وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے خیبرپختونخوا کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے 160 ارب روپے فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قبائلی عمائدین نے ہمیشہ ڈنکے کی چوٹ پر پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ شدید نقصانات اور گہرے زخموں کے باوجود قبائلی عوام کی پاکستان سے والہانہ وابستگی اور قومی نظریے پر استقامت قابل ستائش ہے۔
پشاور میں وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قبائلی اضلاع کے نمائندوں پر مشتمل ترقیاتی کونسل اور قبائلی مشران سے ملاقات کی۔
مزید پڑھیں: 8 لاکھ بچوں کی گنجائش، پھر خیبرپختونخوا میں نئے ماڈل اسکولوں کی ضرورت کیوں؟
اس موقع پر وزیراعظم نے ترقیاتی کونسل کے نمائندوں اور قبائلی عمائدین سے مصافحہ کیا، جبکہ اجلاس میں قبائلی علاقوں کے مسائل، امن و امان کی صورتحال، دہشت گردی کے خاتمے اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
قبائلی عمائدین نے صوبے میں حالیہ فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور قبائلی علاقوں کے مسائل کے حل کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
قبائلی عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی عمائدین اور عوام نے ہمیشہ کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور ملک کے ساتھ ان کی والہانہ وابستگی اور اصول پسندی قابل تحسین ہے۔
انہوں نے کہاکہ قبائلی عوام نے دہشتگردی اور بدامنی کے باعث شدید نقصانات برداشت کیے اور گہرے زخم کھائے، لیکن اس کے باوجود پاکستان سے ان کی محبت اور قومی نظریے میں کبھی کوئی لرزش نہیں آئی۔
وزیراعظم نے کہاکہ ریاست پاکستان اپنے وفادار شہریوں کی بے مثال قربانیوں کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
انہوں نے خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ صوبے میں ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن اور دہشتگردی عروج پر ہے، جس کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔
شہباز شریف نے بتایا کہ اجلاس میں صوبے کے ترقیاتی کاموں، سیکیورٹی صورتحال اور امن و امان کے قیام سے متعلق اہم امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
’خیبرپختونخوا کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 160 ارب روپے فراہم کریں گے‘
وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں ترقیاتی کاموں کے لیے 160 ارب روپے فراہم کرے گی۔
انہوں نے کہاکہ صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے اور عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے وفاقی حکومت اپنا کردار ادا کرے گی۔
وزیراعظم نے صوبے میں گندم کی قلت دور کرنے کے لیے مزید گندم فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کو اس کی ضرورت کے مطابق گندم فراہم کرے گی، تاہم اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ گندم کی ذخیرہ اندوزی نہ ہو۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ وفاق کی جانب سے فراہم کردہ گندم عوام کو مقررہ قیمت پر دستیاب ہونی چاہیے تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
’پولیس کی تربیت، جدید اسلحے اور سیف سٹی منصوبوں سے متعلق اہم فیصلے‘
وزیراعظم نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے پولیس کی تربیت، جدید اسلحے کی فراہمی اور سیکیورٹی نظام کو مضبوط بنانے سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کی پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار بڑھانے پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صوبے میں سیف سٹی منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں وفاقی حکومت صوبوں کو ہر ممکن وسائل فراہم کرے گی اور امن و امان کے قیام کے لیے سیکیورٹی اداروں کی ضروریات ترجیحی بنیادوں پر پوری کی جائیں گی۔
شہباز شریف نے کہاکہ صوبے میں امن و امان اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تمام اہم امور پر غور کیا گیا ہے تاکہ عوام کے تحفظ اور ترقی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جاسکیں۔
’قبائلی مشران کا وزیراعظم اور آرمی چیف سے اظہار تشکر‘
اجلاس میں قبائلی اضلاع کے نمائندوں اور مشران نے وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزرا اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
قبائلی عمائدین نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے مسائل کے حل کے لیے کیا جانے والا حالیہ فیصلہ خوش آئند ہے، جس سے قوم کو کئی مسائل سے بچایا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ گزشتہ 13 سال کے حالات کے بعد کیے گئے اس فیصلے پر قبائلی علاقوں کے عوام نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔
قبائلی مشران نے کہا کہ وہ مسائل سے نجات دلانے اور اہم فیصلہ کرنے پر حکومت اور عسکری قیادت کے شکر گزار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قبائلی کونسل کے پیچھے پوری پوری قومیں کھڑی ہیں اور کونسل کے نمائندے عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔
عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے ختم کریں گے، قبائلی عمائدین
قبائلی مشران نے کہا کہ وہ عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے ختم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ 12 اضلاع کے جرگوں کے منتخب نمائندے ترقی کا عملی نمونہ پیش کریں گے اور بدعنوانی سے پاک نظام کے ذریعے عوامی خدمت یقینی بنائیں گے۔
قبائلی عمائدین نے کہا کہ زیرو کرپشن کے اصول پر عمل کرتے ہوئے قبائلی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھایا جائے گا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ منتخب قبائلی کونسل کو مزید بااختیار بنایا جائے تاکہ عوام کے مسائل مؤثر انداز میں حل کیے جاسکیں۔
مشران کا کہنا تھا کہ قبائلی خطہ پاکستان کی تاریخ کا اہم حصہ ہے، اس لیے اسے ہمیشہ خصوصی اہمیت دی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام کی رائے اور ضروریات کو سامنے رکھ کر ترقیاتی منصوبے تیار کیے جائیں تاکہ ان کے حقیقی مسائل حل ہوسکیں۔
’دہشتگردی کے باعث ہر قبائلی خاندان نے قربانیاں دیں‘
قبائلی عمائدین نے کہا کہ دہشت گردی کے باعث قبائلی علاقوں کا تقریباً ہر خاندان متاثر ہوا ہے اور ان خاندانوں نے اپنے پیاروں کی شہادتوں کی صورت میں بڑی قربانیاں دی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ قبائلی عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار مشکلات برداشت کی ہیں، اس لیے علاقے میں مستقل امن کا قیام انتہائی ضروری ہے۔
مشران نے یقین دلایا کہ وہ قبائلی علاقوں میں امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت، سیکیورٹی اداروں اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تمام فریقوں کے درمیان تعاون ضروری ہے اور وہ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں اب پروپیگنڈے کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں گے، ثمر ہارون بلور
قبائلی عمائدین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عوامی توقعات پر پورا اترنے، ترقیاتی منصوبوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے اور قبائلی علاقوں میں پائیدار امن و ترقی یقینی بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کریں گے۔
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور اہم فیصلے کیے گئے۔










