پاکستانی اداکارہ زویا ناصر نے ہالی ووڈ کے مشہور اداکار اور کامیڈین ساشا بیرن کوہن کے پاکستان سے متعلق بیان پر سوشل میڈیا صارفین کے جوش و خروش پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اداکار کے ماضی کے کام اور مسلمانوں سے متعلق ان کے کرداروں کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
یہ معاملہ اس وقت زیرِ بحث آیا جب پاکستانی اداکار حارث وحید نے ساشا بیرن کوہن کے ساتھ اپنی ملاقات کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی۔ ویڈیو میں ہالی ووڈ اداکار پاکستان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں جس پر متعدد صارفین نے خوشی کا اظہار کیا۔

ڈرامہ ’بس تیرا ساتھ ہو‘ میں زویا ناصر کے ساتھی اداکار حارث وحید کی جانب سے شیئر کی گئی اس ویڈیو میں وہ ساشا بیرن کوہن کو بتاتے ہیں کہ وہ ان کے مداح ہیں اور پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس پر اداکار جواب دیتے ہیں، ’یو، پاکستان کو بڑا سلام!‘ ان کے اس جملے پر وہاں موجود افراد بھی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔
ویڈیو کو سوشل میڈیا پر پذیرائی ملی تاہم زویا ناصر نے اپنی انسٹاگرام اسٹوریز پر اس ردعمل پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ ’ساشا بیرن کوہن کا مسلمانوں کے ساتھ رویہ سب کے سامنے ہے‘
یہ بھی پڑھیں: زویا ناصر کی کون سی بات پر سوشل میڈیا صارفین میں نئی بحث چھڑ گئی؟
زویا ناصر نے ساشا بیرن کوہن کے ماضی کے کام پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ان کے مسلمانوں سے متعلق رویے کو نظرانداز کرنا حیران کن ہے۔ اداکارہ کے مطابق، ’معاف کیجیے گا، لیکن اس معاملے میں آگاہی کی شدید کمی حیران کن ہے۔ ساشا بیرن کوہن مسلمانوں کے خلاف کھل کر رویہ اختیار کرتے رہے ہیں اور ان کی زیادہ تر فلمیں اس کی گواہی دیتی ہیں۔‘
انہوں نے اداکار کے انداز کو طنز سے بھرپور خود پسندی اور برتری جتانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ اس ملاقات کو مثبت سمجھ کر خوشی منانے کی کیا وجہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ نمرہ خان نے اپنے اغوا کی کوشش ناکام بنادی
زویا ناصر نے اپنی پوسٹ میں حارث وحید کی ویڈیو کا نام لے کر ذکر نہیں کیا تاہم ان کے تبصرے ساشا بیرن کوہن کے پاکستان سے متعلق بیان پر ہونے والی بحث کے تناظر میں سامنے آئے۔
ساشا بیرن کوہن طویل عرصے سے اپنے مزاحیہ کرداروں کے ذریعے سماجی تعصبات اور دقیانوسی تصورات کو نمایاں کرنے کا مؤقف اختیار کرتے آئے ہیں۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی بعض فلموں اور کرداروں میں نسلی اور مذہبی شناختوں کو مزاح کا موضوع بنایا جاتا ہے جس سے اقلیتوں کے بارے میں موجود منفی تصورات کو تقویت مل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کی لاہور اسٹریٹ موومنٹ: 27 ستمبر کے لانگ مارچ سے بچنے کے لیے سہیل آفریدی کا ازخود گرفتاری کا ڈرامہ
ان کی فلموں ’بورات‘ اور ’دی ڈکٹیٹر‘ کے کرداروں کو اس بحث میں مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کے مشہور کردار ’علی جی‘ پر بھی بلیک کلچر کو اپنانے اور اس کی نمائندگی کے انداز کے حوالے سے تنقید ہوتی رہی ہے۔
دوسری جانب ساشا بیرن کوہن کا کہنا ہے کہ ان کے کرداروں کا مقصد تعصب اور لاعلمی کو بے نقاب کرنا ہے، نہ کہ انہیں فروغ دینا۔ انہوں نے اپنے کردار علی جی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ اپنے کرداروں اور کامیڈی کو تعصب، جانبداری اور حماقت کو بے نقاب کرنے کے لیے استعمال کیا ہے، اگرچہ ہر شخص ان کے کام کو اسی نظر سے نہیں دیکھتا۔
یہ بھی پڑھیں: بال ٹیمپرنگ کا ڈرامہ براڈکاسٹرز نے کیا، سابق کپتان راشد لطیف کے اہم دعوے
انہوں نے علی جی کو ایک ایسے سفید فام کردار کے طور پر بیان کیا جو خود فریبی کا شکار ہے اور اپنے پسندیدہ گینگسٹا ریپ اور ڈانس ہال فنکاروں کے لباس اور انداز کی نقل کرتا ہے۔
اداکار کے مطابق اس کردار کے ذریعے دراصل خود علی جی اور وہ سفید فام بااثر طبقہ نشانہ بنتا ہے جو اسے سنجیدگی سے لیتا ہے۔ زویا ناصر کے تبصرے کے بعد ساشا بیرن کوہن کے پاکستان سے متعلق بیان اور ان کی کامیڈی کے انداز پر بحث ایک بار پھر موضوعِ گفتگو بن گئی ہے۔










