وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے باعث حکومت کو مجبوری میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنا پڑا۔ 2018 تک خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کا بڑی حد تک خاتمہ ہوچکا تھا، تاہم بعد میں دہشتگردوں کو دوبارہ بلایا گیا، جس سے امن و امان کو شدید نقصان پہنچا اور صوبے کے عوام کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔
گورنر ہاؤس پشاور میں خیبر پختونخوا کی اپیکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ صوبے کے عوام نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار افراد شہید ہوئے اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا۔
روم جلتا رہا اور نیرو بانسری بجاتا رہا، خیبرپختونخوا جلتا رہے اور ہم بیٹھ کر تماشا دیکھیں اور بانسری بجائیں، یہ ممکن نہیں ہے، وزیراعظم شہباز شریف https://t.co/YELhlqg7JX
— WE News (@WENewsPk) October 22, 2026
مزید پڑھیں:مویشیوں کی ویکسین کی مقامی سطح پر تیاری، وزیراعظم شہباز شریف نے اہم ہدایات جاری کردیں
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز، ماؤں، بہنوں اور بچوں کی قربانیوں سے ملک میں امن قائم ہوا تھا، لیکن ان قربانیوں کا احترام نہ کرنے سے بڑی ملک دشمنی کوئی نہیں ہوسکتی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں خیبر پختونخوا میں تعلیم، صحت، امن اور عوامی فلاح کے امور نظر انداز کیے گئے۔ گزشتہ صوبائی حکومت کے دور میں پولیس کی 5 ہزار آسامیوں پر بھرتیاں نہیں ہوئیں، سیف سٹی منصوبہ نامکمل رہا اور محکمہ انسداد دہشتگردی اور پولیس کی تربیت پر بھی توجہ نہیں دی گئی۔ انہی وجوہات کی بنا پر حالیہ برسوں میں دہشت گردی دوبارہ بڑھ گئی۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کو دہشتگردی کے خلاف اقدامات کے لیے قریباً 800 ارب روپے فراہم کیے گئے۔ تمام صوبوں نے اتفاق کیا تھا کہ خیبر پختونخوا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صف اول پر ہے اور اسے اضافی وسائل ملنے چاہییں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اتنے وسائل اور قربانیوں کے باوجود دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا گئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ اڑھائی سال میں ملکی معیشت کی بحالی کے لیے دن رات محنت کی اور سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے معیشت مستحکم ہوئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت خیبر پختونخوا کو مزید بدامنی اور خون ریزی کا شکار ہوتے دیکھتی رہتی؟ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے خراب حالات پر صدر مملکت سے 2 مرتبہ مشاورت کی گئی اور سیاسی کمیٹی نے بھی 48 گھنٹے مذاکرات میں صرف کیے، تاہم حالات کے پیش نظر سخت فیصلے کرنا پڑے۔
شام کے وقت کے پی میں دہشت گرد ناچتے پھرتے ہیں، ان کا راج ہوتا ہے، بھتہ لیا جاتا ہے۔ ایسے وقت میں اگر ہم خاموش تماشائی بن جائیں تو میں سمجھتا ہوں کہ نہ قوم اور نہ ہی اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کرے گا، وزیراعظم شہباز شریف https://t.co/BiBvF102v9
— WE News (@WENewsPk) October 22, 2026
مزید پڑھیں:گورنر راج اور ایمرجنسی پر مولانا فضل الرحمان اپنے ماضی کے اتحادیوں کے خلاف کیوں کھڑے ہوگئے؟
شہباز شریف نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں کیے گئے فیصلوں کی آئین اور قانون اجازت دیتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت عسکری قیادت کے ساتھ مل کر صوبے کے عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل مشاورتی کونسل بھی قائم ہوچکی ہے، جس کا مقصد صوبے میں بہتری کے لیے قابل عمل حکمت عملی تیار کرنا ہے۔
وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں مبینہ بدعنوانی کے معاملات کا ذکر کرتے ہوئے صاف پانی کے منصوبے میں 100 ارب روپے اور کوہستان میگا اسکینڈل میں 37 ارب روپے کی کرپشن کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پلسر گولڈ منصوبے میں بھی من پسند افراد کو ٹھیکے دیے گئے۔
اجلاس میں وزیراعظم کو صوبے کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی، جبکہ امن کے لیے قربانیاں دینے والے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اجلاس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزرا اور اعلیٰ عسکری قیادت نے شرکت کی۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان کا قیام اولین ترجیح ہے اور عوام امن چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج، فرنٹیئر کور اور پولیس نے امن کے قیام کے لیے قیمتی جانوں کی قربانیاں دی ہیں، جبکہ پائیدار امن و استحکام کے لیے وفاق کا تعاون ضروری ہے۔
مزید پڑھیں:ایمرجنسی کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کا پہلا دورۂ پشاور، وفاقی ایپکس کمیٹی کا اجلاس جاری
گورنر نے کہا کہ دہشتگردوں، ان کے سہولتکاروں اور مالی معاونت کرنے والوں کا خاتمہ ترجیح ہے۔ وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون اور تمام اداروں کا یکسو ہونا امن و ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ناگزیر ہے۔
این ایف سی ایوارڈ میں دہشت گردی کی مد میں خیبرپختونخوا کو 2010 سے لے کر آج تک 800 ارب روپے دیے گئے، لیکن دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اس سے بڑی بدنصیبی کیا ہو سکتی ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ نہ ہو سکا۔ وزیراعظم شہباز شریف https://t.co/6wzBswC0Xs
— WE News (@WENewsPk) October 22, 2026
وزیراعظم شہباز شریف نے عزم ظاہر کیا کہ وفاقی حکومت اور عسکری قیادت مل کر خیبر پختونخوا میں امن، خوشحالی اور ترقی کا دور واپس لائیں گے اور صوبے کے عوام کو بنیادی سہولتیں ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا رحمان بابا اور خوشحال خان خٹک کی سرزمین ہے اور اس کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔










