خطرہ بڑھا سکتی ہے
بچوں میں کینسر نسبتاً کم پایا جاتا ہے لیکن اس کی ابتدائی علامات اکثر عام بیماریوں، تھکن یا معمولی چوٹ سمجھ کر نظرانداز کردی جاتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق والدین کو بچوں کی صحت میں غیرمعمولی تبدیلیوں پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ بروقت تشخیص علاج کو زیادہ مؤثر اور کم پیچیدہ بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
برطانیہ میں 15 سال سے کم عمر بچوں میں بیماری کے باعث اموات کی سب سے بڑی وجہ کینسر ہے تاہم ایک سروے کے مطابق وہاں ایک تہائی سے بھی کم والدین اس بات پر اعتماد رکھتے ہیں کہ وہ بچوں میں کینسر کی علامات پہچان سکتے ہیں۔
کینسر ریسرچ یوکے کے اعدادوشمار کے مطابق برطانیہ میں ہر سال 14 سال تک کی عمر کے تقریباً 1900 بچوں میں کینسر کی تشخیص ہوتی ہے۔
ایسی ہی ایک مثال 13 سالہ امیلیا کیرول کی ہے، جسے گزشتہ سال خون کے کینسر کی ایک قسم ’ایکیوٹ مائیلوئڈ لیوکیمیا‘ (اے ایم ایل) کی تشخیص ہوئی۔ امیلیا اب بیماری سے صحت یاب ہونے کے مرحلے میں ہے اور اس کی والدہ جیما کے مطابق ابتدا میں سامنے آنے والی علامات کو پہچاننا آسان نہیں تھا۔
مزید پڑھیے: پھیپھڑوں کے سرطان سے متعلق 13 عام غلط فہمیاں، حقیقت کیا ہے؟
جیما بتاتی ہیں کہ امیلیا کو مسلسل تھکن رہتی تھی اور معمولی جسمانی سرگرمی کے بعد بھی اس کی سانس پھولنے لگتی تھی۔ ابتدا میں گھر والوں نے اسے جسمانی فٹنس کی کمی اور اسکول سے واپسی کے بعد ہونے والی تھکن سمجھا۔
تاہم جب امیلیا کے جسم پر بلاوجہ نیل پڑنے لگے تو اس کی والدہ کو تشویش ہوئی۔ اس کے صرف 10 دن بعد ڈاکٹروں نے اس میں لیوکیمیا کی تشخیص کردی۔
بچوں میں کینسر کی کون سی علامات نظرانداز نہیں کرنی چاہییں؟
بچوں کے کینسر کے ماہر پروفیسر باب فلپس کے مطابق والدین کو کسی ایک علامت کے بجائے ایسی علامات کے مجموعے پر توجہ دینی چاہیے جو مسلسل برقرار رہیں، وقت کے ساتھ بڑھتی جائیں یا زیادہ نمایاں ہوجائیں۔
وہ علامات جن کی صورت میں ڈاکٹر سے رابطہ کرلینا چاہیے
غیرمعمولی یا شدید تھکن، جو معمول کے آرام سے دور نہ ہو۔
بچے کی رنگت کا بہت زیادہ پیلا پڑ جانا۔
جسم پر ایسے نیل پڑنا جن کی کوئی واضح وجہ معلوم نہ ہو۔
جسم پر گلٹیاں یا سوجن جو ختم نہ ہوں بلکہ وقت کے ساتھ بڑھتی جائیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں میں کینسر بعض صورتوں میں بالغ افراد کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ سکتا ہے اس لیے ایسی علامات کو مسلسل نظرانداز کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔
بچوں اور نوجوانوں کے کینسر سے متعلق ادارے ’سی سی ایل جی‘ سے وابستہ ماہرین ایک قومی آگاہی مہم کے ذریعے والدین اور طبی عملے کو جلد تشخیص کی اہمیت سے آگاہ کر رہے ہیں۔
’رول آف تھری‘
اس مہم میں طبی ماہرین کے لیے’3 کا اصول‘ بھی شامل ہے۔ اس کے مطابق اگر کسی بچے میں 3 مسلسل علامات موجود ہوں، وہ 3 مرتبہ ڈاکٹر کے پاس جاچکا ہو یا 3 ہفتوں سے ایسی علامات کا سامنا کر رہا ہو جن کی وجہ واضح نہ ہو تو مزید معائنے اور ماہر ڈاکٹر کے پاس بھیجنے پر غور کرنا چاہیے۔
