مقبوضہ و آزاد جموں و کشمیر کی تاریخ محض کسی سیاسی یا جغرافیائی تنازع تک محدود نہیں، بلکہ یہ دہائیوں سے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے کوشاں بے گناہ شہریوں کی بے مثال قربانیوں، جرات، استقامت اور پختہ عزم کی زِندہ داستان ہے۔ اس عظیم تاریخ میں 22 اکتوبر 1947ء کے ‘معرکہِ مظفر آباد’ کو ایک سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے، جس نے کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کو ایک نئی روح اور درخشندہ سمت عطا کی۔
مظفر آباد میں جابرانہ ڈوگرہ راج کے مظالم اور بربریت کے خلاف اٹھنے والی فیصلہ کن پیش قدمی نے ڈوگرہ تسلط کی بنیادیں ہلا دیں۔ 22 اکتوبر 1947 کو قبائلی لشکر کی بروقت آمد مظلوم کشمیری بھائیوں کی نصرت اور مظالم کے خاتمے کے لیے اسلامی اخوت، ہمدردی اور عملی یکجہتی کی ایک تاریخی مثال کے طور پر سامنے آئی۔
خورشید انور کی باصلاحیت قیادت میں مجاہدین اور قبائلی لشکر نے مظفر آباد اور ڈومیل سیکٹر کو فتح کر کے ڈوگرہ فوج کی دفاعی لائنوں کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔ اس فتح نے اوڑی، بارہ مولہ اور سری نگر کی جانب پیش قدمی کے لیے انتہائی اہم تزویراتی (اسٹریٹجک) راستے ہموار کر دیے۔
مورخین اور تجزیہ کاروں کے مطابق، فتحِ مظفر آباد محض ایک جغرافیائی خطے کی آزادی یا حصول کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ کشمیری عوام کی شجاعت، خودداری اور پاکستان کے ساتھ ان کے ابدی، نظریاتی اور لازوال رشتے کا ناقابلِ تنسیخ ثبوت بن گیا۔
22 اکتوبر کا دن شہداء کی عظیم قربانیوں کا امین اور غازیوں کی شجاعت پر فخر کا دن ہے۔ یہ دن ہر سال اس پختہ عزم کی تجدید کرتا ہے کہ تمام تر بھارتی مظالم، عسکری جبر اور چیلنجز کے باوجود ’کشمیر بنے گا پاکستان” کی تاریخ ساز جدوجہد اپنے روشن، منطقی اور منصفانہ انجام تک بلا تعطل جاری رہے گی۔










