پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان انسدادِ دہشتگردی مذاکرات کا 10واں دور اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں دہشتگردی کے خطرات، افغانستان کی صورتحال اور دہشتگردی کے خلاف تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان اور یورپی یونین نے دہشتگردی کی تمام اقسام کی واضح الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس خطرے سے نمٹنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ یورپی یونین نے پاکستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں کی مذمت کی اور متاثرہ بے گناہ شہریوں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان 7 کروڑ ڈالر سے زیادہ کے مالی معاہدوں پر دستخط
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل انسدادِ دہشتگردی ڈاکٹر فریحہ بگٹی نے کی، جبکہ یورپی یونین کے وفد کی سربراہی یورپی خارجہ امور کی سروس کی انسدادِ دہشتگردی کے لیے خصوصی نمائندہ انا اسٹرزاسکا نے کی۔
مذاکرات کے دوران پاکستان اور یورپی یونین نے دہشتگردی کے خطرات پر اثرانداز ہونے والی علاقائی اور عالمی پیش رفت کا جائزہ لیا اور دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ دونوں فریقوں نے عالمی سطح پر دہشتگردی کے خلاف جاری کوششوں میں ایک دوسرے کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے افغانستان کی صورتحال کے سیکیورٹی پر اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔

پاکستان اور یورپی یونین نے اقوام متحدہ سمیت کثیرالجہتی فورمز پر تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق کیا تاکہ دہشتگردی کے خلاف مربوط حکمت عملی کو آگے بڑھایا جاسکے۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف عالمی اتفاق رائے پیدا کرنے اور دیرپا نتائج کے حصول کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے جی ایس پی پلس سے متعلق یورپی یونین کی رپورٹ مسترد کردی، اصلاحات کو نظر انداز کرنے کا شکوہ
مذاکرات میں دہشتگردوں کی جانب سے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے سائبر اسپیس، معلومات اور توانائی کے وسائل کے بڑھتے ہوئے استعمال سمیت دہشتگردی کے بدلتے ہوئے خطرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں فریقوں نے پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام، دہشتگردی کی مالی معاونت اور ہر قسم کی انتہا پسندی کے خلاف اقدامات کے حوالے سے بہترین طریقہ کار کا تبادلہ کیا۔ اس دوران دہشتگردوں کی جانب سے سائبر اسپیس کے استعمال سمیت دہشتگردی کے نئے خطرات سے نمٹنے کے اہم پہلوؤں پر بھی گفتگو ہوئی۔
پاکستان اور یورپی یونین نے انسدادِ دہشتگردی کے شعبے میں تعاون کے لیے ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کی اور باقاعدہ ادارہ جاتی روابط جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے جی ایس پی پلس وعدوں پر عملدرآمد اور سماجی تحفظ میں تاریخی پیشرفت کی، یورپی یونین
مذاکرات کے اگلے دور کے انعقاد پر بھی اتفاق کیا گیا، جو آئندہ سال باہمی طور پر طے شدہ تاریخ پر برسلز میں ہوگا۔