مزید پڑھیں: عمر بڑھنے کے ساتھ صحت کے بارے میں 7 عام غلط فہمیاں اور ان کی سائنسی حقیقت
تاہم بچوں میں کینسر کی تشخیص کا مطلب یہ نہیں کہ علاج کے نتائج مایوس کن ہوں گے۔ برطانیہ میں سنہ 1970 کی دہائی کے بعد سے بچوں کے کینسر کے علاج میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے اور اب تشخیص کے بعد 10 میں سے 8 سے زیادہ بچے 5 سے 10 سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک زندہ رہتے ہیں۔
امیلیا کے جسم پر ایک نیل سے بیماری کا پتا چلا
امیلیا کی والدہ جیما کے مطابق ان کی بیٹی کی بیماری کا آغاز جسم پر اچانک نمودار ہونے والے ایک سرخ نیل سے ہوا تھا۔
3 دن بعد اس کی دونوں ٹانگوں کی پنڈلیوں پر مزید نیل پڑگئے، جو سوجے ہوئے اور تکلیف دہ تھے۔
جیما بتاتی ہیں کہ وہ معمول کے معائنے کے لیے آنکھوں کے ڈاکٹر کے پاس گئے تو وہاں عملے نے امیلیا کی آنکھوں میں خون کی باریک نالیوں کے پھٹنے کی علامات بھی دیکھیں، تاہم اس کی وجہ واضح نہیں ہوسکی۔
اس کے بعد ڈاکٹروں نے مزید معائنے کیے اور 10 دن کے اندر لیوکیمیا کی قسم کی تصدیق کردی۔ امیلیا کو علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرلیا گیا۔
جیما کے مطابق جس روز انہیں بیٹی کی بیماری کے بارے میں بتایا گیا انہوں نے امیلیا کو پاس بٹھا کر حقیقت بتائی تو اس نے پوچھا کہ کیا اسے کینسر ہے؟ والدہ کے ہاں کہنے پر اس نے یہ بھی پوچھا کہ کیا وہ مر جائے گی؟
جیما نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر اس کے علاج کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور اس کے لیے باقاعدہ منصوبہ موجود ہے۔
امیلیا اب بیماری سے صحت یاب ہونے کے مرحلے میں ہے۔ اس کے ہر 3 ماہ بعد بون میرو اور خون کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں اور وہ دوبارہ اسکول بھی جانے لگی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: مردوں میں وائی کروموسوم کا ختم ہونا کینسر کی ابتدائی علامت ہوسکتا ہے
پروفیسر باب فلپس کے مطابق برطانیہ میں بچوں کے کینسر سے صحت یاب ہونے کی شرح 80 فیصد سے زیادہ ہے تاہم اگر بیماری کی تشخیص مزید جلد ہوجائے تو بعض بچوں کو نسبتاً کم پیچیدہ اور کم سخت علاج کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
ہر دوسرے بچے کو تشخیص کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے
پروفیسر فلپس کے مطابق برطانیہ میں کینسر کی تشخیص ہونے والے تقریباً نصف بچوں کی بیماری کی شناخت ابتدائی علامات سامنے آنے کے 2 ہفتوں کے اندر ہوجاتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ مدت بظاہر کم ہے لیکن وہ چاہتے ہیں کہ باقی بچوں کو بھی 16، 18، 20 یا 25 ہفتے تک تشخیص کا انتظار نہ کرنا پڑے۔
کینسر ریسرچ یوکے کے اعدادوشمار کے مطابق برطانیہ میں ہر سال کینسر کے 4 لاکھ سے زیادہ نئے کیسز سامنے آتے ہیں۔ برٹش میڈیکل جرنل کے مطابق ان میں سے صرف 54 فیصد مریضوں کو برطانیہ کے قومی ادارہ صحت (این ایچ ایس) کے مقررہ 28 روزہ ہدف کے اندر تشخیص سے آگاہ کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ ہر سال 15 سے 24 سال کی عمر کے تقریباً 2300 نوجوانوں میں بھی کینسر کی تشخیص ہوتی ہے۔
جیک کی کہانی جسے ماں بھلایا نہیں چاہتی
اس آگاہی مہم کے پیچھے ایک اور خاندان کی کہانی بھی ہے جس کا 13 سالہ بیٹا جیک سوئنزکو نرم بافتوں کے کینسر کے باعث دنیا سے رخصت ہوگیا تھا۔
مزید پڑھیے: جناح اسپتال کراچی میں کینسر کے مریضوں کا فوری اور مؤثر علاج کیسے ہو رہا ہے؟
جیک کو جولائی 2023 میں کینسر کی ایک قسم ’ایلوویولر رابدومایوسارکوما‘ کی تشخیص ہوئی تھی، جو نرم بافتوں میں پیدا ہونے والا کینسر ہے اور اس کے تیسرے مرحلے کی تصدیق ہوئی تھی۔
اس کی والدہ لنزی سوئنزکو کے مطابق ابتدا میں جیک کی ناک بند رہنے اور آنکھوں سے پانی آنے کی علامات کو موسمی الرجی سمجھا گیا جبکہ اسکول سے واپسی پر سو جانے کو تعلیمی سال کے اختتام کی تھکن قرار دیا گیا۔
لنزی کے مطابق انہیں اس وقت زیادہ تشویش ہوئی جب جیک کی ناک کے اوپری حصے پر سوجن نمودار ہونے لگی۔ اس کے بعد وہ اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئیں، تاہم اس وقت بھی انہیں اندازہ نہیں تھا کہ تھکن اور الرجی جیسی علامات کا آپس میں تعلق ہوسکتا ہے۔
معائنے کے دوران جیک کی ناک اور ناک کی اندرونی گہا میں رسولی کا پتا چلا جس کے بعد نرم بافتوں کے کینسر کی تشخیص ہوئی۔
جیک نے کیموتھراپی کے نو مراحل اور پروٹون بیم ریڈی ایشن کا علاج مکمل کیا، تاہم کیموتھراپی کے باعث دورے پڑنے اور طبیعت شدید خراب رہنے کے بعد اس نے مزید علاج جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔
وہ 26 اپریل 2024 کو گھر میں انتقال کرگیا۔ اس کی 14ویں سالگرہ میں صرف 2 ہفتے باقی تھے۔
لنزی کے مطابق جیک کو موت کا خوف نہیں تھا اور وہ اس موضوع پر اپنے خاندان سے کھل کر بات کرتا تھا۔ اسے صرف یہ فکر تھی کہ کہیں اس کے دنیا سے چلے جانے کے بعد لوگ اسے بھلا نہ دیں۔
لنزی کہتی ہیں کہ وہ اب جیک کی کہانی لوگوں تک پہنچانا چاہتی ہیں تاکہ انہیں معلوم ہو کہ وہ کتنا غیرمعمولی بچہ تھا۔ ان کے نزدیک بچوں میں کینسر کی علامات سے متعلق آگاہی پھیلانا ہی جیک کی یاد کو زندہ رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔
مزید پڑھیں: کینسر کی تشخیص سے علاج تک، کراچی کے جناح اسپتال میں مصنوعی ذہانت کیسے مددگار ثابت ہورہی ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین کو ہر معمولی علامت پر خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں لیکن اگر بچے میں غیرمعمولی تھکن، رنگت کی تبدیلی، بلاوجہ نیل یا مسلسل بڑھتی ہوئی گلٹیاں اور سوجن جیسی علامات ظاہر ہوں تو انہیں محض عام تھکن یا الرجی سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ ایسی علامات کی صورت میں ڈاکٹر سے معائنہ کروانا ہی مناسب قدم ہے۔














